سُلگتا کراچی۔۔۔
تحریر: سیدہ شاذیہ مقصود
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ سُلگتا کراچی۔۔۔ تحریر: سیدہ شاذیہ مقصود)گل پلازہ میں لگنے والی آگ اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال ہم سب کے سامنے ہے۔
ہمارا قومی المیہ یہ ہے کہ ہم صرف اس وقت متحد ہوتے ہیں جب اس قوم پر کوئی ناگہانی آفت یا آزمائش آۓ ورنہ ایک دوسرے پہ الزام تراشی اور ہم اچھے اور تم برے میں ہی پھنسے رہتے ہیں۔ بات صرف یہ نہیں ہے کہ سانحہ کیوں ہوا؟ یہ حادثہ کس کی ناقص کارکردگی کا نتیجہ ہے؟ بلکہ بات یہ ہے کہ جن کے لوگ اللہ سبحانہ و تعالی کے حضور پیش ہو گئے ان کے نڈھال وجودوں کو تو صرف اللہ تعالی کی پاک ذات ہی صبر جمیل دے سکتی ہے،لیکن ایک بات یہ بھی ہے کہ ہم کراچی والے کسی مصیبت اور بری گھڑی میں بلا تفریق رنگ و نسل ایک قوم بن جاتے ہیں۔ کچھ لوگوں میں ابھی بھی انسانیت کی رمق باقی ہے۔ دوسروں کا احساس ہی ہمیں بتاتا ہے کہ ہم انسان ہیں۔ دوسروں کا درد سمجھ سکتے ہیں اور انکی ہر وہ ممکن مدد کر سکتے ہیں جو ہمارے بس میں ہے۔ ہم ایک دوسرے کے لئے انجان ہیں لیکن اس وقت اہل کراچی کے دل غم سے بوجھل ہیں۔ آزمائش میں گھرے ان گھرانوں کو اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں۔ میں فیس بک اور انسٹا پر بہت سی ایسی پوسٹ دیکھ رہی ہوں جس میں لوگ گل پلازہ کے دکان داروں کو مینشن کر رہے ہیں کہ ان کے buisness کو سپورٹ کریں۔Atrium mall نے ان تاجروں کے لیے فری exhibition کا اعلان کیا ہے جس میں یہ سارے لوگ اپنے سامان کی فروخت اور اس کی promotion کر سکتے ہیں۔ ماما پارسی اسکول کی انتظامیہ نے ان تمام بچوں کی فیس معاف کر دی ہے جن کے والدین کا اس سانحے میں نقصان ہوا ہے۔ لوگ ایسی تمام پوسٹ میں فیس بک اور انسٹا پہ ایک دوسرے کو مینشن کررہے ہیں۔ بہت سارے لوگوں کی جان اس لئے بھی گئی کہ وہ دوسروں کی جان بچانے کے لئے اندر تھے اور دوسرے لوگوں خاص طور پہ خواتین اور بچوں کو باہر نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہاں پہ ان firefighter فرقان کا ذکر بھی اہم ہے جن کے جذبے نے انہیں بہت خاص بنا دیا واقعی ایسے لوگ ہی قومی ہیرو ہوتے ہیں۔ ہم کراچی والے دوسروں کی رفوگری کا ہنر جانتے ہیں خود جل گئے لیکن اپنے چراغ سے کسی اور کو روشنی دے گئے۔
تو بس ثابت ہوا کہ ہم میں ابھی انسانیت باقی ہے۔احساس کی رمق باقی ہو جینا اسی کا نام ہے۔ دل بہت بوجھل ہے۔اللہ پاک ہم پہ رحم کرے۔
کرو مہربانی تم اہل زمیں پہ
خدا مہرباں ہو گا عرش بریں پہ
کہیں تھی راکھ ،کہیں تھا دھواں ،کہیں تھی آگ!!
آگ سے سیکھ لیا ہے یہ قرینہ ہم نے
بجھ بھی جانا تو بڑی دیر سلگتے رہنا!!
ہم اہل کراچی جاگ رہے ہیں بس ادارے سو رہے ہیں حکومت سو رہی ہے۔۔۔۔ واقعی یہ سچ ہے کہ کراچی سب کا پر کراچی کا کوئی نہیں۔
#GulPlaza
![]()

