Daily Roshni News

حضرت یونسؑ کا پورا مستند واقعہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جب سمندر خاموش تھا اور مچھلی کے پیٹ میں ایک نبی زندہ رکھا گیا — حضرت یونسؑ کا پورا مستند واقعہ

حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ قرآنِ مجید اور معتبر اسلامی روایات میں ایک مکمل تاریخی حقیقت کے طور پر بیان ہوا ہے۔ یہ کوئی تمثیل یا حکایت نہیں بلکہ ایک ایسا واقعہ ہے جسے آسمانی کتاب نے واضح الفاظ میں محفوظ کیا ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے نینویٰ کی قوم کی طرف بھیجا۔ آپ نے انہیں توحید کی دعوت دی، اللہ کے عذاب سے ڈرایا، اور واضح پیغام پہنچایا۔ مگر قوم نے انکار کیا، تکذیب کی اور مسلسل سرکشی اختیار کی۔ اس مسلسل انکار پر حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کو چھوڑ کر روانہ ہو گئے، حالانکہ اللہ کی طرف سے ابھی ترکِ قوم کا قطعی حکم نازل نہیں ہوا تھا۔

قرآنِ مجید اس مرحلے کو یوں بیان کرتا ہے کہ یونس علیہ السلام غضب کی حالت میں نکل گئے اور یہ گمان کیا کہ ان پر گرفت نہیں ہوگی۔ (سورۃ الانبیاء)

حضرت یونس علیہ السلام سمندر کے کنارے پہنچے اور ایک کشتی میں سوار ہو گئے۔ کشتی سمندر کے بیچ پہنچی تو شدید طوفان آ گیا۔ کشتی بوجھ سے بھری ہوئی تھی اور ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ کشتی والوں نے قدیم دستور کے مطابق قرعہ اندازی (قرعہ ڈالنا) کی تاکہ ایک شخص کو سمندر میں ڈالا جائے اور باقی مسافر بچ سکیں۔ قرعہ حضرت یونس علیہ السلام کے نام نکلا۔

قرآنِ مجید واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ قرعہ حضرت یونس علیہ السلام ہی کے نام نکلا اور وہ خود سمندر میں ڈال دیے گئے۔ (سورۃ الصافات)

جونہی حضرت یونس علیہ السلام سمندر میں گرے، اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے انہیں نگل لیا۔ قرآن یہ بات صاف لفظوں میں بیان کرتا ہے کہ وہ مچھلی کے پیٹ میں زندہ تھے، نہ ان کی ہڈیاں ٹوٹیں، نہ جسم کو کوئی نقصان پہنچا۔

قرآن کہتا ہے:

“پس مچھلی نے انہیں نگل لیا اور وہ اپنے نفس پر ملامت کرنے والوں میں سے تھے۔” (سورۃ الصافات)

حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں مکمل ہوش و حواس کے ساتھ زندہ رہے۔ وہاں اندھیرا تھا: رات کا اندھیرا، سمندر کی گہرائی کا اندھیرا، اور مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا۔ اسی حالت میں حضرت یونس علیہ السلام نے وہ دعا پڑھی جسے قرآن نے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا:

“لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ”

(تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظالموں میں سے تھا)

قرآنِ مجید واضح کرتا ہے کہ اگر حضرت یونس علیہ السلام اللہ کی تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔ (سورۃ الصافات)

جہاں تک مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی مدت کا تعلق ہے، قرآنِ مجید نے دنوں کی تعداد صراحت کے ساتھ بیان نہیں کی۔ معتبر اسلامی روایات میں مختلف اقوال منقول ہیں:

بعض روایات میں تین دن اور تین راتوں کا ذکر ملتا ہے

بعض روایات میں سات دن کا ذکر آیا ہے

بعض روایات میں چالیس دن تک مچھلی کے پیٹ میں رہنے کا قول منقول ہے

ان اقوال کا ذکر مفسرین نے روایت کے طور پر کیا ہے، جبکہ قرآنِ مجید نے مدت کو غیر معین رکھا ہے اور اصل واقعہ کی حقیقت پر زور دیا ہے کہ وہ زندہ تھے اور اللہ کے حکم سے محفوظ رکھے گئے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا کہ حضرت یونس علیہ السلام کو ساحل پر اگل دے۔ قرآنِ مجید بیان کرتا ہے کہ مچھلی نے انہیں ایک سنسان ساحل پر ڈال دیا، اس وقت حضرت یونس علیہ السلام جسمانی طور پر کمزور ہو چکے تھے۔ (سورۃ الصافات)

اللہ تعالیٰ نے وہاں ایک بیل دار درخت پیدا فرمایا تاکہ حضرت یونس علیہ السلام کو سایہ ملے اور جسمانی بحالی ہو۔ یہ تمام تفصیل قرآن کے متن میں موجود ہے، کسی انسانی اضافہ کے بغیر۔

بعد ازاں حضرت یونس علیہ السلام دوبارہ اپنی قوم کی طرف لوٹے۔ قرآن کے مطابق اس مرتبہ قوم نے ایمان قبول کیا اور اللہ نے ان سے عذاب کو ہٹا لیا۔ (سورۃ یونس)

یہ پورا واقعہ قرآنِ مجید کی متعدد سورتوں میں بیان ہوا ہے:

سورۃ الانبیاء، سورۃ الصافات، سورۃ القلم، اور سورۃ یونس میں اس کے مختلف مراحل موجود ہیں۔

یہ واقعہ کسی فرقے، کسی خاص عنوان یا بعد کے نظریات کا محتاج نہیں۔ یہ وہی ہے جو قرآن نے بیان کیا اور معتبر اسلامی روایات نے اسے نقل کیا۔

نہ اس میں افسانہ ہے، نہ شاعری، نہ اضافی جذبات — صرف وہ حقیقت جو آسمانی کتاب میں محفوظ کر دی گئی۔

یہی وہ واقعہ ہے جس میں ایک نبی کو سمندر میں ڈالا گیا، مچھلی کے پیٹ میں زندہ رکھا گیا، اور اللہ کے حکم سے دوبارہ خشکی پر واپس لایا گیا

Info Planet #infoplanet

Loading