Daily Roshni News

جہاں جنوں بھی ہار مان جائے…

جہاں جنوں بھی ہار مان جائے…

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )میرا بڑا تایا زاد منشیات فروش تھا، اسی لیے پیسے کی کبھی کمی نہیں دیکھی۔ اچھے دنوں میں کسی جاننے والے نے اس سے دو ہزار روپے ادھار لیے تھے، وعدہ تھا کہ اچھا وقت آئے گا تو لوٹا دے گا۔

مگر نشے کرنے والوں کا اچھا وقت مجھے کبھی نظر نہیں آیا، اور یوں وہ دو ہزار برسوں سے لوٹ کر نہ آئے۔

وقت بدلا…

گھر میں تنگی آ گئی، بیگم نے سونے کی چوڑیاں مانگ لیں، پولیس کے چھاپوں نے کاروبار ٹھپ کر دیا۔ اس نے پرانے کھاتے کھولے، حساب کتاب کھنگالنے لگا۔

ایک پرانا اندراج سامنے آیا: دو ہزار روپے۔

چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ پستول اٹھایا اور بولا:

“ایک ماہ کا وعدہ تھا، دو سال ہو گئے!”

میں انہی دنوں یونیورسٹی کی چھٹیوں پر گھر آیا ہوا تھا۔ دروازے پر دھوپ سینک رہا تھا کہ اس نے آواز دی:

“چل آ، بائیک پر بیٹھ!”

پوچھنے کی ہمت نہ ہوئی۔ بس ایک ہی خوف تھا کہ ابا دیکھ نہ لیں، کیونکہ اس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا سخت منع تھا — کہیں ہمارا “کردار” خراب نہ ہو جائے۔

کچی پکی سڑکوں پر بائیک دوڑتی رہی، اور اس کے منہ سے گالیاں نکلتی رہیں:

“آج اس بے غیرت کو چھوڑوں گا نہیں!”

میرے دل میں خوف بیٹھ گیا کہ اگر اس نے کسی کو مار دیا تو میں بھی بلا وجہ اس جرم کا حصہ بن جاؤں گا۔

تین گاؤں چھوڑ کر ہم چوتھے گاؤں پہنچے۔ بائیک روکی۔

وہ غصے میں دروازہ پیٹنے ہی والا تھا کہ اندر سے ایک عورت کی آواز آئی:

“اللہ غارت کرے میرے ماں باپ کو جنہوں نے تیرے پلے باندھ دیا… دو دن سے گھر میں آٹا نہیں، پڑوسیوں سے مانگ مانگ کر بچوں کو کھلا رہی ہوں۔ اپنی ہوتی تو صبر کر لیتی، مگر ان معصوموں کا کیا قصور؟”

اندر سے مرد کی کانپتی آواز آئی:

“کیا کروں… مزدوری نہیں ملتی، نشے نے ہاتھ پاؤں کانپا دیے ہیں…”

عورت بولی:

“اللہ غارت کرے ان منشیات فروشوں کو جو یہ زہر بیچتے ہیں… جیتے جی مار دیتے ہیں یہ ظالم!”

بھائی کا ہاتھ دروازے پر رک گیا۔

غصہ جیسے کسی اور چیز میں بدلنے لگا۔

وہ خاموشی سے پلٹا، بائیک پر بیٹھا اور واپس چل دیا۔

ایک گھنٹے بعد…

وہی بھائی، جو دو ہزار لینے آیا تھا،

دس ہزار کا راشن گدھا گاڑی پر لدا کر اسی گھر کے سامنے کھڑا تھا۔

دروازہ کھٹکھٹایا:

“میر محمد سے کہنا، عابد آیا ہے!”

کچھ دیر بعد عورت کی شرمندہ آواز آئی:

“بھیا… میر محمد پچھلے ایک ہفتے سے گھر پر نہیں…”

بھائی پہلی بار مسکرایا۔

آہستہ سے بولا:

“بھابھی، باہر سامان رکھا ہے… اندر لے جائیں۔

اور اُس بے غیرت سے کہنا، اگلے مہینے پیسے نہ دیے تو گولی مار دوں گا!”

میں اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا…

جس کا پورا جسم کانپ رہا تھا۔

کہیں کہیں جنون بھی انسانیت کے آگے ہار مان لیتا ہے…

اگر آپ کو یہ کہانی اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں

تاکہ ایسی اخلاقی کہانیاں آپ تک پہنچتی رہیں۔

Loading