Daily Roshni News

سوال:-قطبِ ارشاد کیا ہوتا ہے؟

سوال:-قطبِ ارشاد کیا ہوتا ہے؟

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جواب:-*قطبِ ارشاد جو ہے ایک لفظ ہے جو فقیروں نے بنایا ہے ۔ قطب کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ ایک مقام ہے ۔ اسی طرح غوث ، قطب ، ابدال ، اور قلندر ، یہ سارے مقامات ہیں ۔ قطب ایک مقام ہے یعنی کہ تصوف میں ایک درجہ ہے ۔ قطب کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جو ایک جگہ ٹھہر جائے تا کہ اِدھر اُدھر نہ ہو جیسے قطب مینار ہوتا ہے ، جس طرح سمندر میں لائٹ ہاٶس ہوتا ہے کہ اِدھر اُدھر کا بھولا بھٹکا جہاز آئے تو وہاں اس نے لائٹ دینی ہے کہ یہاں سے گزر جاوء تو تمہارا سفر صحیح رہے گا ۔ اسی طرح قطب کو ایک مقام پر فکس کر دیا جاتا ہے اور پھر اس کو Pivot کا مقام دیا جاتا ہے ۔ Pivot کا مطلب یہ ہے کہ اس کے گرد واقعات گھومنا شروع ہو جاتے ہیں

 دو قسم کے قطب ہوتے ہیں ، ایک قطب تو خاموش ہوتا ہے اور اس کے پاس کرامتیں ہی کرامتیں ہوتی ہیں اور اسے بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ خاموشی سے ہر کام کرتا ہے ۔ ہر کام کر سکتا ہے مگر بول نہیں سکتا ۔ تو یہ قطب کی ایک قسم ہے جو سارے کام اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق کرتا جاتا ہے اور اسے بولنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ۔ بس وہ کام کرتا جاتا ہے ۔ تو وہ کارگر ہوتا ہے ۔ اور دوسری قسم یہ ہے کہ ایک قطبِ ارشاد ہوتا ہے ، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہر چیز کی وضاحت پیش کرتا جائے تا کہ لوگوں کے خیال میں Suffocation نہ ہو ، گھٹن نہ پیدا ہو جائے اور خیال کو دھواں یا گرد نہ لگ جائے ۔ تو وہ لوگوں سے گفتگو کرتا ہے اور ان کے خیال کو Ventilator لگا دیتا ہے ، روشندان لگا دیتا ہے ، ان سے باتیں کرتا ہے اور نتیجہ وہی ہوتا ہے جو قطبِ عالم کا ہوتا ہے ۔ تو یہ اپنی کرامتیں کرتے ہیں اور بڑے کار گر ہوتے ہیں ۔ عام طور پر ان کے پاس لوگ جاتے ہیں ، کام ہو جاتا ہے اور بولنے کی ضرورت کوئی نہیں ہے مگر کبھی کبھی زندگی میں بولنا بہت ضروری ہو جاتا ہے ، اس وقت پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں نامزد کر دیا جاتا ہے اور اس کو قطبِ ارشاد بنا دیا جاتا ہے ، پھر کہا جاتا ہے کہ یہ صاحبِ ارشاد ہو گا ، اس کی بات میں طاقت ہو گی ، اس کی بات میں وزن ہو گا ، اس کی بات میں صداقت ہو گی ، مقام قطب کا ہو گا اور اس کا Operation ، اس کا کام اس کا بیان ہو گا ۔ ہماری یہ دعا ہے کہ اللہ سب کو اپنا دوست بنا لے ، اس کے ہاں کوئی کمی نہیں ہے ۔ یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دوست بنا لیا تو کہاں سے کھلائے گا ، وہ تو کائنات کو پہلے ہی کھلا رہا ہے ، دوست بنانے میں اس کو کیا مشکل ہے ، ہر ایک کو دوست بنا سکتا ہے ۔ اگر تمہارا دوست اللہ ہے تو تم اللہ کے دوست ہو ۔ اب بتاوء اللہ تمہارا دوست ہے کہ نہیں ہے ۔ تو تم اس لیے دل سے ایک بار کہو کہ یااللہ ہم تیری دوستی چاہتے ہیں ، تیرا فضل چاہتے ہیں ۔ تو اس کی دوستی عام ہے ، مسلمان کیوں نہ اللہ کے دوست ہوں ، اللہ کے دوست” نحن اولیاء کم فی الحیٰوة الدنیا “ ہم دنیا میں تمہارے اولیاء ہیں ، تمہارے وارث ہیں ، پالنے والے ہیں ۔ اس لیے یہ ہے قطبِ ارشاد کا مقام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(گفتگو والیم 11 …….. صفحہ نمبر 141 ، 142)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

Loading