درودِ ابراہیمی پر تدبر
واحد، اکبر اور عدد کی گواہی
تحریر۔۔۔مقیتہ وسیم
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ درودِ ابراہیمی پر تدبر۔۔۔ تحریر۔۔۔مقیتہ وسیم )کائنات میں غار تو بہت ہیں مگر قرآن میں صرف ایک غار ہے
جہاں صدیوں کی نیند بھی عبادت بن جاتی ہے۔
یہ محض غار نہیں، وقت کا توقف ہے،
جہاں تاریخ سانس روک کر اللہ کے فیصلے کا انتظار کرتی ہے۔
اب ایک باریک مگر گہری بات سنئے،
حضرت موسیٰؑ نے جب پتھر پر لاٹھی ماری تو بارہ چشمے پھوٹ پڑے۔
تیرہواں چشمہ اس لیے نہیں پھوٹا
کہ بنی اسرائیل کے قبائل بارہ ہی تھے۔
نہ ایک کم، نہ ایک زیادہ۔
اللہ کی تقسیم میں اضافی دروازہ نہیں کھلتا جب تک اس کا محل نہ ہو۔
یہی ترتیب
درودِ ابراہیمی میں دوبارہ بولتی ہے۔
“کما صلیت علیٰ ابراہیم و علیٰ آلِ ابراہیم”
یہ کما،یہ چھوٹا سا لفظ
اعلان ہے کہ
ویسے ہی، بالکل ویسے ہی، بغیر کسی فرق کے۔
نبوت کا دروازہ بند ہو چکا۔ اب نہ نبی آئے گا، نہ رسول۔
اب جو آئے گا، وہ امام ہوگا۔
اور رسول اللہ ﷺ کی اولاد میں بارہ امام اسی لیے آئے کہ اللہ عدد میں بھی عدل رکھتا ہے۔
اب آئیے عدد 13 پر۔
13 کوئی منحوس عدد نہیں،
یہ تنبیہ کا عدد ہے۔
13 = 1 + 3
ایک…… واحد
تین…… تنبیہ
جب واحد خدا تنبیہ کرے
تو وہ 13 بن جاتا ہے۔
اب سوال…..
واحد خدا بڑا ہے یا اکبر خدا؟
یہ کائنات کا سب سے اہم سوال ہے۔
جو اسے سمجھ گیا وہ عمر بھر توحید پر قائم رہا۔
جواب یہ ہے:
واحد بھی وہی ہے، جو اکبر ہے۔
لیکن فرق یہ ہے…. واحد خدا سب کا ہے،
بہت relax خدا ہے۔
لوگ ظلم کریں، عیاشی کریں،
وہ ڈھیل دیتا ہے، مہلت دیتا ہے۔
مگر جب کوئی تکبر کرے، خود کو خدا سمجھے، خود کو اختیارِ مطلق میں بٹھا لے….
تب
واحد اپنی حیثیت بدلتا ہے۔
وہ کہتا ہے:
میں صرف ایک نہیں،
میں اکبر ہوں۔
اور جب خدا اکبر بن کر تکبر کے مقابل آتا ہے تو پھر
اللہ معاف کرے…
اللہ معاف کرے…
انجام سن کر
کانوں کو ہاتھ لگانا پڑتا ہے۔
اسی لیے کہا….
اگر کبھی عدد 13 کو سمجھنے کی نوبت آئے
تو سورۃ ابراہیم، آیت 13 پڑھنا۔
وہ آیت عدد نہیں، انذار ہے۔
اِنذار = آخری وارننگ، محبت کے ساتھ
جہاں اِنذار ہوتا ہے
وہاں عذاب اچانک نہیں آتا بلکہ پہلے حق واضح کیا جاتا ہے۔
اور یاد رکھئے
“دو” کے بھی دو مطلب ہوتے ہیں:
ایک عدد
اور ایک دینا
کچھ لوگ عدد تو پڑھ لیتے ہیں
مگر دینے کا مفہوم بھول جاتے ہیں۔
اسی بھول میں ایک شخص قادیان میں پیدا ہوا،
13 تاریخ کو، دوسرے مہینے میں
مگر اسے خبر نہ ہو سکی
کہ نبوت کب کی ختم ہو چکی ہے۔
ساری کائنات، اس وقت بھی اور آج بھی درودِ ابراہیمی پر کھڑی ہے۔
اور “کما”
آج بھی اعلان کر رہا ہے:
بالکل ویسے ہی…. بغیر کسی فرق کے۔
خاتم اسے کہتے ہیں جو مہر لگا دے۔
مہریں اور بھی ہوتی ہیں،
مگر خاتم آخری ہوتی ہے۔
یہ تحریر
ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی کیونکہ عدد بول رہا ہے،
نور ابھی باقی ہے اور درود ابھی جاری ہے۔
جاری ہے…
#مقیتہ_وسیم
#درود_ابراہیمی
#واحد_اور_اکبر
#عدد_کا_راز
#قرآنی_تدبر
#نور_کی_تقسیم
#خاتم_النبیین
#فکر_و_معرفت
#قرآن_سے_مکالمہ
![]()

