Daily Roshni News

بابا تاج الدین اولیا ءؒ۔۔۔قسط نمبر(3)

بابا تاج الدین اولیا ءؒ

قسط نمبر(3)

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اگست 2019

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ بابا تاج الدین اولیا ءؒ) بابا صاحب “میرے کوئی لڑکا نہیں ہے ۔ میرے لیے دعا کریں۔ بابا صاحب نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ ڈاکٹروں کی دوائیاں تو بہت کھاتے جی ، پن لڑکا نہیں ہو تا۔ “

یہ سُن کر وہ بیچاری رونے لگی اور پھر عرض کیا کہ بابا صاحب ….! لوگوں کی مرادیں پوری ہو رہی ہیں، میرے لیے بھی مہربانی فرمائی جائے۔ آپ نے یہ سُن کر پوچھا: لڑکیاں کتنی جی…؟”

کےتو اس نے جواب دیا کہ لڑکیاں تو پانچ ہیں …. بابا صاحب نے فرمایا۔ ” اگر لڑکیاں پانچ ہیں تو لڑ کے بھی پانچ ہو جاتے جی … ! ، یہ خوشخبری سن کر ڈاکٹر کی بیوی واپس گھر آگئی۔ خدا کی شان کہ ایک سال بعد اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوا۔

 ڈاکٹر ماروتی راؤ کی بیوی نے لڑکے کو حضور بابا صاحب کے قدموں میں رکھ دیا۔ بابا صاحب نے ایک نظر دیکھا اور تبسم کے ساتھ فرمایا کہ “ابھی تو آئے اور وہاں ان سے کئی کرامات کا ظہور ہوا۔ اسی دوران ناگپور کے مرہٹہ راجہ مہاراجہ گھوراؤ جی بھونسلے پٹیل کے بیٹے و نائیک راؤ کی بیوی زچگی کے مرحلے میں نازک صورتحال سے دوچار تھیں ۔ بڑے بڑے ڈاکٹر ، وید، حکیم موجود تھے۔ مگر کسی قسم کا کوئی افاقہ نہیں ہو رہا تھا۔ ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ حاملہ کے رحم میں بچہ مر چکا تھا۔ اب زچہ کی جان بچانے چار اور آتے جی! لے جانا، یہ خوش رہے گا۔“ پاگل خانے میں بند ہونے کے بعد بھی اکثر بابا تاج الدین شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں گھومتے نظرلیے آپریشن کی ضرورت ہو گی۔ جسم میں زہر پھیل گیا تو پھر اس کے زندہ رہنے کی کوئی امید نہیں۔ مہاراجہ ڈاکٹروں کو آپریشن کی اجازت نہیں دے رہا تھا ، ادھر بہو کی طبیعت بگڑتی جارہی تھی۔ اسی دوران مہاراجہ کے ایک ڈرائیور نے جو بابا صاحب کا بے حد معتقد تھا۔ مہاراجہ سے کہا کہ : میں ایک مسلمان ولی کو جانتا ہوں۔ آپ ان کے پاس چلیے اور دعا کی درخواست کیجئے ۔ شاید کوئی سبب بن جائے۔“ مہاراجہ نے ڈرائیور کی بات سنتے ہی کہا کہ : ہاں چلو جلد سے جلد ہمیں ان کے پاس لے چلو“۔ اور اسی طرح ننگے پیر گاڑی میں بیٹھ گیا، راجہ صاحب کی موٹر پاگل خانے کے صدر دروازے پر جا کر ز کی تو لوگ راجا صاحب کے استقبال کو دوڑے لیکن وہ سب کو نظر انداز کرتے ہوئے تیزی سے اندر داخل ہو گئے۔ اندر پہنچتے ہی انہوں نے بابا صاحب کے قدموں میں خود کو گرا لیا۔ ان کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا اور صدمے کی وجہ سے ان کی زبان گنگ تھی۔

 بابا نے سر اُٹھا کر انہیں دیکھا اور بولے: ادھر کیا کرتے جی حضنت ! ادھر جانا، لڑکا پیدا ہوا ہے تو خوشیاں منانا ….!” ڈرائیور نے یہ سنتے ہی کہا کہ مہاراجہ جلد واپس چلیے۔ کام ہو گیا ہے۔ مہاراجہ جب محل میں پہنچا تو خادموں نے دروازے پر ہی مہاراجہ کو مبارک باد دی اور خوشخبری سنائی کہ آپ کی بہو کو بیٹا ہوا ہے اورزچہ و بچہ دونوں خیریت سے ہیں۔ اس واقعے کے بعد مہاراجہ کا اعتقاد بابا صاحب پر۔۔۔جاری ہے۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اگست 2019

Loading