Daily Roshni News

ایک عجیب کیفیت۔۔۔انتخاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔  میاں عمران

ایک عجیب کیفیت

انتخاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔  میاں عمران

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔۔  میاں عمران)یہ جملہ انسانی نفسیات کی ایک ایسی گہرائی کی عکاسی کرتا ہے جہاں بصیرت (Intuition) اور عمل (Action) کے درمیان ٹکراؤ پایا جاتا ہے۔ اس کی مکمل وضاحت درج ذیل نکات سے کی جا سکتی ہے:

  1. تیز حس اور بدگمانی (The Sharp Intuition):

اس کا مطلب ہے کہ آپ کی ‘چھٹی حس’ بہت تیز ہے۔ آپ لوگوں کے بدلتے ہوئے رویوں، چھپے ہوئے خطروں یا حالات کی سنگینی کو وقت سے پہلے بھانپ لیتے ہیں۔ آپ کا شک محض وہم نہیں ہوتا بلکہ مشاہدے پر مبنی ہوتا ہے، اسی لیے وہ اکثر سچ ثابت ہوتا ہے۔

  1. جذباتی فیصلے (Emotional Decision Making):

جب باری آتی ہے اس شک پر عمل کرنے کی، تو وہاں ‘فیصلہ غلط’ ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ شک درست ہونے کے باوجود آپ اس پر ردِعمل دیتے وقت جذبات (غصہ، خوف یا جلد بازی) سے کام لیتے ہیں۔ ایک صحیح بات کو غلط طریقے سے مینیج کرنا ہی فیصلے کو غلط بنا دیتا ہے۔

  1. حد سے زیادہ سوچنا (Overthinking):

ایسا شخص اکثر حالات کا تجزیہ تو درست کر لیتا ہے، لیکن عمل کے وقت وہ مصلحتوں کا شکار ہو جاتا ہے یا پھر اتنا زیادہ سوچتا ہے کہ صحیح وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے، اور آخر میں کیا گیا فیصلہ الٹا نقصان پہنچا دیتا ہے۔

  1. خود اعتمادی کی کمی:

یہ جملہ ایک ایسے انسان کی بھی تصویر ہے جو اپنی سوچ پر تو یقین رکھتا ہے لیکن اپنے عمل پر اسے بھروسہ نہیں۔ وہ جانتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے، مگر اسے سنبھالنے کا ہنر یا ہمت نہیں جٹا پاتا۔

خلاصہ:

یہ ایک ایسی کیفیت ہے جہاں انسان ذہین تو ہے مگر حکمتِ عملی (Strategy) میں کچا ہے۔ آپ خطرے کو پہچان تو لیتے ہیں لیکن اس سے بچنے کا راستہ غلط چن لیتے ہیں۔

کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے فیصلے اکثر جلد بازی کی وجہ سے غلط ہوتے ہیں یا لوگوں کے دباؤ میں آ کر؟

Loading