ایک عابد کا عبرتناک واقعہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مجلس میں ایک مرتبہ بنی اسرائیل کے ایک عابد کا عبہ تناک واقعہ بیان فرمایا تھا کہ شیطان کس طرح انسان کے دل میں گناہ کا وسوسہ ڈالتا ہے اور آہستہ آہستہ کس طرح انسان کو اصل گناہ میں مبتلا کرتا ہے اور کیسے کیسے گناہ کروا دیتا ہے۔
یہ بڑا عبرتناک واقعہ ہے، ہم سب کو اس سے سبق لینا چاہئے، تاکہ ہم بھی نفس و شیطان کے مخفی ہتھیاروں سے ہوشیار رہیں، اور اپنے آپ کو ان سے بچانے کی کوشش کریں۔
چنانچہ فرمایا کہ بنی اسرائیل میں ایک بہت بڑا عابد وزاہد آدمی تھا جو دن رات عبادت میں لگا رہتا تھا، بنی اسرائیل میں اس کی عبادت مشہور و معروف تھی، لوگ دور دور سے اس کے پاس آتے اور اس سے پانی پر دم کراتے اور دعا کراتے۔ اس طرح اس کو عوام کے اندر بڑی مقبولیت حاصل تھی۔
اس بزرگ کے پاس دو بھائی بھی آیا کرتے تھے، ان کی ایک کنواری بہن تھی، ان کے والد اور والدہ وغیرہ اور دوسرے رشتہ دار نہیں تھے، بس یہ تین ہی افراد تھے، ایک مرتبہ ان دونوں بھائیوں کو کسی دور دراز کے سفر پر جانا ضروری ہو گیا، اب ان دونوں کو یہ فکر ہوئی کہ ہم اپنی بہن کو کس کے پاس چھوڑ کر جائیں، کوئی رشتہ دار یا معتبر آدمی نہیں ہے جس کے پاس بہن کو چھوڑ کر جائیں۔ اسی فکر اور پریشانی میں تھے کہ ان کو خیال آیا کہ یہ عابد اور بزرگ شخص جو ہیں، ان سے زیادہ قابل اعتماد کون ہو گا، بس ان کے پاس چھوڑ دیتے ہیں۔
چنانچہ دونوں بھائی ان بزرگ کے پاس گئے اور جاکر درخواست کی کہ ہم دونوں ایک سفر پر جا رہے ہیں اور جانا بھی ضروری ہے اور اس بہن کو اکیلا بھی نہیں چھوڑ سکتے اور سفر میں بھی ساتھ نہیں لے جاسکتے، اس لئے ہم اس کو آپ کے پاس چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔ پہلے تو ان بزرگ نے صاف انکار کر دیا، لیکن جب ان دونوں بھائیوں نے بہت اصرار کیا تو انہوں نے کہا کہ اچھا اس کو خانقاہ کے فلاں کمرے میں چھوڑ دو، میں اس کے کھانے پینے کا انتظام کردوں گا۔ چنانچہ وہ دونوں بھائی اپنی بہن کو اس کے پاس چھوڑ کر سفر پر روانہ ہو گئے۔
اب وہ بہن خانقاہ کے ایک کمرے میں رہنے لگی، یہ عابد اس کو کھانا بھیجوا دیتا تھا، پھر خالی برتن واپس منگوالیا کرتا تھا۔ اب شیطان نے اس عابد کے دل میں خیال ڈالا کہ یہ دونوں بھائی تو مخلص مریدوں میں سے ہیں اور یہ ان کی بہن ہے، اب میں اس کو اس طرح کھانا بھیجوا دیتا ہوں، یہ تو مناسب بات نہیں ہے، کبھی خود جاکر بھی کھانا دے دینا چاہئے۔ چنانچہ اب کبھی کبھی وہ عابد صاحب خود جاکر کھانا پہنچا دیتے، لیکن کھانا دینے کا وہی طریقہ رکھا کہ کھانا باہر دروازے کے پاس رکھ دیا اور اس بہن نے اندر سے ہاتھ بڑھا کر کھانا اٹھا لیا، اور کھانے سے فارغ ہونے کے بعد برتن اس نے باہر رکھ دیئے اور یہ اٹھا کر لے آئے۔
دیکھئے ! شیطان نے گناہ کرانے کے لئے پہلا خیال دل میں ڈال دیا۔ اگر وہ عابد اس موقع پر اپنے آپ کو بچا لیتا تو آئندہ کے مراحل پر بھی اس کے لئے بچنا آسان ہو جاتا، لیکن وہ عابد اس پہلے مرحلے پر اپنے آپ کو نہ بچا سکا۔ اب شیطان نے اس کے دل میں دوسرا وسوسہ ڈالا کہ یہ کیا تم نے اس کو اچھوت بنا کر رکھا ہوا ہے کہ بس کھانا رکھا اور آگئے اور پھر برتن لے کر واپس آگئے۔ یہ بھی کوئی طریقہ ہے، آخر وہ بھی تو انسان ہے، اس کا تو یہاں پر کوئی بھائی نہیں، کوئی بہن نہیں، کوئی ماں نہیں، کوئی باپ نہیں، کبھی کھانا پہنچانے کے ساتھ اس کو سلام کرنا چاہئے اور خیریت بھی پوچھ لینی چاہئے۔ اب یہ دوسرا مرحلہ آگیا۔ چنانچہ ان عابد صاحب نے اس کو سلام کرنا اور خیریت پوچھنی شروع کر دی۔
کچھ دن کے بعد شیطان نے تیسرا وسوسہ ڈالا کہ باہر سے خیریت پوچھنے سے کیا فائدہ، کبھی اندر کمرے میں جاکر بھی خیریت پوچھنی چاہئے تاکہ اس کو کچھ انس ہو جائے ، کیونکہ وہ تو بیچاری اکیلی کمرے میں بند ہے، نہ تو اس کا کوئی ہمدرد ہے، نہ کوئی خیر خواہ ہے۔ چنانچہ اس عابد نے اس خیال پر بھی عمل کر لیا اور اب کمرے کے اندر جانے لگا اور دو چار خیریت کے جملے کہہ کر کھانا دے کر اور برتن لے کر واپس آجاتا۔
پھر شیطان نے چوتھا وسوسہ ڈالا کہ کچھ دیر اس کے پاس بیٹھنا بھی چاہئے، کم از کم دس منٹ اس کے پاس بیٹھنا بھی چاہئے۔ چنانچہ وہ عابد اس کے پاس دس پندرہ منٹ بیٹھنے لگا۔ آپ جانتے ہیں کہ اگر کسی کمرے میں مرد اور عورت اکیلے ہوں تو لازماً تیسرا وہاں شیطان ہوتا ہے۔
آہستہ آہستہ شیطان نے دونوں کو گناہ کے اندر مبتلا کر دیا۔ دیکھئے، پہلے وسوسے نے اس کو کہاں سے کہاں تک پہنچادیا۔
ظاہر ہے کہ گناہ میں مبتلا ہونے کے بعد آدمی کو بڑی شرمندگی ہوتی ہے اور آدمی اپنے عیب کو چھپانے کی بھر پور کوشش کرتا ہے۔ یا تو وہ ایسا بے غیرت ہو جاتا ہے کہ اس کو اس کی کوئی پرواہ ہی نہیں ہوتی اور اگر تھوڑی بہت غیرت ہوتی ہے تو وہ اس عیب کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ چنانچہ اس عابد نے اس عورت سے کہا کہ تم کسی کو مت بتانا، اور جب تمہارے بھائی آجائیں تو ان کو بھی مت بتانا۔ اس کے بعد اس عورت کے بچہ پیدا ہو گیا، اب اس عابد کو اپنی عزت کی فکر ہو گئی، سب لوگ یہ کہیں گے کہ اس کے بچہ کیسے پیدا ہو گیا؟ اس کا تو کسی سے نکاح ہی نہیں ہوا تھا۔ اس بدنامی سے بچنے کے لئے اس عابد نے اس بچے کو قتل کر دیا۔ اب بچے کو قتل کرنے کے بعد اس عابد کو یہ فکر ہوئی کہ یہ عورت تو اپنے بھائی کو ہر حال میں بتادے گی، یہ کیسے مجھے معاف کر دے گی، میں نے تو اس کے بچے کو قتل کر دیا۔ اب شیطان نے یہ وسوسہ ڈالا کہ اس عورت کو بھی قتل کر دو، نہ بچہ رہے گا اور نہ بچے کی ماں رہے گی۔ اور جب اس کے بھائی واپس آئیں گے تو بتادوں گا کہ تمہاری بہن کا تو انتقال ہو گیا۔ چنانچہ اس نے اس عورت کو بھی قتل کر دیا اور دونوں کو ایک قبر میں دفن کر دیا۔
لیکن شیطان نے اس پر اکتفا نہیں کیا، شیطان نے سوچا کہ اس نے سب کچھ کر لیا لیکن ابھی تو اس کی دنیاوی عزت باقی ہے۔ لہذا جب اس عورت کے دونوں بھائی سفر سے واپس آئے تو وہ دونوں اس عابد سے اور اپنی بہن سے ملنے گئے، جب عابد سے ملاقات ہوئی اور اپنی بہن کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس کا تو انتقال ہو گیا۔ اس عابد نے جھوٹ بھی بول دیا۔ اس طرح شیطان نے ایک اور گناہ کرا دیا۔ چونکہ وہ دونوں بھائی اس پر اعتماد کر کے اپنی بہن اس کے پاس چھوڑ گئے تھے، اس لئے دونوں نے اس کی بات پر یقین کر لیا کہ ہاں اس کا انتقال ہو گیا ہو گا،
چنانچہ دونوں کے درمیان رابطہ بڑھتا رہا حتی کہ زندگی اور موت کا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔
لیکن شیطان کہاں پیچھا چھوڑنے والا تھا، اس نے سوچا کہ میں نے اس عابد سے یہ سب کام کرا کے اس کی آخرت تو برباد کرادی مگر ابھی دنیاوی عزت و احترام اس کا باقی ہے۔ لہٰذا اس نے اس پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ وہ شیطان ان دونوں بھائیوں کے پاس خواب میں آگیا اور کہا کہ تمہاری بہن کہاں ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس کا تو انتقال ہو گیا۔ شیطان نے کہا کہ کیسے انتقال ہو گیا؟ اس کا انتقال نہیں ہوا بلکہ اس عابد اس کو قتل کیا ہے۔ یاد رکھئے !
شیطانی خواب بھی ہوتے ہیں اور رحمانی خواب بھی ہوتے ہیں اور نفسانی خواب بھی ہوتے ہیں۔ یہ خواب شیطانی خواب تھا، خواب میں شیطان نے دونوں بھائیوں سے کہا کہ تم دونوں جا کر تحقیق کرو، عابد نے تمہاری بہن کو قتل کیا ہے، اس کا انتقال نہیں ہوا، اس عابد نے تم سے جھوٹ بولا ہے۔ اس خواب کے نتیجے میں ان کو بھی شبہ ہو گیا۔ چنانچہ ان دونوں نے تحقیق کے لئے مشورہ کیا کہ قبر کھود کر ہم تحقیق کر لیتے ہیں، اس میں کیا حرج ہے، اس سے ہمارا شبہ دور ہو جائے گا۔ اب جب قبر کھود کر دیکھی تو پتہ چلا کہ بہن کو بھی قتل کیا گیا ہے اور اس کے بچے کو بھی قتل کیا گیا ہے اور یہ بچہ اس سے بدکاری کے نتیجے میں پیدا ہوا ہو گا۔
اب دونوں نے جاکر عابد کو پکڑلیا، حقیقت میں وہ قاتل تھا ہی، اس نے جرم کا اقرار کر لیا کہ ہاں مجھ سے یہ غلطی ہوتی ہے۔ بس ان دونوں بھائیوں کو غصہ آگیا، انہوں نے عابد کو پکڑ کر اس کے پیروں میں رسی باندھی اور اس کا منہ کالا کیا، اور پورے شہر میں سڑکوں پر اس کو گھیٹا، تاکہ لوگ اس کا منظر دیکھیں اور اس طرح اس کو ذلیل کر دیا۔ آج تک پورے شہر میں جس کی عبادت کی شہرت تھی، آج پورے شہر میں اس کی ذلت اور رسوائی عام ہو رہی ہے، اس کی عبادت بھی برباد ہوئی، عزت بھی برباد ہوئی، ذلت اور رسوائی پوری دنیا کے سامنے آگئی۔
یہ ہے شیطان کی کارستانی۔ دیکھئے ! شیطان نے سب سے پہلے اس عابد کے پاس آکر یہ نہیں کہا کہ تو یہ گناہ کرلے، اور نہ ہی شیطان کسی سے یہ کہتا ہے کہ تم نماز مت پڑھو یا رشوت لے لو یا سود کھالو، بلکہ وہ شیطان پہلے مختلف گناہوں اور
خیالات دل میں ڈالتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ انسان ان خیالات کو قبول کرتا رہتا ہے اور ان پر عمل کرتا رہتا ہے، آخر کار انسان اس بدترین گناہ کے اندر مبتلا ہو جاتا
حوالہ ۔ اصلاحی بیانات جلد 2 صفحہ 57
اچھی باتیں کوئی بھی شیئر نہیں کرتا ناچ گانے اور گناہ کی باتیں شیئر کرتے ہیں برائے مہربانی لائک شیئر اور فالو کر لیں شُکریہ
![]()

