ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ رب کو سمجھنے کے لئے ۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ سید اسلم شاہ)رب کو سمجھنے کے لئے صرف اتنے تجسس کی ضرورت ہوتی ہے جتنی ایک چھوٹے بچے میں ہوتی ہے ۔۔ خدا کو جاننے کے لئے گریجویشن ، پی ایچ ڈی تعلیم کی ضرورت نہیں ہوتی ۔۔۔۔ سوچ میں اتنی لچک درکار ہوتی ہے کہ پاؤں کا انگوٹھا بھی منہ تک آجائے ۔۔curiosity دراصل ایک نو حرفی لفظ ہے ۔۔۔ بندے میں اتنی courtesy ضرور ہونی چاہیئے کہ وہ حرفوں کو ملا کر اگر لفظ بنا رہا ہے تو ان کی گنتی بھی کرسکے courtesy کا مطلب اخلاقی جرات ہوتی ہے ۔۔۔۔ بندے کی اخلاقی جرات اسے تجسس تک لے جاسکتی ہے ۔۔۔ تجسس کے مادے ہی سے متجسس بنتا ہے ۔ بچے ہر شے کو منہ میں اس لئے بھی ڈالتے ہیں کہ وہ اس کا ذائقہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں ۔۔ رب جب اپنی خلاقی سے بچے کو الگ کرتا ہے تو وہ اپنے نور کا ایک نکتہ اس کے بدن پر ہمیشہ کے لئے لکھ دیتا ہے ۔۔ جسے ہم ناف کہتے ہیں ۔۔۔ ناف کا مطلب ہے کہ ایک وقت ایسا بھی تھا کہ تو منہ میں لقمہ بھی نہیں ڈال سکتا تھا اس وقت بھی کوئی تھا جسے تیری بھوک کا خیال تھا تیرے جسم کا خیال تھا تیری تکمیل کی خواہش تھی ۔۔۔اسے navel کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ۔۔۔
![]()

