Daily Roshni News

امریکہ میں صدر ایسا آگیا ہے جو اب بہت جلدی میں ہے

امریکہ میں صدر ایسا آگیا ہے جو اب بہت جلدی میں ہے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )امریکہ نے سال کے شروع میں جو چیزیں کرنا شروع کر دیں یہ ہونی تھیں بس امریکہ میں صدر ایسا آگیا ہے جو اب بہت جلدی میں ہے ممکن ہے کہ یہ اب والی جلدی امریکہ کیلئے بڑی مصیبت بن جائے گی،کیونکہ امریکہ کو آج سے 5 سال قبل چائنہ کو کاؤنٹر کرنا چاہئے تھا تب مقاصد حاصل کرنا ممکن تھا اور امریکہ ایسی صورتحال میں نہ جاتا مگر اس وقت میرے خیال میں امریکہ و چائنہ کے درمیان Cold War 2.0 چل رہی ہے پہلے سویت یونین کیساتھ چلتی رہی ہے امریکہ و سویت یونین ایک دوسرے کو کاؤنٹر کرتے رہے ہیں سویت یونین کے بکھرنے کے بعد پوسٹ کولڈ وار کا دور شروع ہوا، انٹرنیشنل سسٹم Bipolar سے Unipolar ہوا اور اب Multipolar چل رہا ہے۔جہاں امریکہ، چین ،روس، یورپی یونین اور میڈل ایسٹ کی طاقتیں اپنا رول پلے کر رہی ہیں،مگر امریکہ چائنہ کے ساتھ Cold War 2.0 میں داخل ہوچکا ہے۔

چائنہ کے تمام اتحادیوں کو امریکہ کاؤنٹر کرے گا وہ کسی ملک کے ذریعے بھی ہوگا اور خود بھی کئی ممالک میں کود پڑے گا،اپنے اتحادیوں کو شامل بھی کرے اور نئے اتحاد کیطرف بھی بڑھے گا، پرانے کو نئے آنے والوں کیلئے چھوڑنا پڑے تو پرواہ بھی نہیں کرے گا۔ایران چین کا اتحادی ہے اسرائیل نے ایران پر حم  لے کئے امریکہ براہ راست مانٹیرنگ کرتا رہا مگر ناکامی کی صورت میں خود کشیدگی میں شامل ہوگیا۔وینزویلا میں چائنہ نے 551 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے اور وینزویلا سے چین روزانہ اوسطاً 389,000 بیرل خرید رہا تھا وینزویلا کے پاس دنیا کے تمام تیل کا 20 فیصد ہے اور 20 فیصد کا 4 فیصد چائنہ کے پاس آ رہا تھا۔یہاں امریکہ نے ناکامی کے سبب خود کو کشیدگی میں شامل کیا۔اور امریکہ نے وینزویلا کے خام تیل میں 2 بلین ڈالر تک کی فراہمی پر اتفاق کیا۔

امریکہ خود کو آئسولیٹ کرتا ہے تو تباہی کیطرف جاتا ہوا نظر آ رہا ہے اس کے اتحادی تنگ ہیں،چین پر سعودی عرب کے Financial Influence کافی زیادہ ہیں،سعودی عرب کی بدلتی پالیسی امریکہ کو اچھی نہیں لگی، سعودی عرب نے بہت سے معاملات میں امریکہ کو کاؤنٹر کیا اور میڈل ایسٹ میں قطر، مصر اور متحدہ عرب امارات کیظرح اتحادی نہیں بنا بلکہ ایم بی ایس نے بیلنس پالیسی اختیار کی جو امریکہ کے مفاد میں نہیں تھی سعودی عرب کو امریکہ  نے اپنے اتحادی اسرائیل و متحدہ عرب امارات کیساتھ الجھا دیا ہے۔ سعودی اس وقت بری طرح ہر طرف سے گھیرا جاچکا ہے اب امریکہ سعودی کیلئے خود صومالی لینڈ میں آئے گا۔فلحال وہ دیکھ رہا ہے کہ یہ کس نہج پر جاتے ہیں، متحدہ عرب امارات سعوی کو امریکی مفاد کیلئے الجھا رہا ہے اور وہ امریکی مفاد اسرائیل کا ہے۔ جس سے سعودی عرب فلحال انکار کر رہا ہے۔

روس اور چائنہ مشترکہ مفاد کو لیکر چل رہے ہیں چائنہ یورپ میں گھس رہا ہے اور یوکرین کیساتھ روس کی کشیدگی میں امریکہ نہیں کود رہا بلکہ وہ یورپی یونین کو چھوڑنے کو تیار ہے نیٹو سے 2027 تک خود کو الگ کر دیا اور اب ڈنمارک کو گرین لینڈ چھوڑنے کی دھمکیاں دے رہا ہے نیٹو اصول کے مطابق ایک پر حم لہ سب پر حم لہ تصور ہوگا مگر  اس اصول کو برطانیہ ویٹو کر دے گا اور امریکہ اپنا مقصد پورا کرے گا وہ وہاں کی انتظامی چیزوں کو اپنے کنٹرول کر کے چائنہ اور روس کو کاؤنٹر کرنا چاہتا ہے گرین لینڈ میں امریکہ کامیابی حاصل کر لے گا لاطینی امریکہ میں ممکنہ طور پر امریکہ کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے برازیل، کیوبا اور کولمبیا کی عوام میں نفرت پیدا ہوگئی ہے۔

گرین لینڈ کے بعد امریکہ کا اگلا ٹارگٹ ایران ہے کیونکہ امریکہ چائنہ کو وینزویلا سے کاؤنٹر کرچکا ہے تو چائنہ کے پاس تیل کی متبادل منڈی ایران ہے اور میڈل ایسٹ میں ایران کے پاس تیل بہت زیادہ ہے چائنہ اب کھل کر تیل خریدے گا اور چائنہ کو ایرانی سستا بھی پڑتا ہے امریکہ ایران کیخلاف ہر صورت میں جائے گا اور ایران کیساتھ بھی وینزویلا والا کام کرنے کی کوشش کرے گا جو اتحاد یہاں بن رہا ہے یعنی ترکیہ، سعودی عرب، پاکستان اور چائنہ متحرک ہیں یہ طاقتیں اگر ایران کو اپنے ساتھ انگیج کر لیتی ہیں اور امریکہ کیلئے بہت زیادہ مسائل ہوں گے اگر ایران اکیلے لڑتا ہے تو یہاں امریکہ کیلئے مسائل تو ہوں گے مگر زیادہ نہیں۔ پاکستان سعودی اور ترکیہ کی امریکہ و چائنہ کیساتھ بیلنس پالیسی رہی ہے اگر آگے بھی رہی تو چائنہ و امریکہ کی Cold War 2.0 میں سب سے زیادہ فائدہ یہی ملک اٹھائیں گے۔

تحریر:فرحان ملک

Loading