روحانیت کیا ہے ؟
انتخاب ۔ محمد جاوید عظیمی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ روحانیت کیا ہے ؟ ۔۔۔ انتخاب ۔ محمد جاوید عظیمی)زندگی کا وہ سمندر جس کی تہہ میں امن ہے وہ لوگ واقعی خوش نصیب ہیں جنہوں نے اس خاک کی دھرتی پر روحانیت کے سمندر میں اترنے کا راستہ پا لیا۔ جو یہ سمجھتے ہیں کہ انسان محض گوشت پوست کا پُتلا نہیں، بلکہ ایک نورانی روح ہے جس کی اپنی بھوک، اپنی تشنگی اور اپنی منزل ہے۔ ایسے لوگ زندگی کے اسرار کو پا لیتے ہیں۔
لیکن افسوس، ہمارے گرد بہت سے ایسے افراد ہیں جو روحانیت کے بارے میں عجیب و غریب تصورات رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک روحانیت کا مطلب دنیا سے فرار، گھر بار چھوڑ دینا، لذتوں سے محرومی اور ایک پراسرار راہب بن جانا ہے۔ یہ سوچ انہیں روحانی سفر سے اتنا خوفزدہ کرتی ہے کہ وہ مادی لذتوں اور سطحی کھانے پینے کے دائروں میں ہی محدود رہ جاتے ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد صرف پیٹ بھرنا اور عارضی خوشیوں کے پیچھے بھاگنا بن کر رہ جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سمندر کے کنارے کھڑے ہو کر صرف کنکریاں چنتے رہتے ہیں، اس کی گہرائیوں میں چھپی موتیوں کی کنجی سے بے خبر۔
*تو پھر روحانیت ہے کیا؟*
روحانیت کوئی پیچیدہ فلسفہ یا راہبانہ ریاضت کا نام نہیں۔ روحانیت ایک سادہ، صاف ستھرا راستہ ہے۔ یہ آپ سے صرف اور صرف برائیوں کو چھڑواتا ہے۔ بس۔
یہ نہیں کہ آپ اپنا گھر، روزگار یا ذمہ داریاں چھوڑ دیں۔ بلکہ یہ ہے کہ آپ اپنے اندر کی کینہ، نفرت، لالچ، بغض، جھوٹ اور بے ایمانی چھوڑ دیں۔ روحانیت آپ سے کہتی ہے اپنے کام میں ایمانداری اختیار کرو، دوسرے کے حق نہ مارو، زبان کو جھوٹ سے پاک رکھو، دل کو نفرت سے صاف کرو، ہاتھ ظلم سے بچاؤ۔
یہ ایک “اپ گریڈ” ہے آپ کے وجود کا۔ جیسے آپ اپنے فون کے سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ کرتے ہیں تاکہ وہ بہتر چلے، روحانیت آپ کے اخلاق و اعمال کا اپ ڈیٹ ہے۔ اس سے آپ کی دنیوی زندگی تنگ نہیں ہوتی، بلکہ اور بھی بہتر، پر سکون اور با مقصد ہو جاتی ہے۔
*روحانیت کا ثمر، ایک متوازن اور پرکیف زندگی*
جو لوگ روحانیت کو سمجھ لیتے ہیں، ان کی زندگی میں ایک توازن آ جاتا ہے۔ وہ کھاتے پیتے ہیں مگر لالچ اور اسراف کے بغیر۔ وہ کماتے ہیں مگر دھوکہ دے کر نہیں۔ وہ تعلقات رکھتے ہیں مخلصی کے ساتھ۔ ان کا دل ہلکا ہوتا ہے، کیونکہ اس میں کسی کے لیے کدورت نہیں ہوتی۔ ان کی نیند گہری ہوتی ہے، کیونکہ ضمیر صاف ہوتا ہے۔ یہی تو روح کی فلاح ہے۔
سمجھو اور نکلو، روحانیت کا سفر دور دراز کے جنگلوں یا غاروں میں شروع نہیں ہوتا۔ یہ سفر شروع ہوتا ہے آپ کے اپنے دل کے دروازے سے۔ ایک چھوٹی سی آغاز کافی ہے. کسی ضرورت مند کی بلاوجہ مداد کر دو۔ کسی سے ہوئی غلطی معاف کر دو۔ اپنے کام میں پورا انصاف لو۔ روزانہ چند لمحے خاموشی سے اپنے آپ سے ملاقات کرو۔ یہ سب روحانیت کے چھوٹے چھوٹے قدم ہیں۔
اس لیے ان غلط فہمیوں کے جال میں مت پھنسو کہ روحانیت دنیا چھوڑنے کا نام ہے۔ بلکہ یہ دنیا کو ایک بہتر، روشن اور با معنی طریقے سے جینے کا نام ہے۔ روحانیت آپ کی روح کو غذا دیتی ہے، جس طرح جسم کو غذا درکار ہوتی ہے۔
خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس غذا کو پہچانتے ہیں۔ اور بدقسمت ہیں وہ، جو اس کے وجود سے ہی انکار کر کے اپنی روح کو بھوکا مارتے ہیں۔
وقت ہے کہ سمجھو، اور اپنے حقیقی وجود کی طرف سفر شروع کرو۔ یہی زندگی کا اصل مقصد ہے۔
۔
از حکیم وجاہت علی خان
03096207007
![]()

