اگر جانور بول سکتے، تو انسانیت سوائے رونے کے کچھ نہ کرتی۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)تفصیلی وضاحت اس جملے کے پیچھے چھپے معنی بہت گہرے ہیں۔ اس کی وضاحت ہم تین نکات میں کر سکتے ہیں:
1. احساسِ جرم (Guilt):
انسانوں نے اپنی ضروریات، خوراک، لباس اور تفریح کے لیے جانوروں پر بے انتہا ظلم کیا ہے۔ اگر وہ جانور اپنی زبان میں اپنی تکلیف بیان کرنا شروع کر دیں، تو انسان ان کی بپتا سن کر اتنے شرمندہ ہوں گے کہ ان کے پاس رونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
2. بے حسی کا آئینہ:
ہم اکثر یہ سوچ کر جانوروں کا شکار کرتے ہیں یا انہیں قید رکھتے ہیں کہ وہ “بے زبان” ہیں۔ اگر وہ بول پڑیں، تو وہ ہماری اس بے حسی کو بے نقاب کر دیں گے۔ ان کی باتیں ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیں گی۔
3. دردِ دل کی داستان:
یہ جملہ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ جانوروں کی زندگی میں اتنے دکھ اور ایسی کہانیاں ہوں گی (جو ہم انسانوں کی وجہ سے ہیں) کہ اگر وہ بیان کی جائیں، تو کسی بھی نرم دل انسان کی آنکھوں سے آنسو نہیں رکیں گے۔
خلاصہ
مختصر یہ کہ یہ قول ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ زبان نہ ہونا بے حسی کا لائسنس نہیں ہے۔ ہمیں ان مخلوقات کے ساتھ ہمدردی کرنی چاہیے جو اپنی تکلیف الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے۔
![]()

