آبنائے ہرمز: دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )آبنائے ہرمز دنیا کی ایک انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے جو ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے۔ یہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ دنیا کے کئی بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کا تیل اسی راستے کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
ماہرین کے مطابق دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور بڑی مقدار میں مائع قدرتی گیس اسی آبنائے سے گزر کر مختلف ممالک تک پہنچتی ہے۔ سعودی عرب، عراق، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی ممالک اپنی زیادہ تر توانائی کی برآمدات اسی راستے سے کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز کو عالمی معیشت کی “شہ رگ” بھی کہا جاتا ہے۔
ان دنوں مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اس خطے کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ اگر اس کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے یا آبنائے ہرمز میں رکاوٹ برقرار رہتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اچانک مزید اضافہ، عالمی تجارت میں رکاوٹ اور توانائی کے بحران جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
اسی لیے عالمی طاقتیں اس سمندری راستے کو ہر صورت کھلا رکھنے کی کوشش کرتی ہیں، کیونکہ اس کا براہِ راست تعلق دنیا کی توانائی کی فراہمی اور عالمی معاشی استحکام سے ہے۔
مختصر یہ کہ آبنائے ہرمز صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور توانائی کی سپلائی کا ایک انتہائی حساس اور اہم مرکز ہے۔
#StraitOfHormuz
#MiddleEast
#GlobalEc
![]()

