“موت کے بعد بھی یادیں زندہ:
جاپانی قبرستانوں میں QR کوڈز کا حیرت انگیز استعمال”
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ہاں، یہ بالکل سچی بات ہے۔ جاپان میں (اور اب دنیا کے کئی دیگر ممالک جیسے کہ امریکہ اور برطانیہ میں بھی) قبروں پر QR Codes لگانے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
جاپان میں اسے “IT-Grave” یا ڈیجیٹل کتبہ کہا جاتا ہے۔
اس کا مقصد یہ ہے کہ آنے والی نسلیں اپنے آباؤ اجداد کے بارے میں صرف نام اور تاریخِ وفات نہ جانیں، بلکہ ان کی آواز سن سکیں، ان کی ویڈیوز دیکھ سکیں اور ان کی زندگی کے یادگار لمحات سے واقف ہو سکیں۔
یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنی یادوں کو ہمیشہ کے لیے محفوظ (Digital Legacy) کرنا چاہتے ہیں.
جاپان نے زندگی اور موت کے درمیان یادوں کا ایک ڈیجیٹل پل تعمیر کر دیا ہے۔ وہاں اب قبریں صرف پتھر کے کتبے نہیں، بلکہ ایک مکمل “ڈیجیٹل ڈائری” بن چکی ہیں۔
یہ کیسے کام کرتا ہے؟
ہر قبر کے کتبے پر ایک مخصوص QR کوڈ کندہ ہوتا ہے۔ جب کوئی عزیز یا گزرنے والا اپنے اسمارٹ فون سے اسے اسکین کرتا ہے، تو اس شخص کی پوری زندگی ایک سکرین پر سمٹ آتی ہے:
اس کی یادگار تصاویر۔
زندگی کے ہنستے مسکراتے ویڈیو کلپس۔
اس کی پسند و ناپسند اور مختصر سوانح حیات۔
گویا ٹیکنالوجی نے موت کی خاموشی کو ایک زبان دے دی ہے۔ اب قبرستان میں جا کر آپ صرف فاتحہ نہیں پڑھتے، بلکہ اس انسان کی زندگی کے سفر میں دوبارہ شریک ہو جاتے ہیں۔
یہ ٹیکنالوجی ہمیں بتاتی ہے کہ انسان چلا تو جاتا ہے، لیکن اس کی کہانیاں، اس کی آواز اور اس کا انداز اب کبھی نہیں مرے گا۔
آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا مستقبل میں ایسی ٹیکنالوجی ہر جگہ ہونی چاہیے؟
منتخب
![]()

