اُردو ادب سے ایک شاہکار افسانہ
نجات
تحریر۔۔۔منشی پریم چند
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ اُردو ادب سے ایک شاہکار افسانہ۔۔۔ تحریر۔۔۔منشی پریم چند)جاتی۔ پسینہ سے تر تھا۔ ہانپتا تھا۔ تھک کر بیٹھ جاتا تھا۔ پھر التا تھا۔ ہاتھ اٹھائے نہ اٹھتے تھے ۔ پاؤن کانپ رہے تھے ۔ ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ پھر بھی اپنا کام کئے جاتا تھا۔ اگر ایک چلم تمہا کو پینے کو مل جاتا تو شاید کچھ طاقت آجاتی۔ اس نے سوچا۔ یہاں چلم اور تمباکو کہاں ملے گا۔ برہمنوں کا گاؤں ہے۔ برہمن ہم سب نیای جانوں کی طرح تمہا کو تھوڑا ہی پیتے ہیں۔
یکا یک اسے یاد آیا کہ گاؤں میں ایک گونڈ بھی رہتا ہے۔ اس کے یہاں ضرور چلم تمباکو ہو گی۔ فوراً اس کے گھر دوڑا۔ خیر محنت سپھل ہوئی۔ اس نے تمہا کو اور چلم دی۔ لیکن آگ وہاں نہ تھی۔
دکھی نے کہا آگ کی فکر نہ کرو بھائی، پنڈت جی کے گھر سے آگ مانگ لوں گا۔ وہاں تو ابھی رسوئی بن رہی تھی۔۔
یہ کہتا ہو ا وہ دونوں چیزیں لے کر چلا اور پنڈت جی کے گھر میں دالان کے دروازہ پر کھڑا ہو کر بولا۔ “مالک ذرا سی آگ مل جائے تو چلم پی لیں۔ پنڈت جی بھوجن کر رہے تھے ۔ پنڈتانی نے پوچھا۔۔ یہ کون آدمی آگ مانگ رہا ہے ؟“
تو دے دو
پنڈتانی نے بھنویں چڑھا کر کہا۔ ” تمہیں تو جیسے پوری پیڑے کے پھیر میں دھرم کرم کی سدھ بھی نہ رہی۔
چمار ہو ادھوبی ہوا، پاس ہو۔ منہ اٹھائے گھر میں چلے آئے۔ پنڈت کا گھر نہ ہوا، کوئی سرائے ہوئی۔ اسے کہہ دو کہ ڈیوڑھی سے چلا جائے اور نہ اسی آگ سے منہ حمجلس دوں گی۔ بڑے آگ مانگنے چلے ہیں“۔
پنڈت جی نے انہیں سمجھا کر کہا۔ اندر آگیا تو کیا ہوا۔ تمہاری کوئی چیز تو نہیں چھوٹی،
زمین پاک ہے۔
ذراسی آفر کیوں نہیں دے دیتیں۔ کام تو ہمارا کر رہا ہے۔ کوئی لکڑ ہارا یہی لکڑی پھاڑتا تو کم از کم چار آنے لیتا۔
پنڈتانی نے گرج کر کہا۔ ”وہ گھر میں آیا ہی کیوں ؟“ پنڈت نے ہار کر کہا ۔ ” سرے کی بد قسمتی “۔ پنڈ تانی: اچھا اس وقت تو آگ تو دے دیتی ہوں لیکن پھر جو اس گھر میں آئے گا تو منہ مجلس دو گی۔ دکھی کے کانوں میں ان باتوں کی بھنک پڑرہی تھی۔ بیچارہ پچھتار ہا تھا۔ نا حق چلا آیا۔ بیچ تو کہتی ہیں پنڈت کے گھر چمار کیسے آئے۔ یہ لوگ پاک
صاف ہوتے ہیں۔ جب ہی تو اتنا مان ہے۔ چہ چہار تھوڑے ہی ہیں۔ اس گاؤں میں بوڑھا ہو گیا۔ مگر مجھے اتنی عقل بھی نہ آئی۔
اسی لئے جب پنڈتانی میں آگ لے کر نکلیں تو جیسے اسے جنت مل گئی۔ دونوں ہاتھ جوڑ کر زمین پر سر جھکاتا ہوا بولا۔ پنڈ تانی ماتا مجھ سے بڑی بھول ہوئی کہ گھر میں چلا آیا ۔ چہار کی عقل ہی تو ٹھہری۔ اتنے مورکھ نہ ہوتے تو سب کی لات کیوں کھاتے ؟ پنڈتانی چھٹے سے پکڑ کر آگ لائی تھی۔
انہوں نے پانچ ہاتھ کے فاصلہ پر گھونگھٹ کی آڑ سے دکھی کی طرف آگ چھینکی۔ ایک بڑی سی چنگاری اس کے سر پر پڑ گئی۔ جلدی سے ہٹ کر جھاڑے لگا۔ اس کے دل نے کہا۔ یہ ایک پاک برہمن کے گھر کو نا پاک کرنے کا نتیجہ ہے بھگوان نے کتنی جلدی سزا دے دی۔ اسی لئے تو دنیا پنڈتوں سے ڈرتی ہے۔ اور سب کے روپے مارے جاتے ہیں۔ برہمن کے روپے بھلا کوئی مار تو لے۔ گھر بھر کا ستیا ناس ہو جائے۔ ہاتھ پاؤں گل گل گرنے لگیں۔
باہر آکر اس نے چلم پی اور کلہاڑی لے کر مستعد ہو گیا۔ کھٹ کھٹ کی آوازیں آنے لگیں۔ سر پر آگ پڑ گئی تو پنڈتانی کو کچھ رحم آگیا۔ پنڈت جی کھانا کھا کر اٹھے تو بولیں۔ اس چمار کو بھی کھانے کو دے دو۔ بے چارا کب سے کام کر رہا ہے۔ بھوکا ہو گا“۔ پنڈت نے اس تجویز کو فنا کر دینے کے ارادے سے پو چھا۔ “روٹیاں ہیں ۔
پنڈ تانی: دو چار بچ جائیں گی۔
پنڈت: دو چار روٹیوں سے کیا ہو گا؟ یہ چہار ہے۔ کم از کم سیر چڑھا جائے گا۔
پنڈتانی کانوں پر ہاتھ رکھ کر بولیں۔ ”ارے باپ رے۔ سیر بھر ، تو پھر رہنے دو۔ پنڈت جی نے اب تیر بن کر کہا۔ “کچھ بھوسی چو کر ہو تو آئے میں ملا کر موٹی موٹی روٹیاں توے پر ڈال دو۔ سالے کا پیٹ بھر جائے گا۔ پہلی روٹیوں سے ان کمینوں کا پیٹ نہیں بھرتا۔ انہیں تو جوار کا ٹکڑا چاہئیے”۔ پنڈتانی نے کہا۔ اب جانے بھی دور دھوپ میں میرے“۔
دکھی نے چلم پی کر کلہاڑی سنبھالی۔ دم لینے سے ذرا ہاتھوں میں طاقت آگئی تھی۔ تقریبا آدھ گھنٹہ تک پھر کلہاڑی چلا تا رہا۔ پھر بے دم ہو کر وہیں سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ اتنے میں وہی گونڈ آ گیا۔ بولا:
بوڑھے دادا جان کیوں دم دیتے ہو۔ تمہارے پھاڑے یہ گانٹھ نہ پھٹے گی۔ ناحق ہلکان ہوتے ہو“۔ دکھی نے پیشانی کا پسینہ صاف کر کے کہا۔ ”بھائی
ابھی گاڑی بھر بھوسہ ڈھونا ہے”۔ گونڈ: کچھ کھانے کو بھی دیا یا کام ہی کروانا جانتے
ہیں۔ جا کے مانگتے کیوں نہیں ؟“
دیکھی تم بھی کیسی باتیں کرتے ہو۔ بھلا بر ہمن کی روٹی ہم کو بچے گی ؟ گونڈ: پہنے کو تو بچ جائے گی۔ مگر ملے تو ۔ خود تو مونچھوں پر تاؤ دے کر کھانا کھایا اور آرم سے سورہے ہیں۔
تمہارے لیے لکڑی پھاڑنے کا حکم لگا دیا۔ زمیندار بھی کچھ کھانے کو دیتا ہے۔ یہ ان سے بھی بڑھ گئے۔ اس پر دھرماتما بنتے ہیں۔
دکھی نے کہا۔ ”بھائی آہستہ بولو ۔ کہیں سن لیں گے تو بس یہ کہہ کر دکھی پھر سنبل پڑا اور کلہاڑی چلانے لگا۔ گونڈ کو اس پر رحم آگیا۔ کلہاڑی ہاتھ سے چھین کر تقریبا نصف گھنٹہ تک جی توڑ کر چلا تار ہا لیکن گانٹھ پر ذرا بھی نشان نہ ہو۔
بالآخر اس نے کلہاڑی پھینک دی اور یہ کہہ کر چلا گیا۔ ” یہ تمہارے پھاڑے نہ پھٹے گی۔ خواہ تمہاری جان ہی کیوں نہ نکل جائے ۔
دکھی سوچنے لگا۔ یہ گانٹھ انہوں نے کہاں سے رکھ چھوڑی تھی کہ پھاڑے نہیں پھٹتی۔ میں کب تک اپنا خون پسینہ ایک کروں گا۔ ابھی گھر پر سو کام پڑے ہیں۔ کام کاج والا گھر ہے۔ ایک نہ ایک چیز گھٹتی رہتی ہے۔ مگر انہیں اس کی کیا فکر ؟ چلوں جب تک بھوسہ ہیں اٹھالاؤں۔ کہہ دوں گا آج تو لکڑی نہیں پھٹی۔ کل آکر پھاڑ دوں گا۔
اس نے ٹوکرا اٹھایا اور بھوسہ ڈھونے لگا۔ کھلیان یہاں سے دو فرلانگ سے کم نہ تھا۔ اگر ٹوکرا خوب بھر بھر کر لاتا تو کام جلد ہو جاتا۔ مگر سر پر اٹھاتا کون؟
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اکتوبر2016
![]()

