Daily Roshni News

تفہیم بانگ درا حصہ سوم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تفہیم بانگ درا حصہ سوم

نمبر شمار 6

ریگولر پوسٹ

*تضمین بر شعرِ انیسی شاملوؔ*

ہمیشہ صورتِ بادِ سحَر آوارہ رہتا ہوں

محبّت میں ہے منزل سے بھی خوشتر جادہ پیمائی

دلِ بے تاب جا پہنچا دیارِ پیرِ سنجر میں

میسّر ہے جہاں درمانِ دردِ ناشکیبائی

ابھی ناآشنائے لب تھا حرفِ آرزو میرا

زباں ہونے کو تھی منّت پذیرِ تابِ گویائی

یہ مرقد سے صدا آئی، حرم کے رہنے والوں کو

شکایت تجھ سے ہے اے تارکِ آئینِ آبائی!

ترا اے قیس کیونکر ہوگیا سوزِ درُوں ٹھنڈا

کہ لیلیٰ میں تو ہیں اب تک وہی اندازِ لیلائی

نہ تخمِ ’لا الہ‘ تیری زمینِ شور سے پھُوٹا

زمانے بھر میں رُسوا ہے تری فطرت کی نازائی

تجھے معلوم ہے غافل کہ تیری زندگی کیا ہے

کُنِشتی ساز، معمورِ نوا ہائے کلیسائی

ہُوئی ہے تربیت آغوشِ بیت اللہ میں تیری

دلِ شوریدہ ہے لیکن صنم خانے کا سودائی

*“وفا آموختی از ما، بکارِ دیگراں کر دی*

*ربودی گوہرے از ما نثارِ دیگراں کر دی”*

بسم اللہ الرحمن الرحیم ب

تفہیم و تشریح

حل لغات

*تضمین : اصطلاح میں کسی شاعر کے کسی مصرع یا شعر کو مضمون کی مناسبت سے اپنے کلام کا جُز بنانا ، *انیسی شاملو* : ایک ترک شاعر جو ایران سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کا نام مرزا یول قلی بیگ تھا۔ دوسرے شعراء کی طرح ہندوستان آیا اور عبدالرحیم خان خانان صو بیدار گجرات کے دربار میں ملازمت اختیار کر لی۔ محمود غزنوی اور ایاز کی داستان نظم کرنے کی کوشش کی لیکن اس کی تکمیل سے قبل ہی 1605 عیسوی میں فوت ہو گیا

*جاده* راستہ ، *پیر سنجر* حضرت معین الدین چشتی اجمیری مراد ہیں ، *درمان* علاج ، *گویائی* : گفتگو : *مرقد*: قبر *زمین شور* : بنجر زمین ، *نازائی* پیدا نہ ہونا، *گنشتی* بت خانے سے تعلق رکھنے والا کے

وضاحت

میں ہمیشہ صبح کی ہوا کی طرح اوارہ اور سرگرداں پھرتا ہوں ۔ اس لیے کہ محبت میں منزل پر پہنچکر آرام کرنے کی نسبت سفر کرنا زیادہ اچھا لگتا ہے ۔ اسی عالم میں میرا بے چین دل حضرت معین الدین چشتی کے اس علاقے میں پہنچ گیا جہاں بے صبری اور بیتابی کے درد کا علاج مل جاتا ہے۔ وہاں پہنچ کر ابھی میں نے گفتگو شروع نہیں کی تھی اور میری زبان بولنے کا احسان اٹھانے ہی والی تھی کہ معین الدین چشتی اجمیری کی قبر سے آواز آئی ۔ انھوں نے فرمایا کہ اسے اپنے بزرگوں کے قاعدے کو چھوڑ دینے والے حرم میں رہنے والوں (یعنی سچے مسلمانوں) کو تجھ سے شکایت ہے ۔ تو اپنے عشق کی وجہ سے مجنوں کی طرح تھا لیکن کیا ہوا کہ اب تیری باطنی جلن ختم ہو گئی ۔ حالانکہ لیلی میں ابھی تک وہی شانِ محبوبیت باقی ہے ۔ تیرے دل کی بنجر زمین میں توحید اور اسلام کا بیج بویا گیا لیکن وہ پیدا نہیں ہوا جس کی وجہ سے پوری دنیا میں تیری فطرت کا بانجھ پن بدنام ہو گیا ۔ ابے غفلت برتنے والے کیا تجھے معلوم ہے کہ تیری زندگی کیسی ہے ؟ دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اسلام کی بجائے تیرے پاس بت خانے کا ساز ہے ۔ اور اس میں کلیسا کی آوازیں اور نغمے بھرے ہوئے ہیں یعنی تیری معاشرت اور عادات و اطوار ہندؤوں اور عیسائیوں جیسے ہو گئے ۔ تیری تربیت تو خانہ کعبہ کی گود میں ہوئی تھی لیکن تیرا شوریده و دیوانہ دل بت خانے کا عاشق ہے ۔

تو نے وفا ہم سے سیکھی لیکن اس وفا کو اغیار کے کام میں لایا ۔ موتی ہم سے حاصل کیا لیکن تو نے اسے دوسروں پر قربان کر دیا۔

Loading