انسان کے کردار کا اندازہ
انتخاب ۔ محمد جاوید عظیمی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ انتخاب ۔ محمد جاوید عظیمی)انسان کے کردار کا اندازہ ان صفاتی الفاظ (Adjectives) سے لگایا جا سکتا ہے جو وہ گفتگو کے دوران کثرت سے استعمال کرتا ہے۔
وضاحت:مارک ٹوین کے اس قول کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ہماری زبان اور الفاظ کا انتخاب دراصل ہماری اندرونی شخصیت کا آئینہ ہوتا ہے۔ اس کی مزید تفصیل کچھ یوں ہے:
ذہنی عکاسی: ہم دوسروں کے بارے میں جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں، وہ دراصل یہ بتاتے ہیں کہ ہم دنیا کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ اگر کوئی شخص دوسروں کے لیے ہمیشہ مثبت اور اچھے الفاظ (جیسے: مخلص، محنتی، شاندار) استعمال کرتا ہے، تو یہ اس کے اپنے نیک دل اور مثبت ہونے کی علامت ہے۔
پوشیدہ رجحانات: اس کے برعکس، اگر کوئی شخص اپنی گفتگو میں منفی یا تحقیر آمیز الفاظ (جیسے: بیوقوف، دھوکے باز، بیکار) کا عادی ہو، تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کے اپنے اندر حسد، غصہ یا منفی سوچ موجود ہے۔
کردار کی پہچان: انسان لاکھ کوشش کرے کہ وہ اپنے آپ کو اچھا دکھائے، لیکن اس کی زبان سے نکلنے والے “غیر ارادی” الفاظ اس کے اصل کردار کو بے نقاب کر دیتے ہیں۔
مختصر یہ کہ: آپ جو کہتے ہیں، وہ صرف دوسروں کے بارے میں نہیں ہوتا بلکہ وہ آپ کے اپنے بارے میں بہت کچھ بتا رہا ہوتا ہے۔
![]()

