سلطنتِ عثمانیہ کا بے خوف امیر البحر عروج بربروسا۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )مسلم مجاہد اور عثمانی بحری کمانڈرعروج بربروسا ایک یورپی النسل ملاح تھے جن کی جڑیں البانوی پس منظر سے جوڑی جاتی ہیں۔ بعد میں وہ اسلامی دنیا کے عظیم بحری مجاہد بنے۔ انہیں عثمانی سلطان سلطان سلیم اوّل کے دور میں مسلمانوں کی مدد کے لیے اہم مہمات سونپی گئیں۔
تاریخی پس منظر
1492ء میں جب غرناطہ عیسائی حکمرانوں کے قبضے میں چلا گیا تو اندلس کے مسلمانوں (موریسکوز) پر سخت مظالم شروع ہوئے۔ ان مظلوم مسلمانوں کی فریادیں شمالی افریقہ اور عثمانی علاقوں تک پہنچیں۔ اس وقت اسپین اور پرتگال کی بحری طاقتیں بحیرۂ روم اور بحرِ اوقیانوس میں غالب تھیں۔
اسی دور میں عروج بربروسا اور ان کے بھائی خیردین بربروسا شمالی افریقہ کے ساحلی علاقوں خصوصاً الجیریا میں سرگرم تھے اور انہوں نے اندلس کے مسلمانوں کو بچانے کے لیے متعدد بحری مہمات چلائیں۔
تاریخی مصادر کے مطابق عروج بربروسا نے 1504ء سے 1516ء کے درمیان کئی بحری کارروائیاں کیں جن میں انہوں نے:
بحیرۂ روم کے مغربی حصے تک سفر کیا۔ ہسپانوی بحری طاقتوں سے مقابلہ کیا۔
اندلس کے ساحلی علاقوں سے مسلمانوں کو نکال کر محفوظ مقامات تک پہنچایا۔
ان مہمات کے دوران ہزاروں مسلمانوں کو اسپین کے ساحلوں سے نکال کر شمالی افریقہ، خاص طور پر الجزائر اور تیونس منتقل کیا گیا۔ بعض عثمانی اور مغربی تاریخ دانوں کے مطابق اس دوران ہزاروں سے لے کر دسیوں ہزار موریسکوز کو بچایا گیا۔
مہم کا طریقۂ کار
روایات کے مطابق یہ مہمات خفیہ انداز میں کی جاتی تھیں:
بحری جہاز رات کے وقت ساحل کے قریب پہنچتے۔ مقامی مسلمانوں کو خفیہ طور پر جمع کیا جاتا۔ انہیں جہازوں کے ذریعے شمالی افریقہ منتقل کیا جاتا۔ اس طرح بہت سے خاندان ہسپانوی ظلم و ستم سے بچ نکلے۔
عروج بربروسا کو اسلامی اور بحری تاریخ میں اس لیے یاد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اندلس کے مظلوم مسلمانوں کی عملی مدد کی۔ عثمانی بحری طاقت کی بنیاد مضبوط کی۔ شمالی افریقہ کو ہسپانوی قبضے سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اللہ تعالیٰ مجاہد عروج بربروسا پر رحم فرمائے اور انکو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
حوالہ جات: عثمانی تاریخ کے شاہکار
تحریر:محمد سہیل
![]()

