Daily Roshni News

انسان کائنات میں کتنا چھوٹا—اور علم اسے کتنا بڑا بنا دیتا ہے؟ ایک سائنسی، فکری اور روحانی حقیقت

انسان کائنات میں کتنا چھوٹا—اور علم اسے کتنا بڑا بنا دیتا ہے؟ ایک سائنسی، فکری اور روحانی حقیقت

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )انسان اپنی زندگی میں بہت کچھ حاصل کرنے کے بعد یہ سمجھنے لگتا ہے کہ شاید وہ دنیا کا سب سے بڑا، طاقتور اور عقل مند وجود ہے۔ وہ دولت، مقام، شہرت اور اختیار کے نشے میں کبھی کبھی خود کو سب سے برتر تصور کرنے لگتا ہے۔ مگر جب انسان آسمان کی طرف دیکھتا ہے، ستاروں کی خاموش روشنی کو محسوس کرتا ہے، کہکشاؤں کے پھیلاؤ کا اندازہ کرتا ہے، تو اسے سمجھ آتی ہے کہ اصل حقیقت کتنی مختلف ہے۔ کائنات کا حقیقی منظر انسان کے غرور کو توڑ دیتا ہے اور اسے اس کی اصل جگہ دکھا دیتا ہے۔

سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ ہماری زمین جسے ہم پوری دنیا سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں **Milky Way کہکشاں کا صرف ایک ننھا سا نقطہ** ہے۔ اس کہکشاں میں **تقریباً 400 ارب ستارے** موجود ہیں، اور ہمارا سورج ان میں سے صرف ایک عام سا ستارہ ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کائنات میں ایسی کہکشاؤں کی تعداد **دو کھرب سے بھی زیادہ** ہو سکتی ہے۔ اتنی بڑی کائنات کے مقابلے میں ہماری زمین کی حیثیت صرف ایک ریت کے ذرّے جیسی ہے—بلکہ شاید اس سے بھی کم۔

روشنی جو ایک سیکنڈ میں تقریباً **300,000 کلومیٹر** کا سفر طے کرتی ہے، وہ بھی کائنات کے فاصلے ناپنے کے لیے کم پڑ جاتی ہے۔ انسان اگر روشنی کی رفتار سے سفر کرے تو بھی اسے قریب ترین ستارے تک پہنچنے میں **چار سال** لگیں گے، اور کہکشاں کے دوسرے کنارے تک پہنچنے میں **ہزاروں سال**۔ اس حد تک وسیع کائنات میں انسان کی موجودگی ایک پل، ایک لمحہ، ایک سانس جیسی ہے۔

کائنات صرف بڑی نہیں بلکہ مسلسل پھیل بھی رہی ہے۔ سائنس کی جدید تحقیق بتاتی ہے کہ آج کی کائنات کل سے بڑی ہے اور کل آج سے بڑی ہوگی۔ یعنی وہ نظام جسے سمجھنے میں انسان نے ہزاروں سال لگا دیے، وہ ابھی بھی بدل رہا ہے اور انسان اس کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔

یہاں ایک سوال اٹھتا ہے:

**اگر ہم اس پوری کائنات میں اتنے چھوٹے ہیں، تو پھر ہماری اہمیت کیا ہے؟**

انسان کی سب سے بڑی طاقت اس کا جسم نہیں، اس کی دولت نہیں، اس کی شہرت نہیں—بلکہ **اس کا علم** ہے۔ انسان سوچ سکتا ہے، سوال کر سکتا ہے، تحقیق کر سکتا ہے، سیکھ سکتا ہے، اور اپنے علم سے اس کائنات کے راز کھول سکتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو انسان کو باقی تمام مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے۔

جو انسان کائنات کو سمجھنے لگتا ہے، وہ اپنے غرور سے باہر آ جاتا ہے۔ وہ اپنے مقام کو پہچان لیتا ہے، اور پھر وہ بہتر انسان بن جاتا ہے۔ علم انسان کو عاجزی بھی دیتا ہے، بصیرت بھی، روشنی بھی اور راستہ بھی۔ جب انسان اپنی اصل حقیقت سمجھ لیتا ہے تو اس کے اندر ایک سکون جنم لیتا ہے—وہ جان لیتا ہے کہ اس کا وجود چھوٹا ضرور ہے، مگر بے معنی نہیں۔

یہی علم انسان کی زندگی کے سب سے بڑے مسائل حل کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ چاہے وہ **ازدواجی تعلقات** کا مسئلہ ہو، **نفسیاتی پریشانیاں** ہوں، **ڈپریشن، بے چینی، گھبراہٹ، چڑچڑاپن** ہو، **احساسِ محرومی** ہو، **محبت میں دھوکا** ہو، یا **شادی کے ٹوٹتے رشتے** ہوں—جو انسان علم سے اپنے ذہن کو روشن کرتا ہے، وہ ان مشکلات کا شکار ہونے کے بجائے ان پر قابو پانا سیکھ لیتا ہے۔ علم انسان کو وہ سمجھ دیتا ہے جس سے وہ تعلقات میں بھی بہتر بنتا ہے، جذبات میں بھی مضبوط ہوتا ہے اور ذہنی طور پر بھی متوازن رہتا ہے۔

اس وسیع کائنات میں اگرچہ انسان کی جگہ بہت چھوٹی ہے، مگر **اس کا شعور اسے بہت بڑا بنا دیتا ہے۔** یہی شعور اس کو مشکلات سے نکالتا ہے، زندگی کو بہتر بناتا ہے، رشتوں کو مضبوط کرتا ہے اور اسے اندھیرے وقت سے باہر لاتا ہے۔ علم انسان کی وہ طاقت ہے جس سے وہ خود کو بھی پہچان لیتا ہے اور اپنے خالق کو بھی۔

لہٰذا انسان کو چاہیے کہ

سوچتا رہے

سیکھتا رہے

سوال کرتا رہے

تلاش کرتا رہے

کیونکہ علم ہی وہ روشنی ہے جو وسیع کائنات کی تاریکی میں انسان کا واحد سہارا ہے۔

#universe #sciencefacts #cosmos #knowledgeispower #mindsetgrowth #psychologyfacts #relationshipadvice #depressionhelp #anxietyrelief #selfawareness #motivationalpost

Loading