Daily Roshni News

رب العالمیں ،دعا اور انسان۔۔۔تحریر۔۔۔محمد علی سید۔۔۔آخری قسط

رب العالمین دعا  اور انسان

دعا کی نظر نہ آنے والے ٹیکنالوجی

تحریر۔۔۔محمد علی سید

قسط نمبر (2)

ہالینڈ(ڈیلی روشنی انٹرنیشنل ۔۔۔رب العالمیں ،دعا اور انسان۔۔۔تحریر۔۔۔محمد علی سید۔۔۔قسط نمبر2)آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ ہمارا نظام شمسی جس کہکشاں سے وابستہ ہے اس کہکشاں میں کم از کم سو ننھے منے ستارے جن ارب ستارے موجود ہیں۔ یہ ۔ سے دو صدیاں پہلے تک صحرا نشیں اور سمندروں کا سفر کرنے والے راستوں کی تلاش میں مدد لیا کرتے تھے اور ان کی خلقت کا صرف یہی مقصد سمجھتے تھے ، ان ”نھے منے “ستاروں میں سے بیشتر اتنے بڑے ہیں کہ ہماری زمین جیسی کئی زمینیں اور ہمارے سورج ایسے کئی سورج صرف ایک ستارے میں گم ہو سکتے ہیں۔ اگر چہ یہ ستارے زمین سے ٹارچ کے ننھے سے بلب کی طرح نظر آتے ہیں لیکن حقیقتا یہ اتنے بڑے ہیں کہ ہمارا سورج ان کے سامنے بجھے ہوئے چراغ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔

ہماری کہکشاں جسے دودھیا کہکشاں milky) way کہا جاتا ہے ایک اوسط سائز کی کہکشاں ہے۔ ہم سے قریب ترین ایک کہکشاں اینڈرومیڈا (andro meda) کہلاتی ہے۔ اس کہکشاں میں دو سو ارب سے زیادہ ستارے موجود ہیں اور ہر ستارہ اپنی جگہ ایک سورج ہے۔ جس کا اپنا الگ نظام شمسی اور سیارے ہیں۔ اس طرح کی کم و بیش دس کھرب کہکشائیں کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں، جنہیں دیکھا جاچکا ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ کائنات میں ہیں ایک چاند سے دوسرے چاند کے درمیان چالیس موجود کہکشاؤں کی تعداد سو کھرب سے زیادہ ہے۔ جتنی دیر میں آپ اس کتاب کی چند سطریں پڑھیں گے اتنے عرصے میں ، یہ کہکشائیں ایک عربی محاورے کی زبان میں جہاں بہ کثرت کہنا مقصود تک ۔ دوسرے سے لاکھوں میل دور جا چکی ہوں گی۔ اس ہو وہاں اکثر چالیس، ستر ، بہتر وغیرہ کہا جاتا ہے۔ عرصے میں نہ جانے کتنے ستارے فنا ہو چکے ہوں گے اور نہ جانے کتنے نئے ستارے پیدا ہو چکے ہوں گے۔

 سب سے زیادہ سوال کرنے والے : بہت سے لوگ ان حقائق کو پڑھ کر مغرب کی سائنسی ترقی سے متاثر ہوتے ہیں اور بہت سے لوگ اللہ رب العالمین کی اس عظیم سلطنت کو دیکھ کر لرزہ براندام ہو جاتے ہیں کہ جس بادشاہ کا ملک اتنا بڑا ہے تو خود وہ بادشاہ کس قدر صاحب قوت و اختیار ہو گا۔ ایسے لوگ جب اللہ سے مانگنے کھڑے ہوتے ہیں تو مانگنے میں ہچکچاتے نہیں۔ سوال کرنے میں سستی وبے دلی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ سب کچھ اور جو کچھ مانگنا ہوتا ہے اسی سے مانگتے ہیں اور اپنے تمام معاملات و مسائل اسی کے حوالے کر کے بے فکر ہو جاتے ہیں۔ حضرت علی ابن ابی طالب کا ارشاد ہے: اللہ کو سب سے زیادہ جاننے والے اس سے سب سے زیادہ سوال کرنے والے ہیں۔“ بے شمار سورج ، بے شمار چاند : وسعت کا ئنات کے سلسلے میں حضرت امام باقر – (ولادت 57ھ ۔ شہادت 114ھ ) کا ارشاد ہے: تمہارے اس سورج کے آگے چالیس (یعنی تک بے شمار سورج اور ہیں اور ایک سورج سے دوسرے سورج کے درمیان چالیس (یعنی بے شمار) برس کی راہ ہے اور تمہارے اس چاند کے آگے چالیس چاند برس کی راہ کا فاصلہ ہے۔“ [ بصائر الدرجات ]

نوٹ: یہاں چالیس سے مراد 40 نہیں ہے۔ عربی محاورے کی زبان میں جہاں بہ کثرت کہنا مقصود ہو وہاں اکثر چالیس ستر بہتر و غیرہ کہا جا تا ہے۔

روشنی کی رفتار سے سفر :

یہ فاصلے ممکن ہے کئی دوستوں کو تصورتی معلوم ہوں تو جناب آج کے سائنسی حقائق یہ ہیں کہ سورج جو کچھ ہے وہ دریافت شدہ کائنات سے ہماری زمین سے چودہ کروڑ چھیانوے لاکھ کلو میٹر کے بالکل مختلف ہے۔ فاصلے پر ہے۔ اس کی روشنی تین لاکھ کلو میٹر (ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل ) فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر طے کرنے کے باوجود آٹھ منٹ میں سیکنڈ میں زمین تک پہنچتی ہے جب کہ خلاؤں میں سورج سے قریب ترین ستارے Proxima Centauri تک پہنچنے میں روشنی کو چار سال چار مہینے لگ جاتے ہیں۔ یہ ستارہ ہم سے 27 کھرب میل کے فاصلے پر ہے۔ اگر ہم خلاء میں 27 ہزار میل فی گھنٹا کی رفتار سے سفر کر سکیں تو ہمیں اس ستارے تک پہنچنے میں ایک لاکھ ستر ہزار سال گزر جائیں گے۔ سورج اور زمین کا درمیانی فاصلہ کائناتی فاصلوں کے سامنے کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا۔ آپ یہ پڑھ کر حیران ہوں گے کہ کائنات میں بکھری ہوئی کھربوں کہکشاؤں میں سے اگر ایک اوسط سائز کی کہکشاں کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جانے کے لیے روشنی کی رفتار یعنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کے حساب سے سفر کریں تب بھی دوسرے سرے تک پہنچنے کے لیے ہمیں ایک لاکھ سال کی مدت در کار ہو گی۔ آج کی جدید خلائی سائنس بھی کائنات کی وسعت کا اندازہ لگانے میں ناکام ہے کیوں کہ جدید تک صرف تین سو ملین نوری سال کے فاصلے تک دیکھ سکے ہیں۔ اس فاصلے کے اختتام پر انہیں روشنی او رتوانائی کے عظیم مراکز نظر آتے ہیں اور ان کی روشنیوں کے تجزیے سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ وہاں جو کچھ ہے وہ دریافت شدہ کائنات سے بالکل مختلف ہے۔

کائنات کے تناظر میں زمین : اب اگر ہم رب السموات والارض کی بنائی ہوئی کھربوں کہکشاؤں، اربوں ستاروں، سیاروں ، چاندوں، سورجوں، زمینوں اور ان سب کے درمیان لا محدود خلا اور ناقابل تصور مسافتوں کا تصور کر سکیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ اس عظیم کائنات کے مقابلے میں ہماری اس زمین کی حیثیت ایک خردبینی جرثومے ، ایک وائرس سے بھی کم تر ہے۔ یہ وائرس اگر لاکھوں کی تعداد میں یکجا ہوں تو سوئی کی نوک جتنی جگہ میں بہ آسانی سما سکتے ہیں۔

 زمین کیا ہے ؟

زمین ہماری کہکشاں کا ایک اہم حصہ ہے۔ سیٹلائٹس کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس کا کل رقبہ انیس کروڑ انہتر لاکھ اکیاون ہزار (یعنی 19,6951000) مربع میل ہے ۔ اس میں سے خشکی کا رقبہ پانچ کروڑ بہتر لاکھ انسٹھ ہزار (یعنی 5,72,56000 مربع میل ہے جبکہ تیرہ کروڑ چھیانوے لاکھ بانوے ہزار (13,96,92000) مربع میل پر سمندر پھیلا ہوا ہے۔

اس کا وزن ایک اندازے کے مطابق چھ بق چھ سو کھرب کھرب کلو گرام ہے۔ زمین اپنے مدار پر شئیس دور بینیں اور آلات بھی کائنات کی وسعتوں میں ابھی گھنٹے چھپن منٹ چار اعشاریہ نو سیکنڈ میں ایک گردش مکمل کر لیتی ہے۔ سورج کے گرد اس کی ایک گردش تین سو پینسٹھ دن چھ گھنٹے نو منٹ اعشاریہ چھپن سیکنڈز میں مکمل ہوتی ہے۔ زمین اپنے مدار پر آٹھ سو کلو میٹر پانچ سو میل فی گھنٹا کی رفتار سے گھوم رہی ہے جب کہ خلا میں سورج کے گرد یہ 80 ہزار کلو میٹر (پچاس ہزار میل فی گھنٹا کی رفتار سے گردش کر رہی ہے۔ اس کی عمر کا اندازہ ساڑھے چار ارب سال لگایا گیا ہے۔ زمین سے سورج کا فاصلہ نو کروڑ چودہ لاکھ میل یعنی چودہ کروڑ چھیانوے لاکھ کلو میٹر ہے۔ یہ فاصلہ کم زیادہ ہو تا رہتا ہے۔ لیکن عظیم ترین کائنات کے مقابلے میں زمین کا وجو د نہ ہونے کے برابر ہے۔

زمین پر ہم اور آپ : یہ تو ہماری زمین کی حیثیت ہوئی، اس معلوم شدہ کائنات کے تناظر میں۔ پھر اس وائرس سائز زمین پر ہم اور آپ جیسے انسان کیا حیثیت رکھتے ہیں، آپ اس کا خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ زیرو کے بعد پوائنٹ لگا کر دس لاکھ لکھ دیے جائیں (0.1000000) تو شاید مسئلہ حل ہو جائے۔ لیکن آپ غور فرمائیں کہ کائنات میں ہماری اس کم تر حیثیت کے باوجود اللہ رب العالمین نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا، ہمیں اپنی بہترین تخلیق قرار دیا۔ ہمیں ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی عطا کی (خواہ وہ دنیا میں گزرے یا جنت یا جہنم میں ) اور ہمیں زمین پر بھیجنے سے پہلے اس کرہ ارض کو اپنی نعمتوں اور ہماری ضروریات زندگی سے بھر دیا۔ اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی برسایا تو اس سے باغ آگائے اور کھیتی کا اناج اور لمبی لمبی کھجوریں جن کا بور باہم گتھا ہوا ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ بندوں کو روزی دینے کے لیے (پیدا کیا) اور (پانی ہی سے) ہم نے مردہ شہر (افتادہ زمین) کو زندہ کر دیا اور اسی طرح (قیامت میں مردوں کو ) نکلنا ہو گا۔ [ سوره ق: آیت 9 تا 11]

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ جون 2019

Loading