Daily Roshni News

*استنبول، ترکیے میں نئے قونصل جنرل خواجہ خرم نعیم صاحب کے ساتھ خصوصی نشست*

*استنبول، ترکیے میں نئے قونصل جنرل خواجہ خرم نعیم صاحب کے ساتھ خصوصی نشست*

استنبول، ترکیے(ڈیلی  روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔نمائندہ خصوصی۔۔۔ سید رضوان حیدر بخاری )ہم آج موجود ہیں. استنبول میں پاکستانی قونصل خانے میں اور ہمارے ساتھ اس وقت پاکستان کے نئے تشریف لائے ہوئے قونصل جنرل خواجہ خرم نعیم صاحب موجود ہیں. سر ہم آپکا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ نے ہمیں انٹرویو کیلئے خصوصی وقت دیا۔

 سب سے پہلے آپ سے روایتی سوال کہ اپنا تعارف ہمیں کروائیے تاکہ کمیونٹی آپ کے بارے جان سکے.

 *قونصل جنرل:*

شکریہ بخاری صاحب کہ آپ نے اس انٹرویو کے ذریعے مجھے اپنی کمیونٹی سے مخاطب ہونے کا موقع فراہم کیا۔

خواجہ خرم نعیم میرا نام ہے پاکستان کسٹم سروس سے میرا تعلق ہے. میری وہاں پر آخری اسائنمنٹ ڈیوٹی، چیف کلکٹر، کسٹمز، کے پی اور جی بی تھی۔ ٹریڈ کے ساتھ میرا تعلق ہے اور ہمارا جو یہ قونصل جنرل ہے، یہ بھی دراصل ٹریڈ کا ہی دفتر ہے اور باقی کمیونٹی کے معاملات بھی ہیں. اس سے پہلے میں نے جرمنی میں بھی پاکستان کے کمرشل کونسلر کے طور پرفرائض انجام دئیے ہیں. یہاں ترکیے میں کمیونٹی کے اس وقت دو گروپ ہیں. ایک تو وہ جو طلباء ہیں ہمارے. دوسرا وہ جو غیر قانونی طور پر ہمارے لوگ آئے ہوئے ہیں.

ہماری اسٹیبلشمنٹ کمیونٹی جو بزنس میں ہیں یا اچھی نوکریوں پر ہیں یہاں پر وہ بہت تھوڑے ہیں۔ لیکن جو بھی اور جتنی بھی ہماری کمیونٹی یہاں پر مقیم ہے ان کے لیے ہمارے قونصل خانے کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں.

 *نامہ نگار، سوال:*

بہت شکریہ سر. آپ کے تعارف کے لیے اب باقاعدہ سوالوں کی طرف آتے ہیں، اور سب سے پہلے میں اپنی کمیونٹی کے لیے یہ پوچھنا چاہوں گا کہ آپ ہمیں بتائیے کہ ہمارا قونصل خانہ کمیونٹی کیلئے کیا کیا خدمات انجام دے رہا ہے۔۔۔

 *قونصل جنرل:*

میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ قونصل خانہ دیار غیر میں آپ کا پاکستان میں سے باہر پاکستان ہے، ہم یہاں اپنی کمیونٹی کو وہ تمام تمام سروسز مہیا کر رہے ہیں جو کسی بھی قونصل خانہ میں دی جاتی ہیں، جیسا کہ دستاویزات کی تصدیق، پاکستانی ویزا کا اجراء غیر ملکیوں کیلئے یا ایسے پاکستانی جو اپنی پاکستان کی قومیت چھوڑ کے لوکل نیشنل ہو چکے ہیں، ان کو بھی۔ اس کے علاوہ پاسپورٹس کے حوالے سے بھی خدمات دی جاتی ہیں، گو کہ پاسپورٹ پاکستان سے بن کے ڈائریکٹ آتا ہے، لیکن ان کی ساری پروسیسنگ یہاں پر ہی ہوتی ہے اور اس کے علاوہ اگر خدانخواستہ کوئی وفات پا جاتا ہے پاکستانی تو اس کی میت کو پاکستان بھیجنے کے سبھی معاملات بھی قونصل خانہ دیکھتا ہے، اگر کوئی پاکستانی ہسپتال میں داخل ہے اور اسکو مدد درکار ہے تو اس میں بھی ہم معاونت فراہم کرتے ہیں اگر ضرورت ہو تو۔۔ اسکے علاوہ بھی بے شمار سروسز ہیں جو قونصل خانہ اپنے شہریوں کو مہیا کر رہا ہے۔۔

 *نامہ نگار سوال:*

میرا اگلا سوال ہے دوہری شہریت کے حوالے سے،  جیسا کہ ترکیے حکومت کے ساتھ ہمارا کوئی معاہدہ نہیں ہے دوہری شہریت کے حوالے سے، تو وہ لوگ جنہوں نے ترکش شہریت حاصل کی ہے انہیں خاصی مشکلات کا سامنا رہتا ہے، تو معاملے پر قونصل خانہ کی طرف سے یا حکومت پاکستان کی طرف سے کوئی اقدامات کئیے جا رہے ہیں یا کوئی امید کی جا سکتی ہے؟

 *قونصل جنرل:*

دوہری شہریت کے حوالے سے دونوں طرف سرکاری سطح پر بات ہو رہی ہے. کافی دفعہ بات ہوئی ہے لیکن اس میں کوئی اتنی پیش رفت نہیں ہوئی ہے، اور مستقبل قریب میں اس کا امکان بھی کم ہی ہے۔۔ ویسے میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ جب آپ نے اپنی منشا اور مرضی سے ایک نیا ملک اختیار کر لیا ہے اور اسکی شہریت حاصل کی ہے تو پھر آپ کو اس کے ساتھ مکمل وفادار ہونا چاہیے اور اس ملک سے محبت پوری ہونی چاہیئے(مسکراتے ہوئے )

 *نامہ نگار، سوال:*

اگلا سوال میرا ہے کہ ترکیے جانا جاتا تھا، پاکستان میں صرف ان لوگوں کے لیے جو ڈنکی کے لیے استعمال کرتے تھے. ترکیے کو، تو کیا اس تاثر کو ختم کرنے کے لیے قونسل خانے کی طرف سے کوئی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟

 *قونصل جنرل:*

دیکھیں اس معاملے میں قونصل خانے کا کردار تو اس وقت آتا ہے جب ایک آدمی ترکیے پہنچ جاتا ہے. اقدامات جو ہیں وہ پیچھے سے شروع ہوتے ہیں. جیسے ایف آئی اے کی طرف سے سختی اور دستاویزات کی مؤثر چیکنگ، ڈنکی میں معاونت کرنے والے یا دوسرے الفاظ میں انسانی سمگلرز کے خلاف کارروائی اور پھر ڈنکی کے حوالے سے ایران نے بھی خاصی سختی کی ہوئی ہے. اور الحمدللہ بھی مجھے جو فیڈبیک ملا ہے. پاکستانی جو کبھی نمبر ون تھے، ڈنکی میں اب ان کا نمبر پانچویں پر جا چکا ہے اور دوسرے ممالک کے لوگ اب ڈنکی لگانے میں پاکستانیوں سے زیادہ ہیں، اس کا مطلب ہے کہ اس حوالے سے بہتری ہوئی ہے، جہاں ترکیے کے حراستی مراکز میں ہمارے چار، پانچ سو لوگ ہوا کرتے تھے پہلے اب یہ تعداد صرف ستر، اسی پر آ گئی ہے، قونصل خانہ اس میں یہ کر رہا ہے کہ جس جس سے بھی ہم ملتے ہیں ان لوگوں کو اس بات کی ترغیب دیتے ہیں کہ وہ پاکستان واپس جائیں، ہم آپ کے تمام کاغذات تیار کر کے دیتے ہیں، اور اسی طرح ہم نے کافی لوگوں کو واپس بھیجا بھی ہے.

 *نامہ نگار،  سوال:*

میرا اگلا سوال دراصل ترکیے میں رہنے والے پاکستانیوں کے دلوں کی ترجمانی ہے، اور وہ یہ کہ کیا ہمیں یہاں پاکستانی آم بآسانی دستیاب ہو سکتے ہیں؟ کیونکہ کہ آم اور پاکستانیوں کا ایک جذباتی تعلق ہے۔۔ (مسکراہٹ کے ساتھ ) ۔۔

 *قونصل جنرل:*

جی بالکل ابھی آپکے آنے سے آدھا گھنٹہ پہلے میٹنگ ہو رہی تھی ترکش سائیڈ کے ساتھ اور آم ہی اس کا موضوع تھا۔۔ اصل میں ترکیے کی جو ریکوائرمنٹس/شرائط ہیں اس حوالے سے وہ بہت سخت ہیں. ہم بات چیت کر رہے ہیں کہ یہ اپنی شرائط کو بالخصوص آموں کے حوالے سے کچھ کم کریں، اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پھر انشاءاللہ آپ کو آم مل جایا کرے گا.

 *نامہ نگار:*

جی بالکل اس کیلئے تو ہم آپ سے خصوصی درخواست کریں گے.

 *قونصل جنرل:*

جی جی بالکل بات چیت چل رہی ہے اور اس سیزن میں نہیں تو اگلے سیزن میں آم ضرور دستیاب ہوں گے انشاءاللہ۔۔ بلکہ ہمارے بہت سے ترکش دوست جنہوں نے پاکستانی آم کھایا ہے وہ بھی ہمارا آم مانگتے ہیں۔۔۔

 *نامہ نگار،  سوال:*

سر اب میرا سوال ہے کہ حالیہ جنگ کے حوالے سے پاکستان،  ترکیے اور سعودی عرب کے مشترکہ کردار کے حوالے سے جو بات ہو رہی ہے،  اس پر آپ کیا کہیں گے؟

 *قونصل جنرل:*

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ترکیے، پاکستان، سعودیہ، ایران. یہ وہ چار مسلمان ملک ہیں جن کے پاس ایک پوٹینشل ہے. جن کے پاس اکنامک اور ملٹری طاقت بھی ہے اور عالم اسلام ان چاروں ملکوں کی طرف دیکھتی ہے. ان میں سے ایک ملک ہمارا ہمسایہ ہے جو مشکل میں ہے تو ہم سب اس پر پریشان ہیں. ترکیے ہو، سعودیہ ہو یا پاکستان ہو ہم سب چاہتے ہیں کہ اس کا ایک پر امن حل نکلے. اور کوششیں جاری ہیں اور انشاءاللہ امید ہے کہ اس میں یہ تینوں ملک مل کر اپنا اہم اور مثبت کردار  ادا کریں گے.

 *نامہ نگار:*

بہت شکریہ سر آپ کے قیمتی وقت کا. اور آخر پر میں چاہوں گا کہ استنبول میں جو پاکستانی کمیونٹی ہے آپ ان کے لیے کوئی پیغام دیں۔۔

 *قونصل جنرل:*

میں ایک بات بار بار کہتا ہوں، جب بھی ملاقات ہوتی ہے کمیونٹی سے کہ قونصل خانہ آپ کا پہلا کنٹیکٹ پوائنٹ ہے، پاکستانی قونصل خانہ ہمیشہ آپکے ساتھ ہے اور آپ کی خوشی، آپ کے غم، ہم ہر ایک چیز میں شریک ہیں. اللہ نہ کرے کہ آپ کو کبھی کوئی بھی تکلیف آئے، لیکن اگر ایسا ہو تو آپ سب سے پہلے قونصل خانے میں آئیے ۔۔ میری یہ کوشش ہے کہ ہم ایک کوئی ایسا سسٹم بنائیں کہ یہاں ہمارے جتنے بھی طلباء ہیں اور قانونی کمیونٹی ہے وہ ہمارے پاس ڈیٹا بیس میں ہوں اور ان کے ساتھ ہمارا رابطہ رہے. ایپلی کیشنز  کے ذریعے وہ اپنے دل کی بات ہمارے تک پہنچا سکیں. کسی کے پاس آنا نہ پڑے تو اس پر بھی میں کام کر رہاہوں. انشاءاللہ ہم کوشش کریں گے کہ کوئی ایسا ڈیجیٹل پلیٹ فارم بنا دیں جس کے ساتھ ہم سٹوڈنٹس اور کمیونٹی کے ساتھ رابطے میں رہیں، اور ہمیں پتہ ہو کہ ہمارے کتنے لوگ کہاں پر ہیں اور کس حال میں ہیں۔۔۔

 *نامہ نگار، اختتامی کلمات:*

بہت شکریہ سر آپ کے وقت کا. اور ہم امید کرتے ہیں کہ قونصل خانہ یونہی کمیونٹی کی جو کہ بہت بڑی نہیں. کیلئے کام کرتا رہے گا، اور کمیونٹی قونصل خانے کو اپنا گھر ہی سمجھے گی۔۔۔

Loading