Daily Roshni News

**آغازِ قصہ — لوطؑ اور ابراہیمؑ کا زمانہ**

**آغازِ قصہ — لوطؑ اور ابراہیمؑ کا زمانہ**

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )حضرت لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ قرآن مجید میں ان کا ذکر کئی مقامات پر آیا ہے۔ جب ابراہیمؑ کو اللہ نے نبوت عطا فرمائی تو لوطؑ ان پر ایمان لانے والے اولین افراد میں سے تھے۔

ابراہیمؑ کے ساتھ ہجرت کرتے ہوئے وہ کنعان کے علاقے میں پہنچے، اور پھر اللہ کے حکم سے ایک مخصوص قوم کی طرف بھیجے گئے — وہ قوم جس کا نام **قومِ سدوم و عمورہ (سدوم و غمورہ)** تھا۔

یہ قوم اپنی مادی خوشحالی، زرعی زمینوں اور تجارتی سرگرمیوں میں مشہور تھی۔ لیکن اخلاقی لحاظ سے وہ زمین پر بدترین لوگوں میں شمار ہونے لگی۔

انہوں نے فطرتِ انسانی کے بنیادی اصول کو بدل ڈالا۔

جس تعلق کو اللہ نے ایک مرد اور عورت کے درمیان محبت، نسل اور سکون کے لیے بنایا، انہوں نے اسے نفس اور لذت کا کھیل بنا دیا۔

قرآن کہتا ہے:

 “أَتَأْتُونَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَالَمِينَ، وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُم مِّنْ أَزْوَاجِكُم بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ عَادُونَ” > (الشعراء: 165–166)

ترجمہ:

کیا تم دنیا کے مردوں کے پاس جاتے ہو اور ان عورتوں کو چھوڑ دیتے ہو جنہیں تمہارے رب نے تمہارے لیے پیدا کیا؟ بلکہ تم حد سے گزر جانے والی قوم ہو۔

یہاں قرآن واضح کرتا ہے کہ ان کا گناہ صرف “جنسی بگاڑ” نہیں تھا، بلکہ **فطرتِ الٰہی کے قانون** کی کھلی بغاوت تھی۔

ان کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے “تخلیق” کے مقصد سے انکار کر دیا۔

اللہ نے جنس، محبت اور نسل کو “عبادت” کی شکل دی تھی، اور انہوں نے اسے “تفریح” بنا دیا۔

**حصہ دوم: دعوتِ لوطؑ — ایک اکیلا سچ بولنے والا**

حضرت لوطؑ نے اپنی قوم کو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی۔

انہوں نے کہا:

“کیا تم ایسے بےحیائی کے کام کرتے ہو جو تم سے پہلے کسی نے دنیا میں نہیں کیے؟” (الاعراف: 80)

لیکن قوم نے ان کی بات کا مذاق اڑایا۔

انہوں نے کہا:

“انہیں اپنی بستی سے نکال دو، یہ بڑے پاکیزہ بننے والے ہیں!” (النمل: 56)

یہ الفاظ آج بھی گونجتے ہیں — کیونکہ جب کوئی حق بولنے والا معاشرے میں “پاکیزگی” کی دعوت دیتا ہے، تو لوگ اسے “متعصب” یا “قدامت پسند” کہہ کر رد کر دیتے ہیں۔

اسی طرح قومِ لوط نے بھی اپنے نبی کو الگ کر دینا چاہا۔

لیکن اللہ کے قانون کے مطابق، جب **بغاوت حد سے بڑھ جاتی ہے**، تو **عدل الٰہی** نازل ہوتا ہے۔

**اللہ کا عذاب — زمین کا الٹ جانا**

قرآن کہتا ہے:

 “پھر ہم نے اس بستی کو الٹ دیا اور ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسائے جو ایک کے بعد ایک لگاتار گرتے چلے گئے۔” (ہود: 82–83)

یہ وہ لمحہ تھا جب آسمان زمین پر برس پڑا۔

فرشتے، جو ابراہیمؑ کے پاس پہلے آئے تھے، لوطؑ کے پاس خوبصورت جوانوں کی صورت میں پہنچے۔

جب قوم نے ان پر دست درازی کی ناپاک کوشش کی، تو لوطؑ نے چیخ کر کہا:

“یہ میری بیٹیاں ہیں، اگر تم کچھ کرنا ہی چاہتے ہو!” (ہود: 78)

یعنی “اپنی عورتوں سے نکاح کرو، یہ فطرت کا راستہ ہے۔”

مگر وہ اپنی ضد پر اڑے رہے۔

پھر اللہ کا حکم آیا —

“لوط! اپنی اہلِ ایمان جماعت کے ساتھ رات کے وقت نکل جاؤ، پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا۔”

اور صبح ہوتے ہی زمین پھٹ گئی، آگ اٹھی، اور بستی آسمان کی طرح الٹ دی گئی۔

**تورات اور انجیل میں ذکر**

تورات (سفرِ پیدائش، باب 19) میں بھی یہی قصہ تفصیل سے آیا ہے۔

لیکن وہاں ایک فرق یہ ملتا ہے کہ “ابراہیمؑ نے اللہ سے دعا کی کہ اگر اس بستی میں دس نیک لوگ بھی ہوں تو اسے ہلاک نہ کرنا” — جو **رحمتِ ابراہیمی** کی جھلک دکھاتا ہے۔

انجیل میں اس واقعہ کو “الٰہی انصاف” کی مثال کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

لیکن قرآن کا انداز مختلف ہے — یہاں “عبرت” اور “نفس کی اصلاح” پر زور ہے، نہ کہ صرف “سزا” پر۔

**حصہ سوم: زمانہِ حاضر میں قومِ لوط — جب تاریخ دوبارہ جاگ اٹھتی ہے**

جب ہم حضرت لوطؑ کی کہانی کو پڑھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ کوئی قدیم زمانے کا قصہ نہیں — بلکہ **یہ کہانی دوبارہ زندہ ہو چکی ہے۔**

دنیا بدل گئی، لباس بدل گیا، قانون بدل گئے، مگر انسان کی **نفس پرستی** وہی ہے۔

وہی پرانی بیماری — کہ “میں جو چاہوں، وہی حق ہے۔”

قومِ لوطؑ کا جرم صرف **جنسی بگاڑ** نہیں تھا، بلکہ وہ “الٰہی ڈھانچے” سے بغاوت تھی۔

اللہ نے انسان کو مرد اور عورت کی صورت میں پیدا کیا، ایک دوسرے کے سکون کے لیے، نسل کے تسلسل کے لیے۔

لیکن جب انسان نے اس تعلق سے “ذمہ داری” نکال دی، اور صرف “لذت” کو باقی رکھا، تب فطرت نے چیخ کر کہا: **یہ ظلم ہے!**

قرآن کا پیغام آج بھی وہی ہے —

“بل انتم قوم عادون” — *تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔*

یہ وہی جملہ ہے جو آج کے انسان پر صادق آتا ہے۔

فحاشی کو “آزادی”، بدکاری کو “حقوق”، اور بغاوت کو “ترقی” کہا جا رہا ہے۔

قومِ لوطؑ کی بربادی آج کی تہذیب کے ماتھے پر آئینے کی طرح لکھی جا چکی ہے،

بس فرق یہ ہے کہ اُس وقت **پتھر برس رہے تھے**، اور آج **سکرینوں سے زہر ٹپک رہا ہے۔**

**فحاشی کا فلسفہ — جب دل پر عقل کی حکمرانی ختم ہو جائے**

حضرت لوطؑ کی قوم کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ انہوں نے “شرم” کو بیماری بنا دیا۔

شرم، جو ایمان کا ایک حصہ ہے، جس کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا:

“الحیاء من الإيمان” — *حیا ایمان کا حصہ ہے۔*

لیکن جب حیا کو جرم سمجھا جائے، تو ایمان کے خیمے کی رسی ٹوٹ جاتی ہے۔

آج کی دنیا میں یہی ہو رہا ہے۔

لباس چھوٹ رہا ہے، نظریات بدل رہے ہیں، اور انسان “حیوانِ متکلم” بننے پر فخر کر رہا ہے۔

یہی وہ دور ہے جس کی پیشن گوئی نبی ﷺ نے فرمائی تھی:

“لوط کی قوم کے اعمال میری امت میں بھی ظاہر ہوں گے، اور لوگ ان پر فخر کریں گے۔”(مسند احمد)

یہ وہ دور ہے جس میں **شرم اور ضمیر** دونوں کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔

اب انسان کو اپنی خواہش کے سوا کسی خدا کی ضرورت نہیں رہی۔

**حصہ چہارم: حضرت لوطؑ کی تعلیمات — جدید دور میں نفاذ**

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کہ ہم لوطؑ کی تعلیمات کو آج کے زمانے میں کیسے نافذ کریں؟

کیا ہم لوگوں کو صرف “گناہ” سے ڈرا سکتے ہیں؟

یا ہمیں وہ “روحانی علاج” بتانا ہوگا جو لوطؑ نے اپنی قوم کو دیا تھا — یعنی **فطرت کی طرف واپسی۔**

**1. فطرت کی طرف رجوع**

اللہ نے انسان کے اندر دو آوازیں رکھی ہیں — *ضمیر* اور *نفس۔*

لوطؑ کی قوم نے ضمیر کو دفن کر دیا اور نفس کو خدا بنا لیا۔

آج بھی یہی جنگ جاری ہے۔

ہمیں دوبارہ **اندر کی آواز** سننا سیکھنا ہوگا۔

یہی پہلا قدم ہے — اپنے اندر کے لوطؑ کو جگانا۔

**2. خاندان کی بحالی**

حضرت لوطؑ کی قوم نے “خاندان” کے تصور کو تباہ کیا۔

آج مغرب میں وہی تباہی قانون کا حصہ بن چکی ہے۔

اولاد بغیر والدین کے، رشتے بغیر مقصد کے، محبت بغیر حدود کے۔

لیکن قرآن کہتا ہے:

 “وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً”  اللہ نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھی۔ (الروم: 21)

یعنی **نکاح** محض ایک معاہدہ نہیں، بلکہ *روحانی نظم* ہے۔

اسی نظام سے نسل، سکون اور محبت کی بنیاد قائم رہتی ہے۔

**3. تعلیم و تربیت کا احیاء**

لوطؑ کی قوم نے اپنی نسل کو برباد کیا۔

ہم بھی اپنی نئی نسل کو “ڈیجیٹل سدوم” میں دھکیل رہے ہیں —

جہاں سکرینیں تربیت دیتی ہیں، اور والدین خاموش تماشائی ہیں۔

حضرت لوطؑ کا پیغام یہ تھا کہ **بچوں کو حیا سکھاؤ، فطرت سکھاؤ، محبت کا تقدس سمجھاؤ۔**

ورنہ وہ تمہاری طرح اندھے بن جائیں گے۔

**4. قانونِ الٰہی کا احترام**

لوطؑ کی قوم نے کہا تھا:

“ہمیں وہ عذاب دکھاؤ جس کی تم بات کرتے ہو!”(العنکبوت: 29)

یہی جملہ آج کے انسان کا بھی ہے۔

جب سائنس، فلسفہ اور سیاست خدا کو چیلنج کرنے لگیں،

تو زمین پر “عدلِ الٰہی” کی تیاری شروع ہو جاتی ہے۔

عذاب اب پتھروں کی شکل میں نہیں،

بلکہ **معاشرتی بگاڑ، ذہنی انتشار اور روحانی بےچینی** کی صورت میں اتر رہا ہے۔

**روحانی پہلو — لوطؑ کے صبر کا راز**

حضرت لوطؑ کا دل ٹوٹ چکا تھا۔

جب انہوں نے اپنی قوم کی حالت دیکھی تو آسمان کی طرف فریاد کی:

“اے کاش میرے پاس تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی، یا کسی مضبوط سہارے کا سہارا ہوتا۔”(ہود: 80)

اللہ نے جواب میں فرشتے بھیجے —

یعنی پیغام دیا کہ “جب زمین والے چھوڑ دیں، تو آسمان والے آ جاتے ہیں۔”

یہ پیغام ہر مومن کے لیے ہے —

کہ **حق پر ڈٹے رہو، چاہے دنیا تمہیں تنہا چھوڑ دے۔**

آج کے دور میں، جب ایمان کمزور اور شر پھیل چکا ہے،

لوطؑ کا صبر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ **اکیلا حق بھی غالب ہوتا ہے۔**

**جدید دنیا میں لوطؑ کی تعلیمات کا عملی نفاذ**

  1. **میڈیا اور تہذیب کی اصلاح:**

   فحاشی کو “آرٹ” کے نام پر پھیلایا جا رہا ہے۔

   ہمیں ایسے مواد کی تخلیق کرنی ہوگی جو روحانی شعور بیدار کرے، نہ کہ نفس کو جگائے۔

  1. **قانونی شعور:**

   اسلامی معاشروں میں “نکاح” کو آسان اور “زنا” کو مشکل بنانا ہوگا۔

   آج الٹا نظام ہے —

   زنا سستا، نکاح مہنگا۔

   یہی تباہی کی جڑ ہے۔

  1. **روحانی بیداری:**

   لوطؑ کی قوم کی بربادی صرف جسمانی گناہ سے نہیں آئی، بلکہ **دل کے اندھے پن** سے آئی۔

   ہمیں روحانی آنکھیں کھولنی ہوں گی —

   تاکہ “حق” کو “خوبصورت” محسوس کیا جا سکے۔

  1. **فطری علم کی ترویج:**

   بچوں کو حیاتیات (Biology) کے نام پر “جنس” نہیں بلکہ “تخلیقِ الٰہی” سمجھانا ہوگا۔

   تاکہ وہ جانیں کہ جسم بھی عبادت ہے، اور تعلق بھی امانت۔

**اختتامیہ: لوطؑ کا پیغام — ایک صدا جو اب بھی گونج رہی ہے**

یہ کہانی ختم نہیں ہوئی، یہ اب بھی جاری ہے۔

قومِ لوطؑ کی طرح آج کی تہذیب بھی اپنے آخری امتحان میں داخل ہو چکی ہے۔

بس اب عذاب پتھروں سے نہیں آتا —

وہ ذہنوں، نظریوں، اور بےحسی کی صورت میں آتا ہے۔

حضرت لوطؑ کی تعلیم یہ ہے کہ:

“جب فطرت کے خلاف بغاوت عام ہو جائے،

تو ایمان والے چھپنے نہیں — جگمگانے لگیں۔”

یہی وقت ہے کہ ہم اپنے قلم، اپنی دعا، اور اپنی نیت سے

**حق کے چراغ** روشن کریں۔

کیونکہ جو لوگ اندھیروں میں سچ بولتے ہیں —

ان کے الفاظ زمین پر نہیں، آسمان پر لکھے جاتے ہیں۔ ✨

**حضرت لوط علیہ السلام – عذابِ قومِ سدوم کے تاریخی، سائنسی اور روحانی شواہد (حصہ ۵–۶)**

جب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ کسی قوم کے بارے میں نافذ ہوتا ہے تو زمین اور آسمان اس فیصلے کے گواہ بن جاتے ہیں۔ قومِ لوطؑ کے واقعے کو اگر صرف ایک مذہبی داستان سمجھا جائے تو ہم اس کے گہرے مفہوم سے محروم رہ جائیں گے۔ یہ واقعہ تاریخ، جغرافیہ، سائنس اور روحانیت — سب کی آنکھوں میں ایک ہی پیغام بن کر جھلکتا ہے: *جب فطرت کے قوانین کو توڑا جائے تو کائنات خود عدلِ الٰہی کا مظہر بن جاتی ہے۔*

**بحرِ مردار (Dead Sea) – زمین کا سب سے نچلا مقام**

قومِ لوطؑ کی بستیاں جس خطے میں آباد تھیں، آج وہ علاقہ **بحرِ مردار (Dead Sea)** کے نام سے معروف ہے۔ یہ سمندر دراصل *دنیا کا سب سے نچلا زمینی مقام* ہے — سطحِ سمندر سے تقریباً **1,400 فٹ نیچے۔**

یہ وہی علاقہ ہے جہاں قرآن کے مطابق اللہ نے لوطؑ کی قوم کی بستیوں کو الٹا کر رکھ دیا تھا۔

سائنسدانوں کے مطابق یہاں کا علاقہ ایک فعال **تصدعی خط (fault line)** پر واقع ہے، جو زمین کی پرتوں کے سرکنے سے بنا۔ یہ خط **”Great Rift Valley”** کہلاتا ہے، جو مشرقی افریقہ سے شروع ہو کر شام تک پھیلا ہوا ہے۔

قرآن کہتا ہے:

**”فَجَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا”**(پھر ہم نے اس کی اونچ نیچ کر دی) سورۃ ہود: 82

یہ الفاظ صرف علامتی نہیں — یہ دراصل ایک *جغرافیائی حقیقت* کو ظاہر کرتے ہیں۔ وہ بستیاں واقعی الٹ دی گئیں، اور آج بھی ان کا مقام زمین کی گہرائی میں دفن ہے۔

**پانی جو زندگی نہیں دیتا**

بحرِ مردار کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ یہ **مردہ سمندر** ہے۔ اس میں *کسی جاندار کا زندہ رہنا ممکن نہیں۔*

اس کا نمکین پن 34 فیصد ہے، جو دنیا کے عام سمندروں سے تقریباً 10 گنا زیادہ ہے۔

یہ پانی ظاہراً چمکتا ہے مگر حقیقت میں **زندگی کا دشمن** ہے۔ یہی وہ روحانی علامت ہے جسے قرآن نے “عذاب” کے طور پر بیان کیا — *ظاہر میں حسین، مگر باطن میں موت۔*

جدید سائنس کہتی ہے کہ یہاں کا پانی اتنا کثیف ہے کہ انسان اس میں ڈوب نہیں سکتا، مگر زندہ بھی نہیں رہ سکتا۔

یہ منظر گویا *اللہ کے قہر کا ایک منجمد لمحہ* ہے جو ہزاروں سال سے قائم ہے۔

**زمین کی گہرائیوں سے نکلنے والی گواہیاں**

1950 کی دہائی میں جب ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے Dead Sea کے جنوبی کنارے پر کھدائی کی، تو انہیں **جلے ہوئے پتھروں، گندھک کے تودوں، اور راکھ میں دبی ہوئی بستیوں** کے آثار ملے۔

یہ پتھر عام چٹانوں سے مختلف تھے — ان میں *سلفر (گندھک)* کی مقدار غیر معمولی طور پر زیادہ پائی گئی۔

قرآن کہتا ہے:

**”وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ مَّنضُودٍ”**

(اور ہم نے ان پر پکی مٹی کے پتھروں کی بارش کی) سورۃ ہود: 82

ان جلے ہوئے پتھروں کی ساخت بالکل ویسی ہے جیسی “volcanic sulfur stones” کی ہوتی ہے — ہلکے، مسام دار، اور جلنے کی بو کے ساتھ۔

ماہرین کے مطابق یہ علاقے میں ایک **volcanic eruption** یا زمینی دھماکے کی علامت ہیں، جو عین قرآن کے بیان سے مطابقت رکھتے ہیں۔

**آسمان اور زمین کی جوڑی – Cosmic Synchrony**

سائنسدانوں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ قومِ لوط کے خطے میں **tectonic activity** یعنی زمینی پلیٹوں کی حرکت انتہائی شدید رہی ہے۔

یہی حرکت زمین کو الٹنے، پھٹنے اور دھنسنے کا سبب بنتی ہے۔

اگر غور کیا جائے تو قرآن کے الفاظ “اونچ نیچ کر دینا” دراصل *seismic inversion* کی طرف اشارہ ہیں۔

یعنی وہ شہر جو زمین پر آباد تھے، اچانک نیچے دھنس گئے، اور اوپر سے پتھروں کی بارش نے باقیات کو ڈھانپ دیا۔

یہی منظر آج Dead Sea کے اطراف *dark limestone deposits*، *sulfur nodules*، اور *collapsed terrain* کی صورت میں نظر آتا ہے۔

**روحانی پہلو – جب زمین عکاس بن گئی**

قومِ لوطؑ کی بستیوں کے نیچے دبے ہوئے یہ آثار دراصل زمین کی *خاموش گواہی* ہیں۔

اللہ نے قرآن میں فرمایا:

 **”وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِمْ مُصْبِحِينَ وَبِاللَّيْلِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ”**

 (اور تم دن رات ان کے آثار پر سے گزرتے ہو، کیا تم عقل نہیں رکھتے؟)

 — سورۃ الصافات: 137–138

یعنی یہ آثار اُس وقت بھی موجود تھے جب مکہ کے لوگ شام کے سفر پر جاتے تھے۔ وہ ان وادیوں سے گزرتے مگر سوچتے نہیں تھے۔

یہی حال آج کے انسان کا ہے — وہ Dead Sea کی خوبصورتی دیکھ کر تصویریں تو لیتا ہے، مگر *اس کے پیچھے چھپی چیخ نہیں سنتا۔*

**جدید دور میں قومِ لوطؑ کی بازگشت**

آج کی دنیا میں “قومِ لوط” کا تصور دوبارہ زندہ ہو رہا ہے — مگر اس بار *گناہ کو فخر بنا کر۔*

جہاں قرآن نے کہا:

**”بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ”**

(بلکہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو) سورۃ الاعراف: 81

وہی الفاظ آج کے معاشروں پر بھی صادق آتے ہیں — جہاں جنس، اخلاق، خاندان، اور فطرت کو ایک “choice” بنا دیا گیا ہے۔

اقوامِ مغرب میں “LGBTQ+” تحریک کو انسانی آزادی کا عنوان دیا گیا ہے، مگر دراصل یہ *فطرت کے نظام سے انحراف* ہے۔

یہ وہی جرم ہے جو قومِ لوط نے کیا تھا، بس زبان اور لباس بدل گئے ہیں۔

**سائنس اور روحانیت کا سنگم**

دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید سائنس، چاہے وہ geology ہو یا archaeology، رفتہ رفتہ قرآن کی سچائیوں کی تصدیق کر رہی ہے۔

Dead Sea کا جغرافیہ، اس کی ساخت، اور آثار سب مل کر وہی منظر پیش کرتے ہیں جو قرآن نے 1400 سال پہلے بیان کیا۔

یہ اس بات کی علامت ہے کہ **وحی کی زبان، وقت کی حدود سے آزاد ہے۔**

جو بات نبی کہہ دیتے ہیں، وہ وقت گزرنے کے بعد *سائنس* کے ذریعے تصدیق پاتی ہے۔

**باطن کی تباہی – ظاہری زمین کا عکس**

قومِ لوطؑ کی تباہی صرف زمینی حادثہ نہیں تھی — یہ ایک *روحانی انفجار* تھا۔

جب دل کا توازن بگڑ جائے تو زمین کا توازن بھی بگڑ جاتا ہے۔

یہی قانون آج بھی کارفرما ہے۔

جب انسانی معاشرہ اپنی فطرت سے ہٹ کر *انسانیت کی نئی تعریفیں* تراشنے لگتا ہے تو زمین خود بغاوت کر دیتی ہے۔

اسی لیے قرآن کہتا ہے:

**”ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ”**

(خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہو گیا، اس لیے کہ لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے کمائی کی) سورۃ الروم: 41

**قومِ لوطؑ کا پیغام – آج کی تہذیب کے لیے آئینہ**

اگر آج انسان اپنے نفس کی غلامی میں فطرت کے اصولوں کو بدلنے لگے،

اگر وہ روح کے مقابلے میں جسم کو معبود بنا لے،

اگر وہ شرم کو بوجھ اور گناہ کو فخر سمجھے —

تو سمجھ لو کہ زمین پھر الٹنے والی ہے،

بس شکل بدل جائے گی —

عذاب پتھروں سے نہیں، بلکہ *خود انسان کے ہاتھوں سے* نازل ہو گا۔

آج کے عذابوں کی شکل ہے:

* ذہنی اضطراب

* خاندانی نظام کی تباہی

* روحانی خلا

* مصنوعی خوشیاں اور اندر کی ویرانی

یہ سب *عذابِ قومِ لوطؑ* ہی کی نئی صورتیں ہیں —

جہاں جسم آزاد ہوا، مگر روح قید ہو گئی۔

**اختتامی کلمات**

حضرت لوطؑ کی داستان ایک آئینہ ہے، جو ہر زمانے کے انسان کو دکھاتی ہے کہ *حق ہمیشہ اقلیت میں ہوتا ہے، مگر انجام ہمیشہ اسی کا ہوتا ہے۔*

زمین اب بھی گواہ ہے —

بحرِ مردار اب بھی خاموش کھڑا ہے —

اور قرآن اب بھی صدا دے رہا ہے:

**”فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِينَ”**

(دیکھو! مجرموں کا انجام کیسا ہوا) سورۃ النمل: 69

Loading