امام ابنِ حجر عسقلانیؒ — علمِ حدیث، دیانت اور وقار کا روشن مینار
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )امام ابنِ حجر عسقلانی اسلامی تاریخ کے اُن عظیم محدثین میں سے ہیں جنہوں نے حدیثِ رسول ﷺ، فقہ، تاریخ اور اسماء الرجال کے علوم کو ایسی بلندی عطا کی کہ صدیوں بعد بھی اہلِ علم ان کے دسترخوانِ علم سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔ آپؒ کو بجا طور پر امیرالمؤمنین فی الحدیث کہا جاتا ہے۔
ولادت اور وصال
ولادت: 22 شعبان 773 ہجری (1372ء)
مقامِ ولادت: قاہرہ، مصر
وصال: 28 ذی الحجہ 852 ہجری (1449ء)
مقامِ وصال: قاہرہ، مصر
آپؒ کی پوری زندگی علم، تحقیق، تدریس اور سنتِ نبوی ﷺ کی خدمت میں گزری۔
ابتدائی زندگی — یتیمی سے امامت تک
امام ابنِ حجرؒ نے کم عمری میں ہی والدین کا سایہ کھو دیا، مگر اللہ نے آپؒ کو علم کا سہارا عطا فرمایا۔ بچپن ہی میں قرآن حفظ کیا اور پھر حدیث، فقہ، عربی ادب اور تاریخ میں غیر معمولی محنت کی۔
آپؒ کی زندگی اس بات کی روشن دلیل ہے کہ:
یتیمی محرومی نہیں، اگر اللہ علم عطا کر دے۔
علمِ حدیث میں عظمت
امام ابنِ حجرؒ کا اصل میدان حدیثِ نبوی ﷺ تھا۔
آپؒ نے:
اسناد کی باریک جانچ
رواۃ کے حالات کی تحقیق
متنِ حدیث کی گہری تشریح
میں ایسی مہارت حاصل کی جو بہت کم علما کو نصیب ہوئی۔
فتح الباری — شرحِ بخاری کا تاج
آپؒ کی شہرۂ آفاق تصنیف “فتح الباری شرح صحیح البخاری” کو حدیث کی دنیا میں شرحِ بخاری کا تاج کہا جاتا ہے۔
علما فرماتے ہیں:
“اگر فتح الباری نہ ہوتی تو صحیح بخاری کو پوری طرح سمجھنا ممکن نہ تھا۔”
یہ کتاب:
علم کی گہرائی
حکمت کی روشنی
اور سنت کی عظمت
کا حسین امتزاج ہے۔
قضا، وقار اور دیانت
امام ابنِ حجرؒ کو مصر میں قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) مقرر کیا گیا، مگر:
عدل میں نرمی
فیصلوں میں خوفِ خدا
اور منصب میں عاجزی
ہمیشہ غالب رہی۔
آپؒ اقتدار کے قریب رہ کر بھی دل سے دنیا سے بے نیاز رہے—یہی اصل تصوف ہے۔
روحانیت اور تصوف — خاموش نور
اگرچہ امام ابنِ حجرؒ زیادہ تر علمی میدان میں جانے جاتے ہیں، مگر آپؒ کی زندگی میں:
اخلاص
تقویٰ
تہجد
خاموش عبادت
واضح نظر آتی ہے۔
آپؒ کا تصوف شریعت کے دائرے میں رہ کر تھا—نہ افراط، نہ تفریط۔
یہی وجہ ہے کہ آپؒ کا علم دلوں کو نرم کرتا ہے۔
اخلاق اور تواضع
اتنے بڑے عالم ہونے کے باوجود:
شاگردوں سے شفقت
اختلاف میں ادب
اور اپنی تعریف سے گریز
آپؒ کا نمایاں وصف تھا۔
آپؒ فرمایا کرتے تھے:
“علم وہ ہے جو انسان کو عاجز بنا دے، نہ کہ مغرور۔”
پیغامِ امام ابنِ حجرؒ — آج کے دور کے لیے
تحقیق کے بغیر بات نہ کرو
دین میں جذبات نہیں، دلیل ضروری ہے
علم کے ساتھ اخلاق لازم ہے
منصب امانت ہے، فخر نہیں
سنت کی حفاظت ایمان کی حفاظت ہے
اختتامیہ
امام ابنِ حجر عسقلانیؒ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خاموش محنت، سچی نیت اور خوفِ خدا انسان کو تاریخ میں زندہ کر دیتے ہیں۔
آپؒ نے حدیث کی خدمت کر کے رسول اللہ ﷺ کے پیغام کو امت تک محفوظ پہنچایا—اور یہی سب سے بڑی سعادت ہے۔
اللہ ہمیں امام ابنِ حجرؒ کے علم، دیانت اور اخلاص سے حصہ عطا فرمائے۔
آمین۔
![]()

