خوشیوں کے لیے وقت نکالیے۔۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ خوشیوں کے لیے وقت نکالیے)بہن…! چھوٹے بیٹے کا اس جمعرات کو نکاح ہے۔ آپ فیملی کے ساتھ ضرور تشریف لائیے۔ دیکھیے بہن۔ کوشش کروں گی۔ ہرامت مانیے آپ نے ورکنگ ڈے میں شادی رکھی ہے۔ اصل میں ہمیں وقت ملتاہی نہیں ہے۔ نجانے وقت کہاں چلا جاتا ہے۔ وقت کی کمی کی وجہ سے بچوں کو بھی سیر و تفریح کے لیے نہیں لے جا پاتے۔
کسی مفکر نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر ہم زندگی کی مصروفیت میں ترجیحات کا تعین کر لیں تو کئی کام بآسانی ہو سکتے ہیں۔ دوڑتی بھاگتی زندگی نے نہ چاہتے ہوئے بھی رشتوں کے درمیان فاصلے پیدا کردیے ہیں۔ ہر شخص ترقی کی دوڑ میں مشینی انداز میں مصروف عمل ہے۔ گھریلو خواتین ہوں یا ملازمت پیشہ خواتین، سب کو وقت کی کمی کا گلہ ہے۔
گھر، بچے، شوہر اور ملازمت “ ان کے لیے وقت پورا نہیں ہو پاتا تو دوست احباب
اور رشتہ داروں کے لیے وقت کیسے نکالیں۔ یوں مہینوں بلکہ سال سال بھر گزر جاتا ہے ، اپنوں سے کوئی ملنا جلنا یا رابطہ تک نہیں ہو پاتا۔ وجہ صرف مصروفیت ہے۔
رشتوں کی مٹھاس اپنائیت کے احساس سے ہوتی ہے، اپنوں کو اپنائیت کا احساس دلانا بہت ضروری ہوتا ہے۔ فاصلے بڑھ جائیں تو بسا اوقات خود ساختہ مفروضوں کی بنیاد پر دلوں میں کدورتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔
اگر ہم چاہیں تو مصروفیات کے باوجود چھوٹے چھوٹے کاموں سے اپنوں کو بڑی بڑی خوشیاں دے سکتے ہیں۔ اپنائیت، خلوص اور محبت دل میں انمول خوشی کا وہ احساس بیدار کرتا ہے، جس کا اظہار لفظوں میں ممکن نہیں۔
ذیل میں چند ایسے طریقے درج ہیں جن پر عمل کر کے آپ انتہائی مصروفیت کے باوجود اپنوں سے جڑی رہ سکتی ہیں۔
یوں تو ٹیلی فون کی سہولت نے ہی ہمارے ملنے ملنے کے سلسلے کو ختم کیا ہے لیکن اب ایسا ہو گیا ہے کہ ہم عموما کسی کو فون بھی تب کرتے ہیں جب ہمیں کچھ کام ہو۔ اس سے کچھ پوچھتا ہو یا اسے کچھ بتانا ہو۔ بس کبھی صرف خیریت پوچھنے کے لیے بھی ہمیں کسی کو کال کر لینی چاہیے۔ چند منٹ کی یہ فون کال کسی اپنے کے دل میں آپ کی اہمیت کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ اس کے لیے الگ سے وقت نکالنے کی بھی ضرورت نہیں۔ کھانا پکاتے ، سبزی کاٹتے ، استری کرتے یا جھاڑ پونچھ کرنے کے ساتھ ساتھ آپ بآسانی چند لمحے نکال کر فون پر گفتگو کر سکتی ہیں۔ روزانہ نہیں تو ہر ہفتے کم از کم کسی ایک کو ضرور کال کیجیے۔ آپ یقین جانیے میکے، سسرال، رشتہ دار اور سہیلیاں سب رشتے آپ کو پہلے سے زیادہ قریب محسوس ہوں گے۔
ذرا سوچیں کس قدر خوشی و مسرت ہوتی ہے جب کوئی زندگی کے کسی اہم دن آپ کو یاد رکھتا ہے۔ جیسے امتحان کے نتائج، سالگرہ یا کسی کی زندگی کا کوئی اور اہم موقع ہو۔ جیسے کسی کا بیماری سے صحت یابی سے متعلق کوئی اہم رپورٹ آنے کا دن وغیرہ۔ ان اہم دنوں پر فون کرنایا کوئی تحفہ لے جانا چھا تاثر دیتا ہے۔ اہمیت دراصل چیز کی نہیں بلکہ ان جذبات اور احساسات کی ہوتی ہے جو اس کے پیچھے کار فرما ہوتے ہیں کہ کسی نے آپ کو یادر کھا اور نیک خواہشات آپ کے نام کیں۔ خوشی کے یہ انمول موتی سنہری یادوں کے ذخیرے میں ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں۔
اس کے لیے اپنی ڈائری میں یہ تمام چیزیں لکھ لیں یا موبائل میں محفوظ کر کے یاددہانی کا الارم لگا دیں تا کہ آپ کو ہر وقت یاد آ جائے۔
موبائل پیغامات یا ایس ایم ایس دوور جدید میں رابطے کا ایک بڑا ذریعہ بن چکے ہیں۔ ہر وقت، ہر جگہ اپنوں سے رابطہ آپ کی انگلیوں کی جنبش کے منتظر ہیں۔ موبائل پر ابھرنے والا وہ چند لفظوں پر پیغام آپ کے اپنوں کے چہرے پر مسکراہٹ لے آتا ہے۔ ان کے دل میں آپ کی قدر و منزلت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ایک خوشی کا احساس ہوتا ہے کہ میری بیٹی، بھائی، بھتیجی، بیہو، بھابی یا سہیلی وغیرہ نے پیغام بھیجا ہے۔ یہ صرف اہم مواقع نہیں بلکہ فرصت کے کسی بھی مجھے کوئی اچھا سا پیغام، کوئی خوب صورت کی دعاء شعر یا اپنائیت کا احساس لیے چند خوب صورت الفاظ پر مشتمل پیغام پڑھنے والی نگاہوں کے ذریعے دل میں
آپ کی قدر و منزلت کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔
ان سب کا مقصد صرف یہ ہے کہ اپنوں کو اپنائیت کا احساس دلایا جائے ، ان کے ساتھ رابطے میں رہا جائے اور انہیں یاد رکھا جائے، کیونکہ اپنائیت کا احساس ہو تو سات سمندر پار رہنے والے بھی اپنے ہی گھر کے مکین محسوس ہوتے ہیں اور یہ احساس نہ رہے تو
ساتھ رہنے والے بھی اجنبی لگنے لگتے ہیں۔
اکثر اوقات خوشیوں کا حصول اتنا مشکل نہیں ہوتا۔ وہ آپ کے آس پاس ہی موجود ہوتی ہیں۔ بس ضرورت ہے تو اس بات کی کہ خوشیوں کے لیے وقت نکالا جائے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اکتو بر2025
![]()

