ابن عربی
ایک حیرت انگیز روحانی شخصیت
قسط نمبر3
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ ابن عربی ۔۔۔ ایک حیرت انگیز روحانی شخصیت) حاصل تھی۔ آپ کے پانچ شعری مجموعے “دیوان”بھی ہیں۔
مشہور عرب مورخ ابن ذہبی لکھتے ہیں کہ ابن عربی کی جسارت، قدرت اور ذہانت کا کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ جب حمد و شاہ میں مشغول ہوتے تو ایسا معلوم ہوتا جیسے ان کو اپنا بھی ہوش نہیں ہے۔ عشق انسی میں سرشار تھے۔ ان میں کئی اچھی صفات موجود تھیں۔ ان کی روحانی کیفیت کا کوئی ٹھکانا نہ تھا۔ فکر کی گہرائی کا انداز ولگا نا مشکل تھا۔
شیخ اکبر خوابوں کی حقیقت اور افادیت کے قائل تھے۔ ان کا قول ہے کہ اگر کوئی خواب میں بھی حاضر دماغ رہنا سیکھ لے تو اس میں بے پناہ قوت پیدا ہو جاتی ہے۔ خوابوں کے ضمن میں ان کے کئے واقعات ملتے ہیں۔ شیخ خود لکھتے ہیں:
ایک دفعہ میں سخت بیمار ہو گیا۔ زندگی کی امید نہ رہی۔ لوگ میری شدید بے ہوشی دیکھ کر گریہ و زاری کرنے لگے۔ انہیں محسوس ہوا کہ میں دار فانی سے رخصت ہو چکا ہوں۔ میں نے اسی حالت میں خواب دیکھا کہ کچھ وحشت ناک چہرے والے میرے قریب اگر مجھے اذیت دینا چاہ رہے ہیں۔ قریب ہی ایک حسین و جمیل، عطر بیز شخص مجھے ان کے مرنے سے بچارہا ہے۔ بالآخر اس کے آگے وحشت ناک چہرے والے ماند پڑ گئے اور مغلوب ہو گئے۔ ہوش میں آنے کے بعد میں نے دیکھا کہ والد گرامی سرہانے بیٹھے سو گوار آنکھوں اور اشک بار پلکوں کے ساتھ سورہ یسین کی تلاوت کر رہے ہیں۔ میں نے خواب میں جو کچھ دیکھا تھا، سب عرض کر دیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ میری صحت و عافیت والد کی دعاؤں اورسور پالیسین کی برکت کا نتیجہ ہے۔
ابن عربی کی زوجہ مریم بنت محمد بن عبدون اندلس کے ایک امیر کی بیٹی تھی۔ وہ ایک متقی خاتون تھی، انہوں نے روحانیت کے کئی مدارج بن عربی کی ہمراہی میں طے کئے۔ انہوں نے خواب میں ایک شخص کو دیکھا، جسے انہوں نے کبھی زندگی میں نہ دیکھا تھا۔ اس شخص نے پو چھا کہ کیا آپ الطریق (تصوف) پر چلنے کی خواہش مند ہیں۔ آپ نے کہا: میں ایسا کرنا چاہتی ہوں ، مگر نہیں جانتی کہ اسے کیسے اختیار کروں۔
اس شخص نے جواب دیا: پانچ باتوں سے: تو کل، یقین، صبر ، عزیمت اور صدق کے ساتھ۔ ابن عربی نے اپنی اہلیہ کے خواب کو سن کر تصدیق کی کہ یہی صوفیا کا راستہ ہے۔
ابن عربی 601ء میں مکہ سے روانہ ہو کر بغداد، موصل (عراق)، یروشلم اور دوسرے شہروں میں گئے۔ دمشق میں ان کی ملاقات سلطان صلاح الدین ایوبی کے بیٹے الملک الظاہر سے ہوئی ، اس نے آپ کی بہت قدر کی۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کے نواسے امیر حلب عبد العزیز کے یہاں بھی آپ کی بہت قدر و منزلت ہوئی۔
604ء میں آپ ایک مرتبہ مکہ گئے اور ایک سال تک وہاں پر قیام کیا ۔ اس کے بعد آپ ایشیاء کو چک چلے گئے ، جہاں سے 607ھ میں قونیہ پہنچے ۔ قونیہ اس وقت سلجوق سلطنت کی راجدھانی تھی اور ایک عظیم شہر تھا۔ یہاں پر سلطان کیکاؤس نے آپ کا پر تپاک استقبال کیا۔
قونیا میں آپ کی آمد مشرقی تصوف میں ایک انقلاب کا پیش خیمہ بنی۔ اس کا وسیلہ آپ کے شاگرد اور سوتیلے بیٹے صدرالدین قونوی بنے۔ صدر الدین قونوی، جو آگے چل کر تصوف کے بزرگوں میں شمار ہوئے، مولانا جلال الدین رومی کے قریبی دوستوں میں سے تھے۔ آپ نے ابن عربی کی کتاب فصوص الحکم پر شرح لکھی۔
صدر الدین کی ظاہری و باطنی تربیت این عربی نے کی۔ وہ کئی زبانوں کے ماہر اور تمام علوم میں ید طولی رکھتے تھے۔ ان کی علمی استعداد کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ جس زمانہ میں صدر الدین نے فتوحات مکیہ کا درس شروع کیا تو درس میں حاضر ہونے والے نوجوانوں میں حضرت مولانا جلال الدین رومی جیسا ہونہار طالب علم بھی موجود تھا۔ سلجوق سلطان علاء الدین کیقباد آپ کے مریدوں میں تھے اور بہت عزت کرتے تھے۔ 1210 کے بعد کا یہ وہ زمانہ ہے جس میں شیخ ابن عربی قونیہ اور ایشیاء کوچک میں تصوف کی فکر و فلسفہ کو عام کر رہے تھے ۔ اس دوران شیخ ابن عربی دمشق، حلب، موصل، بغداد، مکہ اور یروشلم مستقل جاتے رہتے۔
ابن عربی جس زمانے میں ایشیائے کو چک و قونیہ میں محو سفر تھے اسی زمانے میں اناطولیہ کی سرزمین پر قائی قبیلہ کا سردار ار طغرل بھی صلیبیوں اور منگولوں
سے لڑ رہا تھا۔
ابن عربی اور ار طغرل غازی کا زمانہ تقریباً ایک ہے۔ اسی بنیاد پر ممکن ہے کہ ابن عربی اور ار طغرل کی ملاقات رہی ہو۔
اس دوران آپ کے تعلقات صلاح الدین ایوبی کے بیٹے الملک الظاہر کے ساتھ ، جو حلب کا حاکم تھا، دوستانہ تھے۔ ایک واقعہ سے جس میں آپ اسے ایک شخص کی سزائے موت کو معاف کرنے کی سفارشکرتے ہیں، پتہ چلتا ہے کہ حلب کا حاکم ابن عربی کی کس قدر عزت کرتا تھا۔
620ھ میں آپ نے دمشق کو اپنا وطن بنایا۔ دمشق کے قاضی القضاة شمس الدین احمد بھی ابن عربی کی شخصیت است متاثر تھے۔ انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی ابن عربی سے کر دی تھی۔
قیام و مشق کے دوران ابن عربی درس و تدریش اور تصنیف میں مصروف رہتے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق وہ روزانہ ایک سو صفحات لکھتے تھے۔ ابن عربی کی تصنیف کردہ کئی کتابیں حوادث کی نذر ہو گئیں ۔ مندرجہ ذیل کتابیں کتب خانوں میں مل سکتی ہیں۔ فتوحات مکہ چار جلدیں، نصوص الحکم، شجرة الكون، مطالع انوار الهیه ، مشاہد واسرار ، حلیہ ابدال، افاد مطالعہ جعفر، تفسیر صغير، كتاب الاخلاق، محاضرة الابرار، الجلاه امر محکم، مواقع الجنوم، المعارف اليه عقده محضر، کتاب الازل، مراتب وجود، نقش القصوص، کتاب البود، تاج الرسائل، عنقا العقرب اور کئی ایک کتب وغیرہ۔ فتوحات مکیہ اور نصوص الحکم یہ دونوں کتابیں ہر دور میں اولیاء اللہ و صوفیائے کرام کے درس و تدریس میں رہی ہیں۔
حضرت محی الدین عربی غیر معمولی صلاحیتیں اور خوبیاں رکھتے تھے۔ وہ اپنے زمانے کے بہت بڑے عالم اور کیفیت ظاہری و باطنی کے حامل تھے۔ صحیح کے طرز تحریر سے واقف نہ ہونے کی وجہ سے بعض لوگوں میں بیت غلط فہمیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ بعض افراد این
عربی کے فلسفے یا حکمت کو افلاطون کا فلسفہ سمجھتے ہیں مگر انہیں نظر نہیں آتا کہ ابن عربی کی کتب آیات قرآن ، احادیث شریف اور مسلم صوفیاء جنید البغدادی، بایزید بسطامی، سہیل تشتری اور دیگر بزرگان اسلام کے حوالوں کے ساتھ لکھی گئی ہیں۔ ابن عربی کی کتابوں میں مغربی فلسفہ کا کہیں ذکر نہیں ہے۔
حضرت ابن عربی تاریخ اسلام میں ایک ایسے منفرد مصنف ہیں جن کی مخالفت اور موافقت میں بڑے بڑے لوگوں نے صدیوں سے حصہ لیا اور آج بھی ان کی تصنیفات معرض بحث ہیں۔ شیخ نے اپنی زندگی میں کبھی کسی کی مخالفت کی پرواہ نہ کی اور نہ ہی کسی سے مناظرہ کیا ہے بلکہ خاموشی اور متانت سے لوگوں کی باتوں کو سنا اور اپنا علمی کام جاری رکھا۔ شیخ اکبر کی وفات کے تقریباً نصف صدی بعد ان = کی تصانیف مشرقی ممالک میں عام ہونے لگیں۔ اس دور کے ایک بڑے عالم عبد الوہاب شعرانی نے ابن – عربی پر ابتدائی کام کر کے آنے والوں کے لئے راستہ ہموار کیا۔ مغربی ممالک میں ابن عربی کے کثیر الا بعاد افکار کا موازنہ کیا گیا۔
تیرہویں صدی عیسوی میں جرمنی میں ابن عربی پر سنجیدہ کام شروع ہو گیا تھا۔ مغرب کے دیگر علاقوں ایه علمی خزانہ بہت بعد میں نظر آنا شروع ہوا، البتہ گزشتہ پچاس ساٹھ برسوں میں مغرب کے دیدہ ور مستشرقین اور مشرقی علا و حکما ابن عربی کی طرف = زیادہ متوجہ ہوئے ۔ مغربی مفکرین نے انسان اور کائنات کے باہمی ربط مابعد الطبیعیاتی اور النسیاتی مسائل کی تعبیر و توضیح، فلکیات ، فطری سائنس کے –
کئی نظریات ابن عربی کے فلسفے سے اخذ کیے۔ ابن عربی کے مطابق کائنات خدا کی صفات کا مظہر ہے۔
ابن عربی کا نظریہ علم مروجہ فلسفیانہ روایات سے الگ خواص کا حامل ہے۔
آپ نے علم کی اخلاقی و عملی جہات پر زور دیا۔ ابن عربی کے لیے علم لا محدود وسعت کا مالک ہے۔ آپ کے خیال میں کوئی انسان علم کی آخری منزل تک نہیں پہنچ سکتا اور بہتری کی گنجائش ہمیشہ باقی رہتی ہے ابن عربی کا قول ہے کہ انسان علم کا حصول بنیادی طور پر دو طریقوں سے کرتا ہے۔ ایک اپنے وجدان سے اور دوسرا حواس خمسہ یا غور و فکر ہے۔
ابن عربی اسلامی فکر کا عظیم سرمایہ ہیں۔ ان کی علمی وراثت کی حفاظت اور تصنیفی قدر وقیمت کا تعین کرنے کے لیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
دمشق میں ہی ابن عربی نے 22 ربیع الثانی 638 ھ مطابق 1240ء کو وفات پائی۔ آپ کا مقبرہ و مشق، ملک شام کے شمال میں جبل قاسیون کے پہلو محلہ صالحیہ میں ہے۔ اس جگہ کو اب محلہ ابن عربی بھی کہا جاتا ہے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اکتوبر 2025
![]()

