Daily Roshni News

دجال کون ہے ۔۔۔تحریر۔۔۔ڈاکٹر عبدلروف ۔۔۔ قسط نمبر 33

قسط نمبر 33

کالم : مسیح الدجال

تحریر: ڈاکٹر عبدالروف
تاریخ : 2 ستمبر 2022
حدیث کی روشنی میں 30 جھوٹے دجال

پچھلی قسط میں ہم برصغیر کے ایک بڑے تاریخی دجال کذاب بایزید روشن جالندھری کا کچھ تعارف کروا چکے ہیں۔ آج ہم اس کے بارے میں کچھ مزید حقائق بیان کریں گے ۔
ہم یہ بتا چکے ہیں کہ یہ بلند درجے کا عالم ، جدید اور عقلی علوم اور علم کلام کا ماہر تھا ۔ بار ہا اس سے علماء کی بحثیں ھوئیں لیکن کوئی اس کے دلائل اور منطق کا سامنا نہ کر سکتا تھا ۔ بالآخر سرحد کے ایک عالم دین آخوند درویزہ سے اس کا فیصلہ کن مناظرہ ہوا جس میں اسے سخت رسوائی ہوئی ۔ لیکن اس کے اکثر معتقدین نے اس کا ساتھ نہ چھوڑا ۔
اس عالم دین کے ساتھ بایزید کذاب کی جو بحث ہوئی۔ اس کا کچھ ذکر آپ کے سامنے رکھتے ہیں جس کا تفصیلی ذکر نثار احمد خان نے اپنی کتاب” 22جھوٹے دجال” میں کیا ۔

عالم : تمہیں کشف القلوب کا دعوی ہے ۔۔۔ بتاؤ اس وقت میرے دل میں کیا ہے؟
بایزید کذاب: (چالاکی سے) میں تو یقیناً کاشف القلوب اور لوگوں کے خیالات سے آگاہ ہوں لیکن چونکہ تمارے سینے میں تو دل ہی نہیں ہے اس لیے میں کیا بتا سکتا ہوں۔
عالم : اس کا فیصلہ بہت آسان ہے۔ یہ قوم کے لوگ سن رہے ہیں۔ تم مجھے قتل کر دو اگر میرے سینے سے دل برآمد ہو جائے تو پھر لوگ میرے قصاص میں تمہیں بھی قتل کر دیں گے۔
بایزید کذاب: یہ دل جس کو تم دل سمجھتے ہو یہ تو گائے ، بکری اور کتے تک میں موجود ہے۔ دل سے مراد گوشت کا ٹکڑا نہیں دل اور ہی چیز ہے ۔ رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قلب المومن اكبر من العرش ووسع من الكرسی” “مومن کا دل عرش سے زیادہ بڑا اور کرسی سے زیادہ وسیع ہے”
(بایزید نے یہ حدیث خود سے جھوٹی گھڑ لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منصوب کردی ۔ حالانکہ ایسی کوئی حدیث نہیں۔ اور اس کا یہ بیان بھی بالکل لغو ہے ۔ حالانکہ دل اسی گوشت کے لوتھڑے کو کہتے ہیں ۔
حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے اگر اس کی اصلاح ہو جائے تو سارے جسم کی اصلاح ہو جاتی ہے اور جب اس میں فساد رونما ہو تو سارا جسم فاسد ہو جاتا ہے “وھی القلب” اور وہ لوتھڑہ دل ہے۔
یہ بایزید کی مکاری اوملحدانہ عیاری تھی جس کا وار اس نے کیا )
عالم : اچھا تم دعوی کرتے ہو کہ تمہیں کشف قبور ہوتا ہے ہم تمارے ساتھ قبرستان چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کوئی مردہ تم سے ہم کلام ہوتا ہے یا نہیں؟؟ بولو منظور ہے۔؟؟
بایزید کذاب: مردہ مجھ سے یقیناً ہم کلام ہوگا مگر مشکل یہ ہے کہ تم کچھ نہیں سن سکو گے اگر تم مردے کی آواز سن سکتے تو میں تمہیں کافر کیوں کہتا۔؟ اس جواب پر لوگ کہنے لگے کہ ہم کس طرح یقین کریں کہ تم سچے ہو۔؟ بولا کہ تم میں سے بہتر اور فاضل شخص میرے پاس کچھ عرصہ رہے اور میرے طریقے کے مطابق عبادت و ریاضت بجالائے پھر اس سے تصدیق کر لینا۔
لیکن لوگ اس کے جھوٹ کو سمجھ گئے ۔ اور اس کی عیاری کام نہ آئی ۔
عجیب بات یہ کہ اس کے معتقدین اس کے بہت پکے اور اس پر جان نثار کرنے والے تھے ۔
اور اس کذاب نے ان کے لیے شریعت محمدی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے تمام احکام منسوخ کر کہ اپنی ایک جھوٹی شریعت بھی متعارف کروا دی تھی۔

کذاب بایزید روشن جالندھری کی جھوٹی شریعت
تقریبا سب جھوٹے مدعیان نبوت نے دعوی نبوت کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی خود ساختہ جھوٹی شریعتیں بنائیں ۔ یا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے احکامات میں ترمیم و تنسیخ کرنے کی ناپاک کوشش کی۔ اسی طرح بایزید کذاب نے بھی اپنی شریعت بنا رکھی تھی وہ جھوٹی احادیث گھڑتا ۔ اور عربی عبارتیں لکھ لکھ کر ان کو نبی علیہ الصلوة والسلام کی طرف منسوب کر دیتا تھا۔ مثلاً کہتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمايا ہے

الشریعیته کمثل اليل والطريقته كمثل النجوم والحقيقته كمثل القمر والمعرفته كمثل الشمس وليس فوق الشمس شیء

ترجمہ: شریعت رات کی طرح ہے اور طریقت ستاروں کی طرح۔ حقیقت چاند کی مانند ہے اور معرفت سورج کی طرح ہے اور سورج سے بڑھ کر کوئی شے نہیں۔
اس ملعون کی یہ بات بھی بالکل غلط ہے کہ شریعت رات کی طرح ہے۔ رات تاریکی ہے اور شریعت نور ہے ۔ اس کے ان بکواسات کا قائل سوائے ملحد اور زندیق کے کوئی اور نہیں ہو سکتا ۔ کہاں یہ خرافات اور کہاں ان کا احتساب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔

بایزید کا جھوٹا قرآن

ملعون بایزید کذاب نے ایک قرآن بھی متعارف کروا دیا تھا اس نے ایک کتاب بنام ” خیرالبيان” لکھی اور اس کے چار زبانوں عربی ، فارسی ، ہندی اور پشتو میں تراجم کیے اور اس کو کلام الہی کہہ کر لوگوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ میں نے اس میں وہی کچھ لکھا ہے جو الله تعالی نے مجھ پر وحی کیا ہے۔۔( نعوذ باللہ من ذالک )

بایزید کذاب کی نفسانی شریعت کے چند احکامات :
انسان نفس کی خواہشات میں آزمایا گیا ہے ۔ نفس کا پجاری دراصل جانور ہے چاہے اس کی شکل انسان سے ملتی ہو۔ نفس کا گھوڑا اگر بے لگام ہو جائے تو وہ انسان کو سیدھا جھنم کا ایندھن بنا کر چھوڑتا ھے ۔ جیسا کہ رسول الہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث مبارکہ میں اس طرف اشارہ ہے:
الا وان الجنته حفت بالمكاره وان النار حفت بالشهوات
ترجمہ : ”سن لو جنت نفس کے خلاف کام کرنے سے حاصل ہو گی اور دوزخ میں لوگ اپنے نفس کی شھوات کی پیروی کی وجہ سے جائیں گے”
چنانچہ جتنے شریعت مطہرہ کے احکام ہیں وہ سب نفس کے خلاف ہیں مثلاً روزه ، خیرات ، نماز ، وضو ، زکوة ، حج ، غسل جنابت وغیرہ اور یہ سب انسان کو جنت میں لے جانے والے اعمال ہیں۔
اس کے برعکس تمام جھوٹے مدعیان نبوت کی طرح اس بایزید کذاب نے بھی جو خود ساختہ شریعت بنائی وہ شہوت انگیز اور نفس امارہ کی خواہشوں کے عین مطابق تھی۔
اس کی جھوٹی شریعت کے چند چیدہ احکام یہ تھے۔
1. غسل جنابت کی ضرورت نہیں۔ صرف ہوا لگنے سے بدن خود بخود پاک ہو جاتا ہے۔ کیونکہ چاروں عناصر آگ ، ہوا ، پانی اور مٹی پاک کرنے والے ہیں۔
2. جو شخص مجھ پر ایمان نہ لائے وہ مسلمان نہیں۔ ایسے شخص کا ذبیحہ حرام ہے۔
3. قبلہ کی طرف رخ کرنا ضروری نہیں۔ جدھر چاہو منہ کر کے نماز پڑھ لو۔
4. مسلمانوں کی میراث ان کے وارثوں کی نہیں بلکہ میرے مریدوں کی ہے۔
5. جو لوگ مجھ پر ایمان لائے بس وہی زندہ ہیں باقی سب مسلمان درحقیقت مردہ ہیں اور مردوں کو میراث نہیں ملا کرتی۔
6. ایسے مردہ مسلمانوں کو قتل کر دینا واجب ہے۔
جاری ہے

Loading