Daily Roshni News

جادوئی گھڑی اور رکے ہوئے لمحے

جادوئی گھڑی اور رکے ہوئے لمحے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )شہر کے قدیم حصے کی ایک تنگ و تاریک گلی میں، جہاں سورج کی روشنی بھی راستہ بھول کر کبھی کبھار ہی آتی تھی، “بابا نوروز” کی پرانی دکان واقع تھی۔ یہ دکان باہر سے محض کباڑ خانہ لگتی تھی، لیکن اس کے اندر وقت کی وہ داستانیں دفن تھیں جن کا کوئی سراغ نہ پا سکتا تھا۔

ہارون، جو ایک بے صبرہ نوجوان تھا، ہمیشہ وقت کی کمی کا رونا روتا تھا۔ اس کے لیے چوبیس گھنٹے بھی کم پڑ جاتے تھے۔ ایک شام، بارش سے بچنے کے لیے وہ اتفاقاً اس دکان میں داخل ہوا۔

پراسرار ملاقات

دکان کے اندر ہر طرف پرانی گھڑیاں لٹکی ہوئی تھیں، جن کے ٹک ٹک کے شور نے ایک عجیب سا سماں پیدا کر رکھا تھا۔ بابا نوروز، جن کی کمر جھکی ہوئی تھی اور آنکھوں میں صدیوں کی دانائی تھی، ایک کونے میں بیٹھے کسی نایاب گھڑی کے پرزے جوڑ رہے تھے۔

“وقت کی تلاش میں آئے ہو یا اسے ضائع کرنے؟” بابا نے سر اٹھائے بغیر پوچھا۔

ہارون ہچکچایا، “میں… بس بارش رکنے کا انتظار کر رہا ہوں۔ مجھے ہمیشہ جلدی ہوتی ہے، کاش میرے پاس تھوڑا اور وقت ہوتا۔”

بابا نوروز نے ایک الماری سے لکڑی کا ایک خوبصورت مگر پرانا ڈبہ نکالا۔ اس کے اندر ایک سنہری گھڑی تھی جس کی سوئیاں الٹی سمت میں حرکت کر رہی تھیں۔

جادوئی گھڑی کا معاہدہ

“یہ ‘ساعتِ نور’ ہے،” بابا نے دھیمی آواز میں کہا۔ “یہ تمہیں وہ وقت دے گی جو دنیا سے چھپا ہوا ہے۔ جب تم اس کا بٹن دباؤ گے، تمہارے علاوہ پوری دنیا رک جائے گی۔ تم اپنا ہر ادھورا کام مکمل کر سکو گے، لیکن یاد رکھنا… وقت ادھار لینا مہنگا پڑتا ہے۔”

ہارون نے حیرت اور خوشی سے گھڑی تھام لی۔ اسے لگا جیسے اسے کائنات کا سب سے بڑا خزانہ مل گیا ہو۔

وقت کا غلط استعمال

شروع میں سب کچھ جادوئی تھا۔ جب بھی ہارون کو امتحان کی تیاری کرنی ہوتی یا کوئی کام ادھورا رہ جاتا، وہ گھڑی کا بٹن دبا دیتا۔ سب کچھ تھم جاتا۔ پرندے فضا میں ساکت ہو جاتے، گرتا ہوا پانی ہوا میں معلق رہتا، اور ہارون سکون سے اپنے کام نمٹاتا۔

لیکن جلد ہی، ہارون کو اس کی لت پڑ گئی۔ اس نے وقت کی قدر کرنا چھوڑ دی۔ وہ سوچنے لگا کہ جب وہ جب چاہے وقت کو روک سکتا ہے، تو اسے محنت کرنے کی کیا ضرورت؟ وہ گھنٹوں رکے ہوئے وقت میں گھومتا، لوگوں کے ساکت چہروں کو دیکھتا اور قہقہے لگاتا۔

وہ ہولناک موڑ

ایک دن، جب ہارون نے وقت روکا ہوا تھا، اس نے آئینے میں اپنی شکل دیکھی۔ اس کے بال سفید ہو رہے تھے اور چہرے پر جھریاں پڑ رہی تھیں۔ اسے احساس ہوا کہ اگرچہ دنیا رکی ہوئی ہے، لیکن اس کی اپنی عمر کی گھڑی تیزی سے چل رہی ہے۔ وہ دنیا کے چند لمحے چرانے کے بدلے اپنی زندگی کے قیمتی سال کھو رہا تھا۔

خوف کے مارے اس نے گھڑی کا بٹن دبایا تاکہ وقت دوبارہ شروع ہو سکے، لیکن بٹن جام ہو چکا تھا۔ وہ رکے ہوئے وقت کی جیل میں قید ہو گیا تھا۔ تنہائی اور خاموشی اس کا دم گھونٹنے لگی۔ اسے احساس ہوا کہ وقت کی اصل خوبصورتی اس کے گزرنے میں ہے، اسے قید کرنے میں نہیں۔

واپسی کا راستہ

روتے ہوئے ہارون نے بابا نوروز کی نصیحت یاد کی۔ اس نے گھڑی کو زمین پر پٹخنے کے بجائے، اسے بڑی عقیدت سے اپنے دل سے لگایا اور اعتراف کیا کہ وہ وقت کی قدر سیکھ گیا ہے۔ اچانک، گھڑی سے ایک تیز روشنی نکلی اور ہارون کی آنکھ کھل گئی۔

وہ بابا نوروز کی دکان میں ایک کرسی پر بیٹھا تھا۔ باہر بارش تھم چکی تھی۔ بابا نوروز اسے دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ “یاد رکھنا ہارون، وقت جادو سے نہیں، ارادے سے ملتا ہے۔”

ہارون دکان سے باہر نکلا تو اسے ہر گزرتا ہوا لمحہ ایک بیش قیمت ہیرے کی طرح لگ رہا تھا۔ اس نے پھر کبھی وقت ضائع نہیں کیا۔

Loading