Daily Roshni News

اسرائیل کا زیادہ سے زیادہ فلسطینیوں کو غزہ سے باہر جانے کی اجازت کا منصوبہ

اسرائیل کا زیادہ سے زیادہ فلسطینیوں کو غزہ سے باہر جانے کی اجازت کا منصوبہ

انٹرنیشنل (ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اسرائیل، غزہ اور مصر کے درمیان واقع رفح سرحدی گزرگاہ سے غزہ میں داخل ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد محدود کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیل کا منصوبہ ہے کہ سرحد کھلنے کے بعد غزہ میں آنے والوں کی تعداد محدود کی جائے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو باہر جانے کی اجازت دی جائے۔

خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے اس معاملے سے واقف تین ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ رفح سرحد کو متوقع طور پر آئندہ ہفتے دوبارہ کھولے جانے سے قبل یہ تجویز زیر غور ہے۔

غزہ کے عبوری انتظام کے لیے امریکا کی حمایت یافتہ فلسطینی کمیٹی کے سربراہ علی شعث نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ رفح بارڈر کراسنگ آئندہ ہفتے کھولی جائے گی۔

یہ سرحد غزہ کے بیس لاکھ سے زائد مکینوں کے لیے عملاً واحد راستہ ہے جس کے ذریعے وہ غزہ کی پٹی میں داخل ہوسکتے ہیں یا باہر جا سکتے ہیں۔

غزہ کی جانب واقع رفح کراسنگ 2024 سے اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے۔

یہ سرحد دراصل اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ کے خاتمے کے منصوبے کے پہلے مرحلے میں کھلنا تھی۔

تاہم اس ماہ کے آغاز میں واشنگٹن نے اعلان کیا کہ منصوبہ دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس کے تحت اسرائیل کو غزہ سے مزید فوجی انخلا کرنا ہے جبکہ حماس کو علاقے کے انتظامی کنٹرول سے دستبردار ہونا ہے۔

ذرائع کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں کہ اسرائیل غزہ میں داخل ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد پر عملی طور پر کیسے پابندی لگائے گا یا باہر جانے اور اندر آنے والوں کا کیا تناسب رکھا جائے گا۔

اسرائیلی حکام ماضی میں غزہ سے فلسطینیوں کی ہجرت کی بات کر چکے ہیں، تاہم وہ زبردستی آبادی کی منتقلی کے ارادے کی تردید کرتے آئے ہیں۔

اس کے باوجود فلسطینی اس معاملے پر انتہائی حساس ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ عارضی طور پر غزہ چھوڑنے والوں کو واپسی سے روکا جا سکتا ہے۔

توقع ہے کہ رفح کراسنگ پر فلسطینی اتھارٹی سے وابستہ عملہ تعینات ہوگا جبکہ یورپی یونین کے اہلکار نگرانی کریں گے، جیسا کہ گزشتہ سال کے اوائل میں اسرائیل اور حماس کے درمیان عارضی جنگ بندی کے دوران ہوا تھا۔

ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ سرحد کھولنے کا حتمی فیصلہ حکومت کرے گی اور اسرائیلی منظوری کے بغیر فلسطینیوں کو نہ غزہ میں داخل ہونے اور نہ ہی وہاں سے نکلنے کی اجازت دی جائے گی۔

ذرائع نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل غزہ کے اندر سرحد کے قریب ایک فوجی چیک پوسٹ قائم کرنا چاہتا ہے جہاں سے گزرنے والے تمام فلسطینیوں کی اسرائیلی سکیورٹی جانچ پڑتال کی جائے گی۔

امریکی سفارت خانے نے فوری طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ آیا واشنگٹن غزہ میں داخل ہونے والوں کی تعداد محدود کرنے یا چیک پوسٹ قائم کرنے کی اسرائیلی تجویز کی حمایت کرتا ہے یا نہیں۔

ابتدائی مرحلے میں اسرائیلی فوج نے غزہ سے جزوی انخلا کیا تھا، تاہم اس نے اب بھی علاقے کے 53 فیصد حصے بشمول مصر کے ساتھ پوری زمینی سرحد کا کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے۔

غزہ کی اکثریتی آبادی باقی حصے میں رہائش پذیر ہے جو حماس کے زیر انتظام ہے اور جہاں بیشتر لوگ عارضی خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ بھی واضح نہیں کہ اگر اسرائیلی فوج کسی شخص کو اپنی مجوزہ چیک پوسٹ سے گزرنے سے روک دے تو اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا، خاص طور پر وہ افراد جو مصر کی جانب سے غزہ میں داخل ہونا چاہیں گے۔

اسرائیلی حکومت ماضی میں کئی بار سرحد کھولنے پر اعتراض کر چکی ہے اور بعض حکام کا کہنا ہے کہ حماس کو پہلے ایک اسرائیلی پولیس اہلکار کی لاش واپس کرنا ہوگی جو جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں حوالے کی جانی تھی۔

امریکی حکام نجی طور پر یہ کہتے ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے منصوبے پر عملدرآمد کی قیادت اسرائیل کے بجائے واشنگٹن کر رہا ہے، تاہم رفح سرحد کے حوالے سے عملی فیصلے اب بھی غیر واضح صورتحال کا شکار ہیں۔

Loading