Daily Roshni News

انسانی جسم ایک مربوط اور حکیمانہ نظام ہے

انسانی جسم ایک مربوط اور حکیمانہ نظام ہے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )آجکل ہر بندہ انٹرنیٹ پر نسخے دیکھ کر سیلف میڈیکیشن کرتا نظر آتا ہے حالانکہ کسی بھی ایسے بندے کو جو دوا کے افعال کو نہیں سمجھتا جڑی بوٹیاں استعمال کرنے کی ہماری طرف سے اجازت نہیں ہوتی میں صرف اہل علم افراد کے لیے لکھتا ہوں جو اس فن سے بخوبی آگاہ ہیں اور ہر دوا کے بنیادی موڈ آف ایکشن کو سمجھتے ہیں عام قاری اپنے معالج کے مشورے کے بغیر استعمال نہ کریں

انسانی جسم ایک مربوط اور حکیمانہ نظام ہے، جس کی بنیاد معدہ، آنت اور جگر پر قائم ہے۔ طبِ یونانی، قدیم حکمت، جدید سائنس اور سیرتِ نبوی ﷺ — چاروں ایک ہی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں کہ سادگی، اعتدال اور فطرت کے مطابق زندگی ہی صحت کی ضمانت ہے۔ جب ہم اس راستے سے ہٹتے ہیں تو سب سے پہلے جس بیماری کا دروازہ کھلتا ہے وہ قبض ہے، اور قبض صرف ایک علامت نہیں بلکہ درجنوں بیماریوں کی ماں ہے۔

قبض کو عام طور پر پاخانہ نہ آنے تک محدود سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ حقیقت میں قبض ایک گہری اندرونی خرابی ہے۔ طبِ یونانی کے مطابق قبض کی اصل وجہ جگر کی کمزوری اور صفرا (بائل) کی کمی ہے۔ جگر جب درست کام کرتا ہے تو صفرا مناسب مقدار میں پیدا ہوتی ہے، یہی صفرا آنتوں کو حرکت دیتی ہے، فضلات کو نرم کرتی ہے اور قدرتی اخراج کو ممکن بناتی ہے۔ جب جگر بوجھ کا شکار ہو جائے، غلط غذا، دیر سے کھانا، بے قاعدہ نیند اور ذہنی دباؤ بڑھ جائے تو صفرا کم ہو جاتی ہے، نتیجتاً آنتیں سست، خشک اور بند ہونے لگتی ہیں — یہی قبض ہے۔

جب فضلات بروقت خارج نہیں ہوتے تو وہ آنتوں میں سڑتے ہیں، زہریلے مادّے پیدا کرتے ہیں اور دوبارہ خون میں جذب ہو جاتے ہیں۔ یہ زہر سب سے پہلے جگر کو مزید کمزور کرتا ہے، پھر خون کو خراب، دماغ کو بوجھل، اعصاب کو کمزور اور ہارمونز کو بے ترتیب کر دیتا ہے۔ اسی لیے قبض کے مریض چڑچڑے، بے خوابی کے شکار، سر درد، گیس، تیزابیت، دل کی گھبراہٹ، جلدی امراض اور ذہنی انتشار کا شکار نظر آتے ہیں۔

یہاں سیرتِ طیبہ ﷺ ہماری کامل رہنمائی کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی مبارک انتہائی سادہ، متوازن اور فطرت کے عین مطابق تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کھانا کم، سادہ اور وقت پر ہوتا تھا، پیٹ بھر کر کھانے سے اجتناب فرماتے، بھوک کے بغیر تناول نہیں فرماتے، اور غذا میں اعتدال کو اختیار کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معمولات میں حرکت، صفائی، وقت پر آرام، ذہنی سکون اور توکل شامل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوری زندگی صحت مند رہے، نہ معدے کی بیماریاں، نہ آنتوں کی خرابی، نہ جگر کی کمزوری — کیونکہ سادگی ہی اصل دوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کا مفہوم ہے کہ انسان اپنے پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرتا، چند لقمے ہی اس کے لیے کافی ہیں۔

آج ہم اسوۂ نبوی ﷺ کے بالکل برعکس زندگی گزار رہے ہیں۔ مسلسل کھانا، بے وقت کھانا، مصنوعی غذا، سفید آٹا، بیکری آئٹمز، کولڈ ڈرنکس، حد سے زیادہ چائے، کم پانی، دن بھر بیٹھنا اور رات دیر تک جاگنا — یہ سب مل کر جگر کو ناکارہ اور صفرا کو کم کر دیتے ہیں۔ جب صفرا نہیں بنے گی تو آنتیں حرکت نہیں کریں گی، اور قبض مستقل ہو جائے گی۔

قبض کو معمولی سمجھنا سب سے بڑی غلطی ہے، کیونکہ یہی کیفیت آگے چل کر شوگر، بلڈ پریشر، موٹاپا، جوڑوں کا درد، خواتین میں ہارمونل مسائل، پی سی او ایس، مردانہ کمزوری، بانجھ پن، ڈپریشن اور حتیٰ کہ کینسر تک کی بنیاد بن جاتی ہے۔ ہم جلاب، پاؤڈر اور گولیاں لے کر وقتی صفائی تو کر لیتے ہیں مگر جگر اور صفرا کو مزید کمزور کر دیتے ہیں، یوں مرض جڑ پکڑ لیتا ہے۔

اصل علاج دوا نہیں بلکہ طرزِ زندگی کی اصلاح ہے۔ کم مگر سادہ غذا، وقت پر کھانا، جگر کو بوجھ سے بچانا، فطری ریشہ دار غذا، مناسب پانی، روزانہ ہلکی جسمانی حرکت، سورج کی روشنی، حاجت کو نہ روکنا، ذہنی سکون اور بروقت نیند — یہی وہ اصول ہیں جو صفرا کو بحال کرتے ہیں، جگر کو طاقت دیتے ہیں اور قبض کو جڑ سے ختم کرتے ہیں۔

یاد رکھیں: قبض آنتوں کی نہیں، جگر کی بیماری ہے؛ اور جگر فطرت سے بغاوت برداشت نہیں کرتا۔ جو قوم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سادہ زندگی کو اپنا لے، وہ بغیر دوا کے بھی صحت پا لیتی ہے، اور جو اس سے منہ موڑ لے، وہ دوا کے ڈھیر میں بھی شفا تلاش کرتی رہتی ہے

ہم اگر نبی کریم ﷺ کی زندگی مبارکہ کا بغور مطالعہ کریں تو ہمیں پیٹ کی بیماریوں کا ذکر ملتا ہے اور پیٹ کی بیماریوں میں ایک سب سے زیادہ اہم مسئلہ قبض ہے آنتوں کی حرکت کا سست پڑ جانا جس سے آگے مزید کئی اقسام کے زہریلے مادے پیدا ہو کر نقصان دہ اثرات مرتب کرتے ہیں باقی پھر کبھی ان شاءاللہ تعالیٰ (جاری ہے)

حکیم احسن چشتی پیر جی کلینک راولپنڈی

Loading