Daily Roshni News

ایم ڈی کیٹ اور نقل۔۔۔ تحریر۔۔۔حمیراعلیم

ایم ڈی کیٹ اور نقل

تحریر۔۔۔حمیراعلیم

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ ایم ڈی کیٹ اور نقل۔۔۔ تحریر۔۔۔حمیراعلیم )پاکستان کا نظام تعلیم دور حاضر کا دنیا کا سب سے پرانا اور فضول ترین نظام ہے۔یہ نظام افریقہ جیسے پسماندہ براعظم میں بھی استعمال نہیں کیا جا رہا۔جو اسباق میرے والد نے 50سال پہلے پرائمری کلاسز میں پڑھے تھے آج میرے بچے بھی وہی پڑھ رہے ہیں۔دنیا کمپیوٹر اور ڈائریکٹ میتھڈ سے علم دے رہی ہے جبکہ ہم آج بھی وہی گھسے پٹے گرائمر ٹیچنگ میتھڈ اور ٹرانسلیشن کے ذریعے پڑھا رہے ہیں۔ہمارے تمام مضامین بچوں کو عملی زندگی کے لیے تیار کرنے کی بجائے انہیں رٹو طوطے بنا رہے ہیں. یہی وجہ ہے کہ بجائے سمجھ کر پڑھنے اور علم حاصل کرنے کے طالبعلم نقل پر انحصار کرتے ہیں۔

   ایم ڈی کیٹ کے امتحان میں نقل کے لیے جدید گیجٹس استعمال کیے گئے لیکن طلباء، جن میں لڑکیاں بھی شامل تھیں،  یہ بھول گئے کہ نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔اس لیے نہ صرف پکڑے گئے بلکہ ریسٹیکیٹ بھی ہوئے۔اس سے پہلے کچھ طلباء بلو ٹوتھ کے ذریعے نقل کرتے پکڑے گئے تھے۔سندھ اور بلوچستان کے تعلیمی ادارے نقل کے لیےمشہور ہیں۔اب تو پنجاب میں بھی یہ کلچر خاصا مقبول ہو چکا ہے۔

    کے پی کا کوئی تجربہ نہیں اس لیے اس بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتی۔لیکن سندھ اور بلوچستان کے پیپرز خود چیک کر چکی ہوں اس لیے جانتی ہوں۔کیونکہ جب ہم انٹرمیڈیٹ اور گریجویشن لیول کے پیپرز چیک کرتے تھے تو ایسے لگتا تھاپورے سینٹر کو وائٹ بورڈ پر لکھ کر نقل کروائی گئی ہے اگر کسی نے field کے اسپیلنگ feild لکھے تھے تو پورے سینٹر کے پیپر میں یہی غلطی ہوتی تھی چنانچہ ہم پہلے دس پیپرز اچھی طرح چیک کر کے باقی میں غلطیاں ٹیلی کر کے سارے سینٹر کو نقل کی بناء پر فیل کر دیتے تھے۔پھر کوئٹہ میں اپنے بیٹے کو اسمارٹ اسکول میں داخل کروایا تو ان کی پرنسپل کے بارے میں معلوم ہوا ایم اے اسلامیات ہیں اور بی ایڈ کر رہی ہیں۔ایک دن پوچھا :”میڈم پیپر کیسے ہو رہے ہیں؟” تو منہ بنا کر بولیں:” کیا بتاوں ذرا نقل نہیں ہو رہی۔” اس پر بھی حیرت تو ہوئی لیکن جب ان کے اصل کارنامے معلوم ہوئے تو جو حال ہوا بیان سے باہر ہے۔

   میرا بیٹا اس وقت ون کلاس میں تھا جب اس نے بتایا کہ ٹیچر بورڈ پر پیپر سالو کر دیتی ہیں اور ہم کاپی کر لیتے ہیں۔اور جو بچے خود نہیں لکھ سکتے ان کا پیپر خود لکھ دیتی ہیں۔ میں نے سوچا بچہ ہے شاید درست بات نہ کر رہا ہو۔لیکن جب یہی بات ہشتم اور دہم کے بچوں سے معلوم ہوئی اور اپنے بیٹے کے پیپر چیک کرتے ہوئے اور ایف مختلف انداز میں لکھے دیکھے، کیونکہ میں نے اپنے بیٹے کو مختلف انداز میں سکھائے تھے اور ٹیچر کی رائٹنگ مختلف تھی، تو اندازہ ہوا کہ جو ٹیچرز خود نقل کلچر کی پیداوار ہوں وہ بچوں کو کیا سکھائیں گی۔ میں نے اپنے بیٹے کو فورا اس اسکول سے نکلوا لیا کیونکہ مجھے اسے تعلیم دلوانی ہے چور نہیں بنوانا۔

      جب تک ہم خود طالبعلم تھے پنجاب کے تعلیمی نظام کو بہترین سمجھتے تھے لیکن حال ہی میں جب ایک کزن سے بات ہوئی تو جانا کہ یہ ہماری غلط فہمی تھی۔انہوں نے چند ماہ قبل ایک پرائیویٹ ادارے کو بطور ٹیچر جوائن کیا تھا۔اکثر بتاتی تھیں کہ پورے خاندان کا مشورہ بزنس ہے والدین، بہن بھائی بھابیاں ایڈمن ہیں اور اسٹاف بھی میٹرک سے گریجویشن تک ہے ٹیچرز کو 8000 سے 10000 تنخواہ دی جاتی ہے۔ اور میٹرک کے بچوں کو بھی اپنا نام تک لکھنا نہیں آتا۔جب میں بچوں کو پڑھانے کی کوشش کرتی ہوں تو ایڈمن برا مناتے ہیں۔اور بچے پڑھتے ہی نہیں۔لیکن جب میٹرک کا رزلٹ آیا تو ان کی ساری کلاس 480 سے 400 تک نمبرز لے کر پاس ہو گئی۔یہ معجزہ کیسے ہوا آپ سمجھ تو گئے ہوں گے۔

    ایسے پاس ہونے والے بچے جب فیلڈ میں نکلتے ہیں تو جاب کے لیے رٹے مار کر ٹیسٹ تو شاید پاس کر ہی لیتے ہوں لیکن انٹرویو میں فیل ہو جاتے ہیں۔اور اگر سفارش کے ساتھ دونوں مراحل سے نکل ہی جائیں تو جاب کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔

    اس وقت دنیا کے بہترین تعلیمی نظام میں فن لینڈ اور جاپان شامل ہیں۔دونوں کے ہاں ابتدائی چند سالوں میں اخلاقیات اور روزمرہ کے کاموں کی تربیت پر زور دیا جاتا ہے۔انہیں اچھا انسان بنایا جاتا ہے پھر فارمل تعلیم دی جاتی ہے لیکن اس میں بھی لگے بندھے نصاب کی بجائے عملی طور پر سکھایا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان ممالک کے طلباء عملی زندگی میں ایکسل کرتے ہیں۔میرے خاندان کے بہت سے افراد مختلف ممالک میں مقیم ہیں۔ان کے بچوں کو بھی مختلف زبانوں،  تکنیکی مضامین اور روزمرہ کے کاموں کے شارٹ کورسز کروائےجاتے ہیں مختلف مہارتیں سکھائیں جاتی ہیں ۔خصوصا اسکول کے خاتمے پر اور کالج جانے پہلے ایسے کورسز ضرور کروائے جاتے ہیں۔جس سے ان کی گرومنگ ہوتی ہے وہ معاشرے کے مفید شہری بنتے ہیں ۔اس کے مقابلے میں ہم اپنے بچوں کو دیکھیں تو نصابی کتب کے علاوہ انہیں کوئی سوال دے دیا جائے تو ان کے لیے اسے حل کرنا عذاب بن جاتا ہے۔زندگی کے کسی کام کو کرنے کی صلاحیت تو دور ان میں اعتماد کی بھی کمی ہوتی ہے۔کالج لیول تک بچے اکیلے سفر بھی نہیں سکتے۔جب کہ جاپان میں 5 سالہ بچہ بھی اسکول جانے کے لیے خود پبلک ٹرانسپورٹ میں اکیلا آتا جاتا ہے۔خیر پاکستان میں ایسا دوسرے مسائل کی وجہ سے بھی ممکن نہیں کہ یہ ایک محفوظ ملک نہیں ہے۔

      ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے سینئر ٹیچرز ہائر کیے جائیں جو اپنے مضامین کے ماہر اور بہترین ٹیچرز رہے ہوں انہیں بیرون ملک سے کورسز کروائے جائیں  پھر نصابی کتب اور تعلیمی پالیسیز بنانے کا ٹاسک دیا جائے۔نہ کہ فارنر پی ایچ ڈی اسکالرز سے یہ کام لیا جائے۔ دوسرے ممالک کی طرح بچوں کی تربیت کے بعد ان کی تعلیم پر توجہ دی جائے تبھی بچوں اور ملک کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ورنہ موجودہ تعلیمی نظام صرف چور ڈاکو ہی پیدا کرے گا مفید شہری اور اچھے انسان نہیں۔

Loading