Daily Roshni News

اُردو ادب سے ایک شاہکار افسانہ۔۔۔ تحریر۔۔۔منشی پریم چند۔۔۔قسط نمبر1

اُردو ادب سے ایک شاہکار افسانہ

نجات

تحریر۔۔۔منشی پریم چند

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ اُردو ادب سے ایک شاہکار افسانہ۔۔۔ تحریر۔۔۔منشی پریم چند)   دکھی چہار دروازے پر جھاڑ رہا تھا اور اس کی بیوی جھر یا گھر کو لیپ رہی تھی۔ دونوں اپنے اپنے

کام سے فراغت پاچکے تو چہارون نے کہا۔

تو جا کر پنڈت بابا سے کہہ آؤ۔ ایسا نہ ہو کہیں چلے جائیں“۔

دکھی : ہاں جاتا ہوں لیکن یہ تو سوچ کہ بیٹھیں گے کس چیز پر ؟

بھر یا کہیں سے کوئی کھٹیا نہ مل جائے گی۔ ٹھکرانی سے مانگ لانا“۔

دکھی تو تو کبھی کبھی ایسی بات کہہ دیتی ہے کہ بدن میں آگ لگ جاتی ) ہے۔ بھلا ٹھکرانے والے مجھے کھٹیاں دیں گے ؟ جا کر ایک لوٹا پانی مانگو تو نہ ملے۔ بھلا کھٹیا کون دے گا۔ ہمارے او پلے، ایندھن، بھوسا لکڑی تھوڑے ہی ہیں کہ جو چاہے اٹھا لے جائے۔ اپنی کھٹولی دھو کر رکھ دے۔ گرمی کے تو دن ہیں۔ ان کے آتے آتے سوکھ جائے گی۔ جھریا: ہماری کھٹولی پر وہ نہ بیٹھیں گے۔ دیکھتے نہیں کتنے دھرم سے رہتے ہیں۔

کھی نے کسی قدر مغموم لہجے میں کہا۔ ”ہاں یہ بات تو ہے۔ مہوے کے پتے توڑ کر ایک پنل بنالوں، تو ٹھیک ہو جائے۔ پتل میں بڑے آدمی کھاتے ہیں۔ وہ پاک ہے۔ لاتولا ٹھی، پتے توڑ لوں۔ بھریا: پاتل میں بنالوں گی۔ تم جاؤ لیکن ہاں انہیں سیدھا بھی جائے اور تھالی ۔ چھوٹے ہاہا تھالی اٹھا کر پنک دیں گے۔ وہ بہت جلد غصہ میں آجاتے ہیں۔ عفقہ میں پنڈتانی تک کو نہیں چھوڑتے۔ لڑکے کو ایسا پیٹا کہ آج تک ٹوٹا ہاتھ لیے پھرتا ہے۔ پل میں سیدھا بھی دے دینا مگر چھونا مت۔ بھوری گونڈ کی لڑکی کو لے کر شاہ کی دکان سے چیزیں لے آنا۔ سیدھا بھر پور ، سیر ریم چند بھر آنا، آدھ سیر چاول پاؤ بھر ، دال، آدھ پاؤ گھی، نمک، ہلدی اور تیل میں ایک کنارے چار آنہ کے جیسے رکھ دینا۔

گونڈ کی کی لڑکی نہ ملے تو پھر مہاجن کے ہاتھ پیر جوڑ کر لے آنا۔ تم کچھ نہ چھو ناور نہ گھب ہو جائے گا۔ ان باتوں کی تاکید کر کے دکھی نے لکڑی اٹھالی اور گھاس کا ایک بڑا سا گٹھا لے کر پنڈت جی سے عرض کرنے چلا۔

خالی ہاتھ بابا جی کی خدمت میں کس طرح جاتا۔ نذرانے کے لیے اس کے پاس گھاس کے سوا اور کیا تھا۔ اسے خالی دیکھ کر تو باباجی دور ہی سے دھتکار دیتے۔ پنڈت گهای رام ایشور کے پرم بھگت تھے۔ نیند کھلتے ہی ایشورا پاسنا میں لگ جاتے ، منہ ہاتھ دھوتے آٹھ بجے، تب اصلی پو جاشروع ہوتی۔ جس کا پہلا حصہ بھنگ کی تیاری تھی۔ اس کے بعد آدھ گھنٹہ تک چند ن رگڑتے۔ پھر آئینے کے سامنے ایک تنکے سے پیشانی پر تلک لگاتے ۔ چندن کے متوازی خطوط کے در میان لال روٹی کا ٹیکہ ہوتا۔ پھر سینہ پر ،دونوں بازووس پر چندن کے گول گول دائرے بناتے اور ٹھا کر جی کی مورتی نکال کر اسے نہلاتے۔ چندن لگاتے ، پھول چڑھاتے ، آرتی کرتے اور گھنٹی بجاتے۔ دس بہتے بجھتے وہ پوجن سے اٹھتے اور بھنگ چھان کر باہر آتے۔ اس وقت دو چار دروازے پر آجاتے۔ ایشور اپاسنا کافی الفور پھل مل جاتا۔ یہی ان کی کھیتی تھی۔ آج وہ عبادت خانے سے نکلے تو دیکھا دیکھی چهار گھاس کا ایک گٹھالئے بیٹھا ہے۔ انہیں دیکھتے ہی کھڑ ا ہو اور نہایت ادب سے ڈنڈوت کر کے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا۔ ایسا پر جلال چہرہ دیکھ کر اس کا دل عقیدت سے پر ہو گیا۔ کتنی تقدس مآب صورت تھی۔ چھوٹا سا گول مول آدمی۔ چکنا سر، پھولے ہوئے رخسار، روحانی جلال سے منور آنکھیں اس پر روئی اور چندن نے دیوتاؤں کی تقدس عطا کر دی تھی۔ د کھی کو دیکھ کر شیریں لہجہ میں بولے۔

” آج کیسے چلا آیارے دُکھیا؟“ دکھی نے سر جھکا کر کہا۔ ”بیٹیا کی سگائی کر رہا ہوں مہاراج ! ساعت شکن بیچارنا ہے۔ کب مرجی ہو گی ؟“

گهاسی “آج تو مجھے چھٹی نہیں ۔ شام تک آجاؤں گا۔

دیکھی : ” نہیں مہاراج !جلدی مرجی ہو جائے۔ سب سامان ٹھیک کر کے آیا ہوں۔ یہ گھاس کہاں رکھ دوں ؟

گھاسی: اس گائے کے سامنے ڈال دے۔ اور ذرا جھاڑو دے کر دروازہ تو صاف کر دے۔ یہ بیٹھک بھی کئی دن سے لیپی نہیں گئی۔ اسے بھی گو پر سے لیپ دے۔ تب تک میں بھو جن کر لوں۔ پھر ذرا آرام کر کے چلوں گا۔ ہاں یہ لکڑی بھی چیر دینا۔ کھلیان میں چار کھانچی بھوسہ پڑا ہے اسے بھی اٹھا لانا اور بھوسلے میں رکھ دینا۔

دکھی فورا حکم کی تعمیل کرنے لگا۔ دروازے پر جھاڑو لگائی۔ پیٹھک گور سے لیپا۔ اس وقت بارہ بیج چکے تھے۔ پنڈت جی بھو جن کرنے چلے۔ دکھی نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ اسے بھی زور کی بھوک لگی۔ لیکن وہاں کھانے کو دھرا ہی کیا تھا۔ گھر یہاں سے میل بھر تھا۔ وہاں کھانے چلا جائے تو پنڈت جی بگڑ جائیں۔ بے چارے نے بھوک دہائی اور

لکڑی پھاڑنے لگا۔

لکڑی کی موٹی سی گرہ تھی جس پر کتنے ہی بھگتوں نے اپنا زور آزمالیا تھا۔ وہ اسی دم خم کے ساتھ لوہے سے لوہا لینے کے لئے تیار تھی ۔ دکھی گھاس چھیل کر بازار لے جاتا۔ لکڑی چیرنے کا اسے محاور ہونہ تھا۔ گھاس اس کے کھرپے کے سامنے سر جھکا دیتی تھی۔

یہاں کس کس کر کلہاڑی کا بھر پور ہاتھ جماتا لیکن اس گروہ پر نشان تک نہ پڑتا۔ کلہاڑی اچٹ۔۔۔جاری ہے۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اکتوبر2016

Loading