Daily Roshni News

تاریخِ اسلام کی ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن جنگ

تاریخِ اسلام کی ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن جنگ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جنگِ انقرہ، جسے جنگِ آنقرہ یا جنگِ انگورہ بھی کہا جاتا ہے، تاریخِ اسلام کی ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن جنگ تھی جو 20 جولائی 1402ء  کو موجودہ ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے قریب دشتِ چوبوک میں لڑی گئی۔ ایک جانب سلطنتِ عثمانیہ کا طاقتور حکمران سلطان بایزید اول یلدرم تھا اور دوسری جانب تیموری سلطنت کا بانی اور فاتحِ عالم امیر تیمور۔ یہ مقابلہ محض دو بادشاہوں کے درمیان نہیں بلکہ دو ابھرتی ہوئی عظیم سلطنتوں، دو بلند حوصلہ فاتح حکمرانوں اور دو مختلف عسکری و سیاسی اندازِ حکمرانی کے درمیان برتری کی جنگ تھا، جس کے نتائج نے پورے خطے کی تاریخ کا دھارا بدل دیا۔

اس جنگ کے اسباب دونوں سلطنتوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طاقت اور سرحدی مفادات کے ٹکراؤ میں پوشیدہ تھے۔ امیر تیمور وسطی ایشیا، فارس، عراق اور ہندوستان کے بعض حصوں کو فتح کر کے ایک وسیع سلطنت قائم کر چکا تھا، جبکہ سلطان بایزید یلدرم بلقان میں فتوحات حاصل کر چکا تھا اور بازنطینی سلطنت کے دارالحکومت قسطنطنیہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھا۔ دونوں سلطنتیں پھیلتے پھیلتے اناطولیہ میں ایک دوسرے کے بالمقابل آ گئیں۔ اس دوران تیمور کے حلیف بعض امراء نے بایزید کے خلاف بغاوت کی تو بایزید نے انہیں پناہ دی، جس پر دونوں حکمرانوں کے درمیان تند و تیز اور اہانت آمیز خطوط کا تبادلہ ہوا۔ روایت ہے کہ تیمور نے بایزید کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا اور سخت نتائج کی دھمکی دی، جبکہ بایزید کے جوابی خط نے اس کشیدگی کو جنگ میں بدل دیا۔ بالآخر جب تیمور نے عثمانی علاقے سیواس پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا تو بایزید نے قسطنطنیہ کا محاصرہ چھوڑ کر تیمور سے براہِ راست مقابلے کا فیصلہ کیا۔

جنگ سے قبل دونوں افواج کی ترتیب اور طاقت قابلِ ذکر تھی۔ تیمور کے پاس تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار سپاہیوں پر مشتمل فوج تھی، جس میں زیادہ تر ماہر سوار اور تیرانداز شامل تھے، ساتھ ہی بتیس جنگی ہاتھی بھی تھے جو دشمن کے لشکر میں خوف پھیلانے کے لیے استعمال کیے گئے۔ تیمور خود مرکز میں موجود تھا جبکہ اس کے بیٹے میران شاہ اور شاہ رخ دائیں اور بائیں بازو کی کمان سنبھالے ہوئے تھے۔ دوسری جانب سلطان بایزید کی فوج تقریباً پچاسی ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھی، جس میں ینی چری، بلقان کے مسیحی اتحادی دستے، خصوصاً صرب فوج، اور اناطولیہ کی ترکمان ریاستوں کے سپاہی شامل تھے۔ بایزید نے مرکز کی کمان سنبھالی، اس کا بیٹا سلیمان چلبی بائیں بازو پر تھا اور صرب سردار استفان لازاروویچ دائیں بازو کی قیادت کر رہا تھا۔

تیمور نے جنگ سے پہلے غیر معمولی عسکری ذہانت کا مظاہرہ کیا۔ اس نے بظاہر شمال کی جانب پیش قدمی کا تاثر دیا مگر درحقیقت اپنی فوج کو جنوب مغرب کی طرف لے جا کر انقرہ کے قریب ڈیرہ ڈال دیا، جہاں سے عثمانی فوج پہلے گزر چکی تھی۔ اس چال سے تیمور عثمانی لشکر کے عقب میں آ گیا اور اس نے علاقے کے اہم پانی کے چشموں پر قبضہ کر لیا۔ جب بایزید کو یہ خبر ملی تو اسے تیزی سے واپس پلٹنا پڑا، جس کے باعث عثمانی فوج طویل اور تھکا دینے والے مارچ کے بعد شدید پیاس اور تھکن کی حالت میں میدانِ جنگ میں پہنچی۔

جنگ کا آغاز عثمانی فوج کے زبردست حملے سے ہوا۔ صرب سردار استفان لازاروویچ کے بھاری اسلحہ سے لیس دستوں نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین مرتبہ تیموری صفوں کو چیر دیا، یہاں تک کہ خود تیمور نے ان کی جرات کی تعریف کی۔ تاہم دن چڑھنے کے ساتھ ہی جنگ کا پانسہ پلٹنے لگا۔ شدید گرمی، پانی کی قلت اور تھکن نے عثمانی سپاہیوں کی قوت توڑ دی، جبکہ تیمور کی جانب سے پانی کے تمام ذرائع پر قبضہ عثمانیوں کے لیے مہلک ثابت ہوا۔ اس پر مستزاد یہ کہ عثمانی فوج کے کچھ دستے، جو حال ہی میں سلطنت میں شامل ہوئے تھے، بغاوت کر گئے یا دورانِ جنگ تیمور سے جا ملے۔ ان میں تاتار اور اناطولیہ کی بعض ترکمان ریاستوں کے سپاہی شامل تھے جو بایزید کی سخت پالیسیوں سے نالاں تھے۔

جب سلطان بایزید نے اپنی فوج کو بکھرتے اور صفوں کو ٹوٹتے دیکھا تو اس نے چند سو سواروں کے ساتھ پہاڑیوں کی جانب نکلنے کی کوشش کی، مگر تیموری افواج نے اسے گھیر لیا۔ سلطان بایزید یلدرم، ان کی بیوی اور ایک بیٹا گرفتار ہو گئے۔ اس جنگ میں دونوں طرف بھاری جانی نقصان ہوا اور اندازاً چالیس ہزار سے زائد عثمانی اور تقریباً اتنے ہی تیموری سپاہی ہلاک یا زخمی ہوئے۔

جنگ کے فوری نتائج عثمانی سلطنت کے لیے تباہ کن ثابت ہوئے۔ ایک مضبوط اور منظم سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا اور بایزید کے بیٹوں کے درمیان تخت کے حصول کے لیے خانہ جنگی شروع ہو گئی جو 1413ء تک جاری رہی۔ یہ تاریخ میں واحد موقع تھا جب ایک عثمانی سلطان جنگ میں گرفتار ہوا۔ سلطان بایزید کو قید میں رکھا گیا اور وہ 1403ء میں وفات پا گیا۔ اس شکست کا ایک اہم نتیجہ یہ بھی نکلا کہ بازنطینی سلطنت کو قسطنطنیہ کی فتح سے تقریباً پچاس سال کی مہلت مل گئی، جو بالآخر 1453ء میں سلطان محمد فاتح کے ہاتھوں فتح ہوا۔

طویل المدتی اعتبار سے یہ جنگ ایک حیران کن سبق بھی ثابت ہوئی۔ فتح کے باوجود تیموری سلطنت تیمور کی وفات کے بعد جلد کمزور پڑ گئی، جبکہ عثمانی سلطنت بایزید کے بیٹے محمد اول کی حکمت، صبر اور تنظیم نو کے باعث دوبارہ مضبوط ہو کر ابھری۔ یہ جنگ اس حقیقت کی واضح مثال ہے کہ محض عسکری طاقت کافی نہیں ہوتی بلکہ سیاسی بصیرت، اتحادیوں کے ساتھ دانشمندانہ سلوک اور حالات کے مطابق حکمتِ عملی میں لچک فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔

یوں جنگِ انقرہ ایک ایسا تاریخی واقعہ ثابت ہوئی جس نے عثمانی سلطنت کو بظاہر خاتمے کے دہانے تک پہنچا دیا، مگر اسی آزمائش نے اس سلطنت کو خود احتسابی، تنظیمِ نو اور مستقبل کی عظیم فتوحات کے لیے تیار بھی کیا۔ یہ محض ایک شکست نہیں بلکہ عثمانی تاریخ کا وہ کڑا مرحلہ تھا جسے انہوں نے اپنی قوتِ ارادی اور تدبر سے عبور کر کے ایک بار پھر تاریخ کے افق پر ابھر کر دکھایا۔

Loading