Daily Roshni News

ایران نے کہہ دیا — اگر دنیا بھی ختم ہو جائے تو اسرائیل کا ایک جہاز بھی آبنائے ہرمز سے نہیں گزرے گا

ایران نے کہہ دیا — اگر دنیا بھی ختم ہو جائے تو اسرائیل کا ایک جہاز بھی آبنائے ہرمز سے نہیں گزرے گا

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایران نے کہہ دیا — اگر دنیا بھی ختم ہو جائے تو اسرائیل کا ایک جہاز بھی آبنائے ہرمز سے نہیں گزرے گا — اور اس ایک جملے نے وہ کام کر دیا جو کوئی جوہری ہتھیار بھی نہیں کر سکتا تھا، پوری عالمی معیشت کو ایک رات میں زمین پر پٹخ دیا۔​​​​​​​​​​​​​​​​

دنیا کے نقشے پر ایک ایسی جگہ ہے جہاں سمندر صرف 54 کلومیٹر چوڑا ہے — لیکن اس 54 کلومیٹر میں سے روزانہ 20 کروڑ بیرل تیل گزرتا ہے، جو پوری دنیا کی تیل کی ضرورت کا 20 فیصد ہے۔ یہ ہے آبنائے ہرمز — اور آج اسرائیل اور امریکہ کی فوجی جارحیت نے اس آبنائے کو دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی اقتصادی بارودی سرنگ میں بدل دیا ہے۔ ایران نے اعلان کر دیا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ سے جڑے کسی بھی بحری جہاز کو یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں — دنیا ختم ہو جائے تو بھی نہیں۔ اور اس اعلان کے پیچھے جو آگ ہے، اسے بھڑکانے والا کوئی اور نہیں بلکہ بنیامین نیتن یاہو اور اس کی خونی جنگی مشین ہے۔

28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ فضائی حملے “آپریشن ایپک فیوری” کے نام سے ایران پر شروع کیے، جن میں ایران کے فوجی اڈے، جوہری تنصیبات اور قیادت کو نشانہ بنایا گیا اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو شہید کر دیا گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب نیتن یاہو نے ایک خطے کو نہیں، پوری دنیا کو آتش کدے میں جھونک دیا۔ ان حملوں کے جواب میں ایران نے اسرائیل، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، اردن، سعودی عرب، عراق اور عمان میں امریکی اور اسرائیلی اثاثوں کو میزائلوں اور ڈرونوں سے نشانہ بنایا۔ یعنی ایک آدمی کی ہوسِ اقتدار نے پورے خطے کو جنگ کی بھٹی میں دھکیل دیا۔

آبنائے ہرمز دنیا کی تیل تجارت کا سب سے اہم گزرگاہ ہے — دنیا کا تقریباً 30 فیصد سمندری خام تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس جنگ کے بعد تیل کی قیمتیں تاریخ کے کسی بھی تنازع کے مقابلے میں سب سے تیز رفتار سے بڑھیں — برینٹ کروڈ اپنی بلند ترین سطح 126 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا، جو 4 سال میں پہلی بار 100 ڈالر کی حد کو عبور کر کے اس سطح تک پہنچا۔ اس بندش کو 1970 کی دہائی کے تیل بحران کے بعد سب سے بڑی توانائی سپلائی کی تباہی قرار دیا جا رہا ہے۔ غریب ممالک کے عوام، ایشیا کے کارخانے، افریقہ کے کسان — سب نیتن یاہو کی جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد روزانہ 150 سے گر کر صرف 10 سے 20 رہ گئی۔ اس بندش سے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عمان اور عراق کے تجارتی راستے مفلوج ہو گئے، ایشیا کے لیے مائع قدرتی گیس، افریقہ کے لیے کھاد اور دنیا کے لیے جیٹ فیول سب خطرے میں آ گیا۔ پیٹروکیمیکلز، ایلومینیم، کھاد اور پلاسٹک کی خام مال کی سپلائی بھی رک گئی۔ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ — دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں سے ایک — کو ڈرون حملے میں نقصان پہنچا اور اس کی پروازیں عارضی طور پر بند ہو گئیں۔ یہ ہے نیتن یاہو کی “فتح” کا اصل چہرہ۔

لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 1,000 سے زائد افراد شہید اور 10 لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اسرائیل نے لبنان میں لیطانی دریا کے پلوں کو بھی نشانہ بنایا، رہائشی علاقوں کو ملبے میں بدلا اور سرحد کے قریب گھروں کو مسمار کرنے کے احکامات دیے۔ ایران میں اس جنگ کے شہداء کی تعداد 1,500 سے تجاوز کر گئی۔ اسرائیل نے IRGC کے بحری کمانڈر کو بھی ایک فضائی حملے میں شہید کر دیا۔ یہ محض اعداد نہیں — یہ وہ ماں باپ ہیں جن کے بچے اب نہیں رہے، وہ بچے ہیں جو یتیم ہو گئے، وہ خاندان ہیں جو نیتن یاہو کی سیاسی بقاء کی بھینٹ چڑھ گئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے راتوں رات دنیا کے پانچویں حصے کا تیل ختم ہو سکتا ہے — اور قیمتیں اوپر جانے سے پہلے خوف کی وجہ سے ہی عالمی مالیاتی منڈیاں بحران میں آ جائیں گی۔ اس جھٹکے کی لہریں توانائی منڈیوں سے بہت آگے جائیں گی — مہنگائی بڑھے گی، مالیاتی شرائط سخت ہوں گی اور کمزور معیشتیں چند ہفتوں میں کساد بازاری کے دہانے پر آ جائیں گی۔ اب ایران نے آبنائے پر اپنی خودمختاری کے اعتراف اور بحری جہازوں سے ٹول ٹیکس وصول کرنے کی شرط بھی رکھ دی ہے — ماہانہ 80 کروڑ ڈالر سے زائد۔ نیتن یاہو نے جو آگ لگائی، اس نے ایران کو دنیا کی سیاست کا سب سے طاقتور کھلاڑی بنا دیا۔

40 ممالک کے رہنما برطانیہ کی میزبانی میں ایک ورچوئل اجلاس میں جمع ہوئے تاکہ ایران پر آبنائے کھولنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے — لیکن جنگ شروع کرنے والے دونوں ملک، امریکہ اور اسرائیل، اس اجلاس میں موجود نہیں تھے۔ برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ باقی دنیا کو ان نتائج سے نمٹنا پڑ رہا ہے جو اس جنگ نے پیدا کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے “عالمی شپنگ روٹ کو یرغمال” بنا لیا ہے — لیکن سوال یہ ہے کہ اس یرغمالی صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ وہ جس نے پہلی گولی چلائی یا وہ جس نے جوابی کارروائی کی؟

ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے آبنائے نہیں کھولی تو ایران کے بجلی گھر اور پانی صاف کرنے کے کارخانے تباہ کر دیے جائیں گے — بین الاقوامی قانون کے ماہرین نے اسے جنگی جرائم کی دھمکی قرار دیا۔ جنگ کے 5 ہفتے مکمل ہونے پر امریکہ کے 2 جنگی طیارے گرائے جا چکے تھے جبکہ ایران نے خلیجی ریفائنریوں کو بھی نشانہ بنایا۔ یاد رہے کہ تجزیہ کار ابتداء سے کہتے آئے ہیں کہ یہ جنگ امریکہ کے مفاد میں نہیں — یہ صرف اور صرف نیتن یاہو کے مفاد میں ہے، جو اپنے ملک میں بدعنوانی کے مقدمات سے بچنے کے لیے خطے کو جنگ کی آگ میں جھونک رہا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تبدیلیاں عارضی نہیں رہیں گی — شپنگ انڈسٹری ہمیشہ کے لیے بدل جائے گی، خطرات کا حساب مستقل طور پر نئے سرے سے کرنا پڑے گا۔ ایران نے مزید اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال جنگ سے پہلے والی حالت میں واپس نہیں جائے گی — یعنی جو نقصان ہو چکا وہ ناقابلِ واپسی ہے۔ 4 مارچ سے آبنائے کو باضابطہ طور پر بند قرار دے کر اس میں سے گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں پر حملے شروع ہو گئے، IMO نے کم از کم 18 حملوں کی تصدیق کی اور 5 عملے کے افراد ہلاکت کی تصدیق کی ہے — یہ ہے اس جنگ کی اصل قیمت۔

تاریخ کے صفحات ایک دن ضرور فیصلہ کریں گے — اور جب وہ دن آئے گا تو لکھا جائے گا کہ ایک شخص نے اپنی سیاسی بقاء کے لیے، اپنے مقدمات سے بچنے کے لیے، اور انتہاپسند اتحادیوں کی خوشنودی کے لیے پوری دنیا کو آگ لگا دی۔ لاکھوں لوگ بے گھر، ہزاروں شہید، دنیا کی معیشت چکناچور، آبنائے ہرمز لہو میں رنگی ہوئی — اور نیتن یاہو ابھی بھی اپنے بنکر میں بیٹھا اگلے حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز نے دنیا کو بتا دیا کہ اس جنگ کی قیمت کیا ہے — سوال یہ ہے کہ کیا دنیا یہ قیمت اُس شخص سے وصول کرے گی جس نے یہ آگ لگائی، یا پھر معصوم عوام ہی اس کا بوجھ اٹھاتے رہیں گے؟

قلم کمان : ملک محمد حسیب

Loading