حضرت ابوبکرصدیق کا مکتوب
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ) حمد وصلوٰۃ کے بعد واضح ہو کہ میں نے شام پر لشکر کشی کا ارادہ کر دیا ہے تا کہ اس کو کفاروں اور ناہنجاروں کے قبضہ سے علیحدہ کر دیا جائے ۔ تم میں سے جو شخص جہاد کا ارادہ کرے اسے چاہئے کہ وہ بہت جلد خدا وند تعالیٰ کی اطاعت کے لئے تیار ہو
جائے ۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت شریف تحریر فرمائی:
انفروا خفافا و ثقالا و جاهدوا باموالكم و انفسكم في سبيل الله
تم ہلکے بھاری یعنی تھوڑا سامان ہو یا زیادہ کیسے ہی ہو ( جہاد میں ) برابر جایا کرو اور اپنے مال اور جانوں کے ساتھ خداوند
تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو ۔
یہ خطوط آپ نے انس بن مالک خادم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ روانہ فرمائے اور خود جواب اور ان کے آنے کے منتظرہوئے۔
جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ ابھی تھوڑے ہی دن گزرے ہوں گے کہ انس بن مالک نے آکر اہل یمن کے آنے کی خوشخبری سنائی اور حضرت ابوبکر صدیق کے سامنے بیان کیا کہ میں نے جس شخص کو آپ کا حکم سنایا اس نے فوراً خدا کی اطاعت اور آپ کے فرمان کو منظور کر لیا۔ وہ لوگ مع ساز و سامان جنگ وزره پوشی آماده حضوری خدمت ہو چکے ہیں ۔ یا خلیفہ رسول میں ان سے پہلے آپ کی خدمت میں خوش خبری لے کر حاضر ہوا ہوں ۔ جنہوں نے آپ کی فرماں برداری ژولیدہ موئی اور غبار آلودگی (یعنی جہاد فی سبیل اللہ کی خاطر ) کے لئے منظور کی۔ وہ لوگ نہایت دلیر اور اچھے شہسوار اور بڑے بہادر روؤسائے یمن ہیں مع اہل وعیال کے روانہ ہوچکے ہیں اور عنقریب پہنچا چاہتے ہیں ، آپ ان کی ملاقات کے لئے تیار رہیے ۔ آپ کو یہ سن کر بہت خوشی ہوئی۔ یہ دن تو اسی طرح گزر گیا۔ دوسرے روز صبح ہی مجاہدین کی آمد کے آثار شروع ہو گئے۔ اہل مدینہ یہ دیکھ کر کہ حضرت ابوبکر صدیق کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اطلاع دی۔ آپ نے لوگوں کو سوار ہونے کا حکم دیا اور خود ان کے ہمراہ مجاہدین کے استقبال کے واسطے باہرنکلے ۔ تھوڑی دیر کے بعد لشکر پر لشکر اور گروہ در گروہ مجاہدین آنے شروع ہوئے ہر ایک قوم اور قبیلہ علم بلند کئے اور جھنڈا ہاتھ میں لئے
ایک دوسرے کے آگے اور پیچھے خوش خوش چلا آ رہا تھا جس وقت لشکر قریب ہوا تو قبائل یمن کے قبیلوں میں سے سب سے آگے بہترین زرہ پہنے اور قیمتیں تلوار حمائل کئے یا خود پہنے ہوئے عربی کما نیں لٹکائے ہوئے تھاوہ قبیلہ حمیر تھا اس قبیلہ کا سردار ذوالکلاع الحمیری تھا جو ایک عمامہ باندھے ہوئے تھے جس وقت وہ حضرت صدیق کے قریب پہنچا تو آپ کو سلام کر کے اپنی سکونت اور قومیت کا تعارف کرایا اور حسب ذیل اشعار پڑھے۔
( ترجمہ اشعار ) میں قوم حمیر سے ہوں اور جن لوگوں کو آپ میرے ساتھ دیکھتے ہیں وہ جنگ میں سبقت کرنے والے اور حسب نسب کے اعتبار سے اعلیٰ ہیں۔ شجاعت کے پیشہ کے شیر اور دلیروں کے سردار ہیں۔ بڑے بڑے مسلح بہادروں کو لڑائی کے وقت تلوار
کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ ہماری عادت اور خوبی لڑائی کی اور ہمت ہی مرنے مارنے کی ہے اور ان سب عہدہ داروں پر ذوالکلاع ان کا سردار ہے۔ ہمارا لشکر آچکا اور ملک روم ہماری جوار نگاہ اور شام ہمارا مسکن صلحیت کی خواہش کے خلاف ہوگا۔ دمشق ہمارا ہے اور
وہاں کے رہنے والوں کو ہم ہلاکت کے گڑھے میں پھینک دیں گے۔
حضرت صدیق نے یہ سن کر تبسم فرمایا اور حضرت علی سے کہا اے ابوالحسن ، کیا تم نے رسول سے یہ نہیں سنا تھا کہ
اذا اقبلت حمير ومعها نسائها تحمل اولادها فابشروا بنصر الله المسلمين على اهل الشرك اجمعین ۔ ( یعنی جس
وقت قبیلہ حمیر مع اپنے اہل وعیال کے آوے تو مسلمانوں کو ان کی فتح کی خوشخبری سنادینا کہ مسلمان تمام مشرکین پر فتح پاویں گے۔)
حضرت علی نے کہا کہ آپ نے سچ فرمایا۔ میں نے بھی رسول اللہ سے اسی طرح سنا تھا۔“
حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ جب قبیلہ حمیر مع اہل و عیال اور ساز و سامان گزر گیا تو ان کے پیچھے قبیلہ مذحج جو نہایت عمدہ قیمتی گھوڑوں پر سوار باریک نیزہ ہاتھ میں لئے سر کردگی قیس بن ہبیرہ المردی پہنچا، یہ سردار بھی جس وقت حضرت ابوبکر صدیق” کے قریب آیا تو آپ کو سلام کر کے اپنا اور اپنے قبیلے کا تعارف کرایا اور یہ شعر پڑھے۔
ترجمہ: ”ہمارالشکر آپ کی خدمت میں بہت جلد حاضر ہو گیا۔ ہم قلعہ مراد کے تاج کے مالک ہیں۔ ہم آپ کے پاس حاضر ہو گئے ہیں ۔ ہمیں حکم دیجئے تا کہ رومیوں کو اس تلوار سے جو ہم حمائل کئے ہوئے ہیں قتل کر ڈالیں۔
حضرت صدیق نے ان کو دعا خیر دی، یہ آگے بڑھے ان کے پیچھے قبیلہ طرہ کی فوج تھی جس کے سردار حابس بن سعید الطائی تھے جس وقت حابس خلیفہ اول کے قریب آئے تو از راہ تعظیم آپ گھوڑے سے اتر کر پیادہ پاچلنے کا ارادہ کرنے لگے۔ مگر سردار اعظم نے
قسم دے کر روک دیا۔ جب حابس قریب آئے تو سلام کے بعد مصافحہ کر کے حضرت ابو بکر صدیق “ نے ان کا اور ان کی قوم کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد قوم از دایک جمعیت کثیر کے ساتھ تھی اس کے سپہ سالار جندب بن عمر والدوسی تھے ۔ اس جمعیت اور قوم کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ بھی کمان لٹکائے اور ترکش لئے ہوئے موجود تھے۔ انہیں اس حالت میں دیکھ کر حضرت ابوبکر صدیق ہنسے اور فرمایا تم کیوں چلے تم لڑائی کے فن سے کم واقف ہو۔ حضرت ابو ہریرہ نے کہا ، صدیق ! اول تو اس لئے کہ جہاد کے ثواب میں شامل ہو
جاؤں۔ دوسرے شام کے میوہ جات انشاء اللہ العزیز کھانے میں آئیں گے۔ آپ یہ سن کر بہت ہنسے۔
اس کے بعد میسرہ بن مسروق العبسی کے زیر کمان بنو عبس اور اس کے پیچھے قبیلہ کنانہ جس کے سر در قشم بن اشیم الکنانی تھے یہ تمام قبائل یمن کے ساتھ جو یہاں آئے تھے ان کی اولا د ا موال اور عورتیں ، گھوڑے اونٹ وغیرہ موجود تھے ،
حضرت صدیق یہ جاہ وحشم دیکھ کر بے انتہا خوش ہوئے اور خداوند تعالیٰ کا شکر یہ ادا کیا۔ مدینہ طیبہ کے ارد گرد ہر ایک قبیلہ نے علیحدہ علیحدہ پڑاؤ کیا۔ چونکہ
ایک جم غفیر اور فوج کثیر جمع ہوگئی تھی اس لئے کھانے پینے میں کفایت اور جگہ کی قلت ہوئی ۔ سامان رسد میں کمی آئی۔ گھوڑوں کےدانے اور چارے میں تکلیف اٹھانی پڑی۔ یہ دیکھ کر سرداران قبائل نے مجتمع ہو کر آپس میں مشورہ کیا کہ حضرت ابوبکر صدیق کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض و معروض کی جائے کہ چونکہ یہاں کثرت اثر دحام کے باعث تکلیف ہو رہی ہے اس لئے آپ ہمیں شام کی طرف روانہ کر دیجئے۔ اس صلاح و مشورہ کے بعد یہ حضرات حضرت ابو بکر صدیق کے پاس حاضر ہوئے اور سلام کر کے آپ کے سامنے بیٹھ گئے ۔ ایک نے دوسرے کی طرف دیکھنا شروع کیا کہ سلسلہ کلام کون شروع کرے۔ آخر سب سے اول قیس بن ہبیرہ المرادی نے عرض کیا کہ یا خلیفہ رسول آپ نے ہمیں جس کام کے لیے حکم فرمایا ہم نے اس کو خداوند تعالیٰ اور اس کے رسول کی
اطاعت اور جہاد کے شوق میں فوراً قبول کر لیا۔ اب خدا کے فضل سے ہمارا لشکر پوری طرح تیار ہو چکا، ساز و سامان سب کر لیا گیا۔ نیز آپ کا شہر گھوڑوں خچروں اور اونٹوں کے لئے تنگ اور فوج کی ضروریات کے لئے ناکافی ہونے کے باعث تکلیف دہ ہے جس کی
وجہ سے لشکر کو تکلیف ہوتی ہے اس لئے جنگ کی اجازت دی جائے اور اگر جناب والا کی رائے کسی اور امر کی طرف راغب ہوگئی ہے
اور پہلا ارادہ منسوخ فرما چکے ہوں تو ہمیں اجازت دے دی جائے کہ ہم اپنے وطن مالوف کی طرف لوٹ جائیں ۔ اسی طرح باری باری ہر ایک سردار قبیلہ نے عرض کیا۔
جس وقت آپ سب کی گفتگوسن چکے تو آپ نے فرمایا کہ اے ساکنین مکہ معظمہ وغیرہ واللہ! میں تمہیں تکلیف دینا نہیں چاہتا بلکہ میرانشا محض تمہاری تکمیل کرنا تھا تا کہ تمہاری جمعیت پوری ہو جائے ۔ عرض کیا گیا حضور کوئی قبیلہ آنے سے باقی نہیں رہا،سب آ چکے ، آپ خداوند تعالیٰ پر بھروسہ اور امید کر کے ہمیں روانہ کیجئے۔
ماخذ فتوح الشام
![]()

