Daily Roshni News

دلہن پر منحوس ہونے کا ٹھپہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ) شادی کو مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ دیور کا جنازہ تیار ہو گیا۔ ساس کو ان عورتوں نے ایسی باتوں میں لگایا کہ وہ مجھ سے بدظن ہو گئیں۔ پھر سسر بھی چل بسے۔ اب میرے ماتھے پر منحوس ہونے کا ٹھپا لگ چکا تھا۔ لیکن ایک رات سچ ایسا کھلا کہ میں خود کانپ اٹھی۔ 🌙💔

دلہن پر منحوس ہونے کا ٹھپہ:میں نے شادی کا جوڑا پہنا تو مجھے لگا تھا کہ میری زندگی کا سب سے خوبصورت باب شروع ہو رہا ہے۔ میں نے اپنے گھر کی چار دیواری کو الوداع کہا تو آنکھیں نم تھیں مگر دل میں ایک نئی دنیاں بسائی جا رہی تھی۔ عائشہ، جس کا مطلب ہے خوشحال اور زندہ دل، میں واقعی اپنی نئی زندگی میں خوشیاں بکھیرنے آئی تھی۔

میرا نیا گھر لاہور کے پرانے محلے میں تھا۔ موچی دروازے کے قریب ایک تنگ گلی، جس میں دو موٹر سائیکلیں مشکل سے گزر سکتی تھیں۔ مکان تین منزلہ تھا، نیچے سسر جی کی دوکان تھی جو کپڑے کی ہول سیل تھی۔ اوپر ہماری رہائش تھی۔ سسر جی ساٹھ برس کے تھے، مگر ابھی تک دوکان پر خود بیٹھتے۔ ساس امی جان پچپن کی تھیں، ان کی کمر میں تکلیف رہتی تھی، مگر گھر کا انتظام وہی دیکھتی تھیں۔

میرے شوہر احمد کا اپنا چھوٹا سا کاروبار تھا۔ وہ جوتے بنواتے اور انہیں مختلف شہروں میں سپلائی کرتے۔ وہ میرے سے چار سال بڑے تھے اور ان کی طبیعت میں ٹھہراؤ تھا۔ ان کے چھوٹے بھائی بلال کی عمر اٹھارہ برس تھی۔ وہ ابھی کالج میں پڑھتا تھا۔ پتلا سا، لمبا سا، گورا چٹا، بال لمبے رکھتا تھا اور کرکٹ کا شوقین تھا۔

بلال مجھ سے بہت ادب سے بات کرتا۔ وہ مجھے “بھابی جان” کہہ کر بلاتا اور ہر کام میں مدد کرنے کو تیار رہتا۔ میں اسے اپنا بچہ سمجھتی تھی۔ وہ میرے لیے بازار سے جو بھی مانگتی، لا دیتا۔ کبھی کوئی چیز نہیں ٹالی۔ میں نے سوچا تھا کہ یہ رشتے بڑی محبت سے نبھیں گے۔

مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

شادی کے صرف پینتیس دن گزرے تھے کہ ایک دن بلال دوپہر کو کالج گیا اور شام کو واپس نہیں آیا۔ اس کی موٹر سائیکل کو ایک ٹرک نے ٹکر مار دی تھی۔ ہسپتال لے کر گئے تو ڈاکٹرز نے کندھے اچکا لیے۔

جب اس کی میت گھر آئی تو ساری فضا چیخ و پکار سے گونج اٹھی۔ میں نے بلال کو دیکھا تو مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی لڑکا ہے جو کل تک مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ بھابی جان آج کیا پکایا ہے؟ اس کے بالوں میں خون لگا تھا اور اس کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا۔ میں دیوار سے لگ کر رونے لگی۔ احمد میرے بازو تھامے کھڑے تھے اور ان کی آنکھیں خشک تھیں۔ وہ بھائی تھے، مگر رو نہیں پا رہے تھے۔

جنازے کے بعد کا منظر بہت خوفناک تھا۔ ساری عورتیں جمع ہو گئیں۔ روایتی رسم کے مطابق، قریبی رشتہ دار اور پڑوس کی عورتیں تعزیت کے لیے آنے لگیں۔ ساس امی جان ایک کونے میں بیٹھی تھیں، ان کا سر دیوار سے ٹکرا رہا تھا۔ ان کے پاس چند بزرگ خواتین بیٹھی تھیں۔

ایک عورت، جو شاید محلے کی کسی گھر کی بڑی بہو تھی، دھیمی آواز میں بولی، “بھئی یہ تو بڑے غضب کی بات ہے۔ نئی دلہن آئی ہے اور گھر میں جنازہ آ گیا۔”

دوسری عورت نے سر ہلایا، “ہاں باجی، یہ نیا جوڑا منحوس ہوتا ہے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ نئی دلہن کی قسمت میں ساتھ نہیں ہوتی اور گھر میں مصیبتیں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔”

یہ باتیں آہستہ آہستہ کہی گئیں، مگر ان کا زہر گھر کی فضا میں پھیلنے لگا۔

چند دن گزرے تو ساس امی جان کا رویہ بدلنے لگا۔ پہلے وہ مجھ سے پیار سے بات کرتی تھیں۔ اب ان کی زبان پر ہمیشہ ایک تلخی رہتی۔ جب میں کچن میں چائے بنا رہی ہوتی تو وہ آ کر کہتیں، “ہاتھ جلدی چلا، اتنی دیر لگتی ہے تجھے۔ معلوم نہیں تیرے ہاتھ میں کیا ہے جو گھر میں آئی تو سب برباد ہو گیا۔”

میں سن کر رک جاتی۔ میرے ہاتھ کانپنے لگتے۔ میں چاہتی کہ کوئی زمین پھٹ جائے اور میں اندر سما جاؤں۔ مگر میں خاموش رہتی۔ میں نے سوچا صبر کروں گی، وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔

شوہر احمد نے مجھے سمجھایا، “امی جان صدمے میں ہیں۔ ان کی باتیں مت مانا۔ میں ہوں نا تیرے ساتھ۔”

مگر وہ دن میں زیادہ تر باہر رہتے۔ دوکان کا کام، جوتوں کا آرڈر، انہیں نکالنے کا بہانہ مل جاتا۔ وہ بھی بھائی کے غم میں تھے، مگر مرد ہونے کے ناتے ان پر یہ بھی ذمہ داری تھی کہ باپ کا ہاتھ بٹائیں کیونکہ سسر جی بھی بیٹے کی موت کے بعد بالکل ٹوٹ چکے تھے۔

ساس کی باتیں مجھ تک محدود نہ رہیں۔ ان کی دو بیٹیاں تھیں، میری نندوں نے بھی ان کا ساتھ دینا شروع کر دیا۔ وہ جب بھی میکے آتیں، مجھے ایسے دیکھتیں جیسے میں کوئی وبا ہوں۔ چھوٹی نند نے تو ایک بار صاف کہہ دیا، “تم آئی ہو تو گھر میں منحوسی پھیل گئی ہے۔ بھائی بلال کو قربان ہونا پڑا۔”

اس رات میں نے احمد کو سب بتایا تو وہ خاموش رہے۔ پھر بولے، “چھوڑ ان کی باتیں۔ کچھ دنوں میں خود ہی سمجھ جائیں گی۔”

مگر کچھ دنوں بعد سسر جی کو دل کا دورہ پڑا۔

رات کا وقت تھا۔ وہ اپنے کمرے میں سو رہے تھے کہ اچانک انہیں شدید درد اٹھا۔ ہسپتال لے کر گئے تو ڈاکٹر نے کہا کہ صورتحال سنگین ہے۔ اگلے دو دن وہ آئی سی یو میں رہے، پھر تیسرے دن انتقال کر گئے۔

ڈاکٹرز نے کہا کہ بیٹے کے صدمے کی وجہ سے ان کا دل کمزور ہو گیا تھا۔ مگر گھر میں تو میری قسمت کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔

سسر جی کی وفات پر پورا محلہ جمع ہو گیا۔ تعزیت کے لیے آنے والی عورتوں کی باتیں اور بھی بڑھ گئیں۔ “یہ دلہن جہاں قدم رکھتی ہے، وہاں اجاڑ ہو جاتا ہے۔ پہلے دیور مرا، اب سسر۔ اب دیکھو اور کیا ہوتا ہے۔”

ساس امی جان نے اب مجھ سے بات کرنا چھوڑ دیا۔ میں ان کے لیے کھانا بنا کر بھیجتی تو وہ چھو کر واپس کر دیتیں۔ ان کی نظر میں میں قاتل تھی۔ وہ عورتیں جو ان کے پاس بیٹھتی تھیں، وہ ان کے کان بھرتی رہتیں۔ ایک نے تو صاف کہہ دیا، “بھابی، اس عورت کو گھر سے نکال دو۔ اگر یہ رہی تو تمہارا پورا خاندان ختم ہو جائے گا۔”

میں نے احمد کو بتایا تو وہ پریشان ہو گئے۔ انہوں نے کہا، “تم کہیں اور چلی جاؤ۔ کچھ دن اپنے گھر رہو۔ میں تمہیں چھوڑ آتا ہوں۔”

میں نے کہا، “نہیں، میں کیوں جاؤں؟ میرا کوئی قصور نہیں۔”

مگر احمد بھی مجبور تھے۔ وہ ماں اور بہنوں کے درمیان پھنسے ہوئے تھے۔ وہ مجھ سے پیار کرتے تھے، مثر وہ بھی اس ماحول سے باہر نہیں نکل پا رہے تھے۔

میں نے سوچا کہ اب تو مرنا بھی آسان ہے مگر مرنا بھی جرم ہو گا کیونکہ لوگ کہیں گے دیکھو منحوس دلہن نے خودکشی کر لی۔

پھر وہ رات آئی۔

رات کے بارہ بج رہے تھے۔ احمد ابھی تک دوکان سے واپس نہیں آئے تھے۔ میں اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔ کمرے کی کھڑکی باہر گلی کی طرف کھلتی تھی۔ پرانے محلے کی عمارتیں ایک دوسرے سے چپکی ہوئی تھیں۔ نیچے گلی میں خاموشی تھی اور دور کتے بھونک رہے تھے۔

اچانک مجھے احمد کے موبائل فون کی گھنٹی سنائی دی۔ وہ موبائل میرے پاس تھا کیونکہ احمد بھول گئے تھے۔ میں نے اسکرین پر دیکھا تو ان کے ایک دوست کا نام تھا۔ میں نے سوچا کہ شاید احمد کوئی ضروری چیز بھول گئے ہیں تو میں نے فون اٹھا لیا۔

“ہیلو،” میں نے کہا۔

دوسری طرف سے آواز آئی، “احمد بھائی صاحب سے بات کرو۔”

میں نے کہا، “وہ گھر پر نہیں ہیں۔ میں ان کی بیوی ہوں۔ کوئی پیغام ہے؟”

وہ شخص خاموش رہا۔ پھر بولا، “بی بی، آپ احمد بھائی سے کہہ دیں کہ ان کا پورا اکاؤنٹ کلیئر ہے۔ جو رقم انہوں نے بلال کے حادثے کے بعد نکالی تھی، وہ جمع ہو گئی ہے۔”

میں نے کہا، “کیسی رقم؟”

وہ بولا، “بی بی، آپ کو نہیں معلوم؟ بلال کے حادثے کے بعد انشورنس کمپنی نے پانچ لاکھ روپے کلیم دیا تھا۔ احمد بھائی نے وہ رقم نکلوائی تھی۔ مگر اب انہوں نے کہا تھا کہ کچھ اور دستاویزات چاہئیں، وہ بھی پوری ہو گئی ہیں۔”

میرے ہاتھ سے فون گرنے کو ہوا۔ میں نے پوچھا، “یہ انشورنس کب کلیئر ہوئی؟”

“بی بی، بلال کی موت کے صرف پانچ دن بعد کلیئر ہو گئی تھی۔ باقی کی رسمی ادائیگی ابھی ہوئی ہے۔ احمد بھائی نے کہا تھا کہ انہیں فوری ضرورت تھی۔”

فون بند ہوا تو میں بری طرح کانپ رہی تھی۔ میرے ذہن میں ایک ایک بات گونجنے لگی۔ بلال کی موت کے صرف پانچ دن بعد انشورنس کلیئر ہو گئی؟ اس کا مطلب ہے کہ انشورنس کمپنی نے تیزی سے کلیم منظور کیا؟ اتنی جلدی؟ یہ کیسے ممکن تھا؟

میں نے سوچا، شاید احمد نے پہلے سے کاغذی کارروائی کر رکھی تھی۔ مگر پھر یاد آیا کہ بلال کی موت اچانک ہوئی تھی۔ انشورنس کی کوئی تیاری نہیں تھی۔

اگلے دن جب احمد گھر آئے تو میں نے ان سے کچھ نہیں پوچھا۔ میں نے صرف دیکھا کہ وہ بہت پرسکون تھے۔ ان کے چہرے پر کوئی غم نہیں تھا۔ صرف دوکان کا کام تھا اور جوتوں کے آرڈر تھے۔ انہوں نے سسر اور بھائی کی موت پر آنسو نہیں بہائے تھے۔ میں نے سوچا تھا کہ مرد ہیں، رو نہیں سکتے۔ مگر اب مجھے شک ہونے لگا۔

ایک ہفتے بعد، مجھے احمد کی جیب سے ایک پرچی ملی۔ اس پر کچھ نمبر تھے اور ایک نام تھا۔ وہ نام اس ٹرک ڈرائیور کا تھا جس نے بلال کو ٹکر ماری تھی۔ پرچی پر اس کا موبائل نمبر بھی درج تھا اور ایک رقم لکھی ہوئی تھی: 2 لاکھ۔

میرے ہوش اڑ گئے۔

اس رات جب احمد سو رہے تھے، میں نے ان کا موبائل چیک کیا۔ ان کے واٹس ایپ میں ایک ڈیلیٹ شدہ چیٹ تھی۔ میں نے وہ چیٹ ریسٹور کرنے کی کوشش کی تو مجھے کچھ پرانی باتیں نظر آئیں۔ وہ باتیں اس ٹرک ڈرائیور سے ہوئی تھیں۔ ایک میسج میں احمد نے لکھا تھا:

“ٹھیک ہے، پہلے دو لاکھ ابھی، باقی تین لاکھ انشورنس کلیئر ہونے کے بعد۔ بلال کو اس دن کالج نہیں جانا تھا، میں نے اسے کہا تھا کہ شام کو دوکان سے پیسے لے کر آنا۔ تم ٹھیک وقت پر پہنچ جانا۔”

میں نے وہ میسج پڑھا تو میرے ہاتھ کانپنے لگے۔ میرا دل اتنی زور سے دھڑکا کہ میں نے سوچا احمد جاگ جائیں گے۔ مگر وہ گہری نیند سوئے ہوئے تھے۔ چاندنی رات تھی اور کمرے میں چاند کی روشنی آ رہی تھی۔ اس روشنی میں احمد کا چہرہ بہت پرسکون تھا۔

میں اس چہرے کو دیکھ رہی تھی اور یہ سوچ رہی تھی کہ جس شخص سے میں نے شادی کی تھی، جسے میں نے اپنا سب کچھ سمجھا تھا، اس نے اپنے بھائی کو قتل کروایا۔ صرف پیسوں کے لیے۔ انشورنس کی رقم کے لیے۔

اور اس قتل کا الزام میرے سر لگا۔

میں ساری رات جاگتی رہی۔ صبح ہوئی تو میں نے احمد کو چائے دی۔ انہوں نے چائے پیتے ہوئے کہا، “تم بہت پریشان لگ رہی ہو۔ کیا ہوا؟”

میں نے مسکرا کر کہا، “کچھ نہیں، بس نیند پوری نہیں ہوئی۔”

وہ چلے گئے۔ میں نے اپنا بیگ اٹھایا۔ میں نے ان موبائل میسجز کی تصویریں لے لی تھیں۔ میں نے وہ پرچی بھی سنبھال لی تھی۔ میں باہر نکلی تو ساس امی جان سیڑھیوں پر بیٹھی تھیں۔ انہوں نے مجھے دیکھ کر منہ پھیر لیا۔ ان کی نظروں میں وہی نفرت تھی۔

میں ان کے پاس رکی۔ انہوں نے مجھے دیکھا تو کہا، “کیا دیکھ رہی ہو؟ جاتی ہے تو جا، اس گھر سے دور جا۔ تیرا منہ کالا ہے۔”

میں نے آہستہ سے کہا، “امی جان، آپ کو سچ معلوم ہے؟”

وہ چونکیں۔ میں نے کہا، “بلال کو قتل کیا گیا تھا۔ اس کے اپنے بھائی نے۔ پیسوں کے لیے۔ اور وہ پیسے آپ کے دوسرے بیٹے نے لیے تھے۔”

وہ میری بات سن کر خاموش رہیں۔ پھر وہ زور سے بولیں، “جھوٹی! اپنی منحوسی چھپانے کے لیے جھوٹ بول رہی ہے۔”

میں نے انہیں موبائل کا میسج دکھایا۔ ان کا چہرہ دیکھنے کے قابل تھا۔ وہ دیوار سے لگ کر رہ گئیں۔ ان کی آنکھوں میں یقین اور انکار کی کشمکش تھی۔ پھر وہ پھٹ پڑیں، “یہ سب تیرا جھوٹ ہے۔ احمد ایسا نہیں کر سکتا۔”

میں نے کہا، “امی جان، آپ نے مجھے منحوس کہا۔ آپ کی عورتوں نے میرے ماتھے پر کلہاڑی کا نشان لگایا۔ مگر اصل منحوس آپ کے گھر میں پیدا ہوا تھا۔ آپ کے اپنے بیٹے کی شکل میں۔”

میں نے انہیں وہیں چھوڑ دیا اور سیڑھیاں اتر گئی۔ پیچھے سے ان کی آواز آ رہی تھی، وہ رو رہی تھیں اور کچھ کہہ رہی تھیں۔ مگر میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

باہر گلی میں دھوپ تیز تھی۔ موچی دروازے کی تنگ گلیوں میں دوکانیں کھل رہی تھیں۔ چائے والے کی کیتلی سیٹی بجا رہی تھی۔ میں اس چہل پہل میں کھڑی سوچ رہی تھی کہ اب میں کہاں جاؤں۔ میرے پاس سچ تھا، مگر کیا سچ کی کوئی قیمت تھی؟ لوگ اب بھی مجھے منحوس کہیں گے۔ اب تو شاید احمد بھی مجھے منحوس کہے کیونکہ میں نے اس کا راز پا لیا تھا۔

مگر میں جان گئی تھی کہ اس دنیا میں منحوس وہ نہیں ہوتا جس کی قسمت میں مصیبتیں لکھی ہوں۔ منحوس وہ ہوتا ہے جو مصیبتیں خود بنا تا ہے اور ان کا الزام دوسروں پر تھوپ دیتا ہے۔

میں نے اپنا بیگ کندھے پر اٹھایا اور چل پڑی۔ پیچھے میرے سسرال کی عمارت تھی، جہاں سے ابھی تک ساس کی چیخیں آرہی تھیں۔ اور آگے موچی دروازے کی بھیڑ تھی، جو مجھے اپنے اندر سمیٹنے کو بے تاب تھی۔

🌙

خلاصہ یہ کہ: ایک نئی دلہن پر دیور اور سسر کی موت کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ گھر کی عورتیں اسے منحوس قرار دے کر اس کی زندگی جہنم بنا دیتی ہیں۔ مگر جب وہ اس حقیقت سے پردہ اٹھاتی ہے کہ یہ تمام اموات ایک خاندانی راز کا حصہ ہیں، تو سامنے آتا ہے کہ منحوس وہ نہیں جس پر الزام لگا، بلکہ وہ ہے جس نے سچ چھپا کر کسی اور کی زندگی تباہ کر دی۔

اس کہانی نے آپ کے دل کو چھوا تو لائک کریں اور اپنے 🌙

کیا آپ نے کبھی اپنے ارد گرد کسی پر جھوٹا الزام لگتے دیکھا ہے؟ تبصرے میں ضرور بتائیں۔ 👇

Loading