(خواتین کیلئے)
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )شہریار نے اپنے آفس کی ایک لڑکی راحیلہ سے محبت کی شادی کی۔۔۔ وہ ایک غریب بیوہ ماں کا بیٹا اور ایک بڑی بہن کا اکلوتا بھائی تھا۔ بہن شادی شدہ تھی۔ بوڑھی ماں شوگر کی مریض تھی اور تقریبآ نابینا ہی تھی۔
ابتداء میں شہریار راحیلہ میں بالکل دلچسپی نہیں رکھتا تھا۔ مگر راحیلہ اس کے باوجود ہر وقت اس کے آگے پیچھے رہتی، اس کا خیال رکھتی۔۔۔ برتھ ڈے مناتی۔۔۔ مہنگے گفٹ دیتی۔ یہ سب دیکھ دیکھ کر ایک دن شہریار کو بھی اس کی محبت پر یقین آنے لگا۔
مگر شادی سے پہلے احتیاطاً اس نے اپنے گھر کے تمام حالات راحیلہ کے گوش گذار کردئیے۔ راحیلہ ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار تھی۔ اسلئے شادی ہو ہی گئی۔
سب ٹھیک جارہا تھا۔
مگر عین ان دنوں جب راحیلہ اپنی بیٹی کو جنم دینے والی تھی ، شہریار کی بہن بیوہ ہوگئی۔ اور وہ عدت پوری کرنے کیلئے اپنے دو بچوں کے ساتھ بھائی کے گھر آگئی۔
نند کی عدت کے دوران ہی راحیلہ نے اپنی بیٹی کو جنم دیا۔
گھر میں سوگ کی فضا میں جنم لینے والی بچی کیلئے وہ خوشیوں بھرا اہتمام نہ ہوسکا جو ایک نوزائیدہ کیلئے ہر ماں کا خواب ہوتا ہے۔
راحیلہ کا خیال تھا کہ “ٹھیک ہے۔۔۔ بہن بیوہ ہوگئی۔۔۔ بھائی کے گھر رہنے بھی آ گئی” مگر شہریار کو اسوقت پوری دنیا چھوڑ کر صرف اس کے ناز اٹھانے چاہئے تھے، کیونکہ اس نے شدید تکلیفوں کے ساتھ شہریار کی بچی کو جنم دیا ہے۔
سوال نمبر 1.
اس موقعے پر اگر آپ راحیلہ کی جگہہ ہوتیں تو کیا سوچتیں؟
راحیلہ نے نند کے آجانے کو بھی اپنے مستقبل کیلئے خطرہ جانا۔
اسلئے وہ نوزائیدہ بےبی کو “وارم ویلکم” نہ کرنے پر ناراض ہوکر بچی سمیت اپنے میکے چلی گئی۔ جہاں اس بچی کو خوش آمدید کہنے کیلئے پورا ننھیال کھڑا تھا۔
دوسری جانب شہریار ایک عجیب دوراہے پر آ کھڑا ہوا۔
ایک طرف بیوہ بہن عدت میں بیٹھی تھی، ماں بیمار اور تقریبآ نابینا تھی۔
دوسری طرف پیار کرنے والی بیوی تھی اور اس کی اپنی نوزائیدہ بیٹی تھی۔۔۔ جسے وہ پیدائشی پروٹوکول بھی نہیں دے پایا تھا۔
اس کا خیال تھا کہ راحیلہ موقعے کی نزاکت کو سمجھ لے گی۔
مگر ایسا نہ ہوسکا۔
راحیلہ کا خیال رکھنے کیلئے اس کا پورا میکہ کھڑا تھا
مگر شہریار کی بیوہ بہن اور نابینا ماں کے ساتھ شہریار اکیلا تھا۔۔۔۔ سو اس نے راحیلہ کے مقابلے میں ماں اور بہن کے ساتھ کھڑے رہنے کا فیصلہ کیا۔
سوال نمبر 2۔
کیا شہریار نے درست فیصلہ کیا؟
کہانی آگے بڑھاتے ہیں۔
دوریاں بڑھیں۔۔۔۔ اور پھر دوبارہ کم نہ ہو سکیں۔
نوبت طلاق تک پہنچ گئی۔
بالآخر قصہ تمام ہوا۔
آج اس واقعے کو تیس برس سے زائد گذر چکے ہیں
اس دوران شہریار نے اپنی بہن کا نکاح اپنے ایک دوست کے بےاولاد بھائی سے کردیا جس کی پہلی بیوی نے اسے دوسری شادی کی اجازت دے رکھی تھی۔
سوال نمبر 3.
کیا شہریار کے بہنوئی کی پہلی بیوی نے اجازت دے کر اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لی؟
یا اس نے مجبوری میں یہ فیصلہ کیا؟
بہن رخصت ہوکر بچوں سمیت اپنے گھر جاچکی تھی اور دو سال بعد ماں کا بھی انتقال ہوگیا۔
تب بہن بہنوئی کے اصرار پر اس نے سائرہ سے نکاح کرلیا۔
سائرہ ایک غریب گھر کی کنواری لڑکی تھی۔ جس کی شادی اس کی غربت کی وجہ سے اب تک نہ ہوسکی تھی۔
شہریار سے شادی کے بعد اسے آسودگی نصیب ہوئی تو آہستہ آہستہ اس کے خرچے بڑھنے لگے۔ وہ مہنگے برانڈڈ کپڑوں اور جوتوں میں بےدریغ پیسہ خرچ کرنے لگی۔
اسی دوران ان کے بچے بھی ہوگئے۔ جب بچے بھی اسکول جانے لگے اور اخراجات حد سے بڑھنے لگے تو گھر میں خوب توتو میں میں ہونے لگی۔
ایسے ہی ایک جھگڑے میں سائرہ نے الزام لگایا کہ شہریار اپنی مطلقہ بیوی راحیلہ اور اپنی بیٹی پر نان نفقے کے نام پر زیادہ خرچ کرتا ہے۔ اسی لئے خرچے میں تنگی ہوتی ہے۔
شہریار یہ الزام سن کر حیران رہ گیا۔
کیونکہ حقیقت یہ تھی کہ راحیلہ نے طلاق کے بعد سے اس سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں رکھا تھا۔ حتی کہ اس کی پوری کوشش کے باوجود راحیلہ نے اپنی بیٹی کو بھی شہریار سے ملنے نہیں دیا تھا اور ملک چھوڑ کر اپنے بھائی کے پاس بحرین چلی گئی تھی۔
سوال نمبر 4۔
اگر آپ راحیلہ کی جگہہ ہوتیں تو کیا آپ بھی یہی کرتیں؟
سائرہ کے اس الزام کے بعد شہریار کو اچانک اپنی بیٹی یاد آنے لگی۔ اس نے کبھی اپنی بیٹی کی شکل تک نہیں دیکھی تھی۔
اسے لگا کہ وہ اپنی بیٹی کا مجرم ہے۔
سوال نمبر 5.
کیا آپ سمجھتی ہیں کہ شہریار۔۔۔ واقعی اپنی بیٹی کا مجرم ہے؟
شہریار ہر وقت سوچوں میں گم رہنے لگا۔
اس کی نیند بھی کم ہوگئی۔
آہستہ آہستہ وہ ذیابیطس کا مریض بن گیا۔
اپنی بیماری کی باعث جب اسے تھکن زیادہ ہونے لگی تو اس نے اپنی پارٹ ٹائم جاب چھوڑ دی۔ جو اس نے گھر کے بےمہار اخراجات کو اٹھانے کیلئے شروع کی تھی۔ خرچے میں مزید تنگی ہوئی تو سائرہ نے آئے دن چیخ پکار کر کر کے شہریار کا دماغ خراب کرنا شروع کردیا۔
سوال نمبر 6.
کیا شہریار کو اپنی صحت کی خاطر پارٹ ٹائم جاب چھوڑنی چاہئے تھی؟
یا آپ سائرہ کی طرح شہریار کے اس عمل کو آرام طلبی اور خود غرضی کہیں گی؟
شہریار کیلئے یہ دن بہت کٹھن تھے۔
بچے دن بدن بدتمیز ہورہے تھے۔
بیوی ہر وقت سر کھاتی رہتی تھی۔
بہن اپنے بھائی کی حالت دیکھ کر کڑھتی رہتی تھی۔ کہ ایک دن اچانک شہریار کو ایک کال موصول ہوئی۔
یہ اس کی بیٹی کی کال تھی۔
جو ان دنوں پاکستان آئی ہوئی تھی۔ اس کی شادی کراچی میں ہورہی تھی۔ اور وہ چاہتی تھی کہ اس کا باپ اس کی رخصتی کے وقت موجود ہو۔
اچانک بیٹی کا مل جانا
اور اس کا خود اپنی شادی میں مدعو کرنا
شہریار کو جیسے تازہ ہوا مل گئی۔ اس نے بیٹی سے ملنے کا وعدہ کیا۔ بیٹی کی رخصتی سے پہلے اس سے مل کر اس کے ہاتھ پر دس ہزار روپے رکھے کہ اس سے زیادہ وہ دے ہی نہیں سکتا تھا۔
بیٹی کو رخصت کرکے گھر آیا تو پتہ چلا کہ سائرہ اس بات پر ناراض ہوکر تینوں بچے لے کر اپنے گھر جا چکی ہے۔
سوال نمبر 7.
گھر میں خرچے کی تنگی کے باوجود شہریار کا اپنی بیٹی کو دس ہزار روپے دینا۔۔۔ کیا مناسب فیصلہ تھا؟
کیا بیٹی کو زندگی میں پہلی بار کچھ دینے کا حق اسے نہیں ملنا چاہئے تھا؟
اس کے باوجود ۔۔۔۔۔ وہ سائرہ کو لینے سسرال گیا
مگر اس نے آنے سے انکار کردیا۔
ناکام و نامراد گھر آیا ۔۔۔ اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔ نجانے کب آنکھ لگی۔
جاگا ۔۔۔۔ تو دماغ پلٹ چکا تھا۔
گھر سے ننگے پاؤں نکل کر نجانے کہاں کہاں مارا مارا پھرتا رہا۔
آج وہ ایک اولڈ ہوم میں بیچارگی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ایک سچی کہانی ہے۔ جس کے کرداروں اور جگہوں کے نام تبدیل کردئیے گئے ہیں۔
اس تحریر کو “ہفتہ صحت برائے مرد حضرات” ( Men’s health week ) کے تناظر میں لکھا گیا ہے۔ جو کہ 12 جون سے 18 جون تک منایا جارہا ہے۔
خواتین سے گذارش ہے کہ کمنٹ میں کسی سوال کا جواب مت دیجئے۔
بس۔۔۔ یہ سوالات اپنے آپ سے پوچھئے۔
خود ہی اپنے آپ کو جواب دیجئے ۔۔۔۔ اور جانئے کہ
کیا واقعی مرد ہمیشہ ظالم ہی ہوتا ہے
یا ایک ہی وقت میں کسی کیلئے ظالم۔۔۔ اور کسی کیلئے چھتنار درخت ہوتا ہے۔
کہانی لکھنے کا مقصد خواتین کو محض یہ بتانا ہے کہ ہر بار غلطی مرد کی نہیں ہوتی۔ ہر مرد ظالم بھی نہیں ہوتا بلکہ۔۔۔ اس دنیا میں “شہریار” بھی پائے جاتے ہیں۔
جو ماں اور بہن کو چھوڑ دیں تو جہنمی اور سنگدل کہلاتے ہیں۔
بیوی اور بچوں کو چھوڑ دیں تو لاپرواہ اور غیرذمہ دار کہلاتے ہیں۔
ان شہریاروں کی زندگی میں آنے والی ہر عورت اپنے حصے کے شہریار پر صرف اپنا حق سمجھتی ہے۔
وہ کسی دوسری عورت کو برداشت کرنے پر تیار نہیں۔
ایسے شہریار اکثر اوقات۔۔۔۔ سمندر کنارے مردہ پائے جاتے ہیں۔
یا پھر اس کہانی کی طرح اولڈ ایج ہوم۔۔۔۔ یا پاگل خانوں میں پائے جاتے ہیں۔
ان کیلئے آواز اٹھانے والا کوئی نہیں۔
خوش رہئے۔۔۔ خوش رہنا سیکھئے۔۔۔۔ خوش رکھنا سیکھئے۔
اسی میں کل عالم کی بقا ہے۔ جگھڑا مرد عورت کا نہیں۔۔۔ جھگڑا ازل سے محض شیطان اور انسان کا ہے۔
اور بس۔۔۔!
![]()

