Daily Roshni News

انرجی ہمیشہ کنزرو ہوتی ہے تو پنڈولیم اور ہر چیز ہمیشہ کچھ دیر بعد رک کیوں جاتی ہے؟

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سوال ۱۷۸۱: اگر انرجی ہمیشہ کنزرو ہوتی ہے تو پنڈولیم اور ہر چیز ہمیشہ کچھ دیر بعد رک کیوں جاتی ہے؟

جواب: یہ فزکس کا ایک کلاسک سوال ہے۔ دراصل پنڈولم کے رکنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ توانائی فنا ہو گئی ہے، بلکہ توانائی صرف منتقل ہوئی ہے۔ توانائی کے تحفظ کا قانون یہاں بھی سو فیصد لاگو ہوتا ہے۔

پنڈولم کی حرکی توانائی دو جگہوں سے چوری ہوتی ہے۔

جب پنڈولم ہوا میں حرکت کرتا ہے تو وہ ہوا کے اربوں مالیکیولز سے ٹکراتا ہے اور اپنی انرجی انہیں دے دیتا ہے۔ یوں ہوا کے ذرات تیز ہو جاتے ہیں اور پنڈولم سست۔

پنڈولم کے جوڑ یا Hinge پر رگڑ کی وجہ سے حرارت پیدا ہوتی ہے۔ یہ حرارت ہوا میں خارج ہو کر ہوا میں ہلکی سی گرمی پیدا کردیتی ہے۔ لیکن اس سے پنڈولم کی حرکی توانائی کم ہوجاتی یے۔

مطلب یہ کہ یہاں تھرموڈائنامکس کا دوسرا قانون اور انٹروپی کا اصول آڑے آتا ہے۔ پنڈولم کی منظم حرکی توانائی رگڑ اور ہوا کی وجہ سے حرارت میں بدل کر ماحول میں بکھر جاتی ہے۔ یہ توانائی اب بھی ماحول میں موجود ہے لیکن یہ ناقابلِ استعمال ہو چکی ہے۔ یعنی ہم اس بکھری ہوئی حرارت کو دوبارہ اکٹھا کر کے پنڈولم کو دھکا نہیں دے سکتے۔

یہی وہ رگڑ اور انٹروپی کا چکر ہے جس نے ہزاروں سال تک انسانوں کو دھوکے میں رکھا۔ پرانے فلاسفرز سمجھتے تھے کہ رک جانا چیزوں کی فطرت ہے، جبکہ نیوٹن نے آ کر بتایا کہ حرکت کرنا فطرت ہے یہ تو ماحول کا فرکشن ہے جو چیزوں کی حرکت کا دشمن بنا ہوا ہے۔ اگر ہم خلا میں پنڈولم چلائیں جہاں ہوا اور رگڑ نہ ہو، تو وہ تا قیامت چلتا رہے گا۔ چونکہ نیوٹن خلا اور زمین دونوں پر تحقیق کر رہا تھا اس لیے یہ نیوٹن کے ہی سر جاتا ہے کہ اس نے اپنا پہلا قانون پیش کیا

&&&&&

سوال ۱۷۸۲: ہارمونز کیا ہوتے ہیں اور کون کون سے

جواب: ہارمون ہمارے دماغ اور جسم کے درمیان دو طرفہ کیمیائی پیغام رسان ہے جو پل کی طرح کام کرتے ہیں۔ یہ دماغی پیغامات کو جسم تک پہنچا کر ردعمل کرواتے ہیں اور جسمانی حالات کی خبر واپس دماغ کو دے کر ہمارے احساسات اور موڈ کا تعین بھی کرتے ہیں۔

نیچے ہارمون کی ایک فہرست دے رہا ہوں جو مصنوعی ذہانت سے حاصل کی گئی ہے

انسولین (Insulin): یہ خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول کرتا ہے تاکہ جسم کو توانائی مل سکے۔

ایڈرینالین (Adrenaline): یہ ہنگامی حالات میں دل کی دھڑکن تیز کر کے جسم کو فوری ایکشن کے لیے تیار کرتا ہے۔

کورٹیسول (Cortisol): یہ ذہنی دباؤ یا ٹینشن کے وقت جسم کو متحرک رکھتا ہے اور اسے اسٹریس ہارمون بھی کہتے ہیں۔

میلاٹونین (Melatonin): یہ اندھیرا ہونے پر دماغ کو نیند کا پیغام دیتا ہے تاکہ آپ سکون سے سو سکیں۔

ڈوپامائن (Dopamine): یہ کسی کامیابی یا انعام ملنے پر خوشی اور مزید کام کرنے کی لگن پیدا کرتا ہے۔

سیروٹونین (Serotonin): یہ موڈ کو اچھا رکھتا ہے اور ڈپریشن سے بچا کر سکون کا احساس دیتا ہے۔

آکسیٹوسن (Oxytocin): یہ لوگوں کے درمیان محبت اور بھروسے کو مضبوط کرتا ہے اس لیے اسے لو ہارمون کہتے ہیں۔

تھائیروکسین (Thyroxine): یہ اس بات کا تعین کرتا ہے کہ آپ کا جسم خوراک کو کتنی تیزی سے توانائی میں تبدیل کرتا ہے۔

ٹیسٹوسٹیرون (Testosterone): یہ مردوں میں پٹھوں کی طاقت اور مردانہ خصوصیات کو پیدا کرتا ہے۔

ایسٹروجن (Estrogen): یہ خواتین کی جسمانی نشوونما اور تولیدی نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔

گریلن (Ghrelin): یہ معدے سے نکل کر دماغ کو بتاتا ہے کہ بھوک لگی ہے اور اب کھانا کھانا چاہیے۔

&&&&&

سوال ۱۷۸۳: کیا سائنس کے مطابق کائنات تخلیق ہوئی ہے؟ اگر تخلیق ہوئی ہے تو ہم جانتے ہیں کہ ہر تخلیق اپنی ذات میں مکمل ہوتی ہے جبکہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔

جواب: سائنس کے طریقہ کار میں علت و معلوم یا cause and effect بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ یعنی جب ہم کوئی قدرتی مظہر (effect)  دیکھتے ہیں تو ہم اس مظہر کی علت یا وجہ (cause) کو معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ وجہ بھی کسی اور وجہ کی وجہ سے ہوتی ہے۔ پھر ہم اس وجہ کی وجہ کی معلومات حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح وجوہات کی زنجیر میں جس نکتے پر پہونچے ہیں وہ نظریہ اضافیت اور کوانٹم فزکس ہیں۔ اسی طرح ہم جب کائنات کی واقعاتی ترتیب کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم بگ بینگ کے قریب تک پہنچتے ہیں۔ یعنی فی الحال عمومی نظریہ اضافیت، کوانٹم فزکس اور بگ بینگ ہماری معلومات کی آخری حد ہے۔ سائنسی تحقیق کرنے والے اس کی علت (cause) معلوم کرنے کی بھی جان توڑ کوشش کر رہے ہیں۔ اگر ہم اس کی علت معلوم کر بھی لیں تو آگے کسی اور علت کا سوال بھی پیدا ہوسکتا ہے۔ سائنس اسی سفر کا نام ہے۔ اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ کسی سطح پر سائنس تخلیق کو خالق سے منسوب کر کے رک جائے۔ اور اگر خالق کو علت مان بھی لے تو سائنس اپنے مخصوص طریقہ کار سے خالق کی ماہیت اور علت معلوم کرنے کی کوشش بھی کر سکتی ہے۔

جہاں تک یہ دعوی ہے کہ تخلیق اپنے ذات میں مکمل ہوتی ہے تو یہ آپ کا ذاتی خیال ہے۔ اس قسم کے دعوی کو تسلیم کرنے کی وجہ نہیں ہے۔ کائنات میں کوئی بھی چیز اپنی کیفیت میں ساکت نہیں ہے۔ مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہے

&&&&&

سوال ۱۷۸۴: ھمارے جسم میں ھر وقت خون کی گردش جاری رہتی ہے کیا جب ہم نیند سوتے ہین تو یے رفتار سست ہو جاتی ہے

جواب: جی ہاں، جب ہم گہری نیند میں ہوتے ہیں تو ہمارے خون کی گردش کی رفتار واقعی سست ہو جاتی ہے۔

دراصل خون کا بہاؤ ہمارے دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کے تابع ہوتا ہے۔ جب ہم سوتے ہیں تو ہمارے جسمانی اعضاء آرام کر رہے ہوتے ہیں، پٹھوں کو زیادہ آکسیجن کی ضرورت نہیں ہوتی، اس لیے ہمارا میٹابولزم سست ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر دونوں نیچے آ جاتے ہیں۔ عام طور پر نیند کے دوران خون کے بہاؤ میں 15 سے 20 فیصد تک کمی واقع ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ نیند کے مختلف سٹیجز ہوتے ہیں ایک Deep Sleep ہوتی ہے اور اس میں واقعی خون کا بہاؤ سب سے کم ترین سطح پر ہوتا ہے تاکہ جسم کو مکمل آرام ملے اور دل کو ریسٹ ملے۔ اور ایک REM Sleep ہوتی ہے، اس میں ہم خواب دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں دماغ اتنا ہی ایکٹو ہوتا ہے جتنا جاگتے ہوئے ہوتا ہے۔ اس دوران دل کی دھڑکن اور خون کا بہاؤ اچانک تیز ہو سکتا ہے۔

&&&&&

سوال ۱۷۸۵: کیا واقعی میں فارمی مچھلی اور دریا کی مچھلی کی غذائیت میں فرق ہوتا ہے؟

جواب: اصل فرق ان دونوں کی غذا میں ہے۔ فارمی مچھلی کو مخصوص قسم کے غذائی فیڈ دیے جاتے ہیں جبکہ عام قدرتی مچھلیاں فطری انداز میں اپنے ماحول میں میسر چیزیں کھاتی ہیں۔

ان اعتبارات سے فارمی مچھلی عام مچھلی سے کم بہتر ہوگی۔ ایک یہ ہے کہ اس میں چکنائی یعنی fat کچھ زیادہ ہوگا۔ دوسرے یہ ہے کہ اس میں omega-6 کی نسبت سے omega-3 کم ہوگا۔ اومیگا تھری دک کی صحت کے لئے بہتر ہے جبکہ اومیگا سکس سے سوزش کے خطرات رہتے ہیں

یہ دونوں فرق اتنے زیادہ نہیں ہیں کہ فارمی مچھلی کو ترک کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ فارمی مچھلی بھی پروٹین کا بہترین ذریعہ ہے اور ریڈ میٹ سے بہت بہتر ہے۔ اگر میسر ہو تو کھالیں۔

ویسے ایک اضافی بات یہ بھی ہے کہ دریا کی مچھلی میں پارہ یعنی mercury کی آلودگی کا خطرہ فارمی مچھلی سے زیادہ رہتا ہے

Loading