Daily Roshni News

سیکس ویڈیوز دیکھنے سے دماغ پر کیا اثر پڑتا ہے؟

سوال و جواب

تحریر ۔۔۔ عبد السلام صاحب

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ تحریر ۔۔۔ عبد السلام صاحب)سوال : سیکس ویڈیوز دیکھنے سے دماغ پر کیا اثر پڑتا ہے۔ اس کی لت کیوں لگتی ہے اور اس کا ذہنی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے۔

جواب: انسانی دماغ میں جنسی جذبہ، محبت، قربت، تعلق، قدردانی، توثیقیت، اور جمالیاتی احساسات آپس میں جڑے ہوئے ہوتے ہیں، لیکن فحش ویڈیوز ان تمام مثبت انسانی جذبات کو کاٹ کر صرف ’’لذت کوشی‘‘ کے حصے کو الگ کر دیتی ہیں۔ دماغ بنیادی طور پر انعامی نظام پر کام کرتا ہے، جہاں ڈوپامین نامی ہارمون خوشی اور تحریک کا سگنل دیتا ہے۔ جب کوئی شخص porn ویڈیو دیکھتا ہے تو دماغ کو حقیقی تعلق، قربت، لمس، جذبات یا باہمی محبت حاصل نہیں ہوتی، مگر ویڈیو کے تیز اور غیر قدرتی محرکات کی وجہ سے ڈوپامین کا اخراج بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ اسے اعصابی سائنس میں supranormal stimulus کہا جاتا ہے، یعنی ایسی چیز جو قدرتی محرک کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور انداز میں دماغ کو تحریک دے۔ اس طرح دماغ فوری خوشی محسوس کرتا ہے لیکن اندرونی طور پر یہ خوشی کھوکھلی ہوتی ہے کیونکہ اس میں مندرجہ بالا جذباتی لوازمات نہیں ہوتے جو اصل جنسی تعلق میں ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ویڈیو دیکھنے والا ذہنی طور پر لذت تو لیتا ہے مگر جذباتی طور پر خالی محسوس کرتا ہے۔

فحش ویڈیوز میں ملا ہوا یہ تیز ڈوپامین ریلیز ایک نشے کی طرح کام کرتا ہے، جس میں وقتی راحت تو ملتی ہے مگر یہ دماغ کے نظام کو ہیک کر دیتا ہے۔ قدرتی جنسی تعلق میں قربت، باہمی احترام، جذباتی وابستگی اور جسمانی زبان شامل ہوتی ہے، جب کہ فحش ویڈیو میں ان میں سے کوئی بھی شے نہیں ہوتی۔ نتیجے میں، دماغ وقت کے ساتھ مزید تیز محرکات چاہنے لگتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے نشہ آور چیزوں میں tolerance پیدا ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فحش ویڈیوز دیکھنے سے ایک اور بڑا مسئلہ پیدا ہوتا ہے جسے objectification کہتے ہیں۔ انسان دوسرے انسان کو ایک مکمل شخصیت کے بجائے صرف ایک جسم یا جنسی شے کی طرح دیکھنے لگتا ہے، جس سے ہمدردی، احترام اور تعلق کی گہرائی کم ہو جاتی ہے۔ طویل مدت میں یہ رویہ انسان کو اپنے سماجی، اخلاقی اور جذباتی فرائض سے دور کر دیتا ہے، کیونکہ دماغ کا reward system آسان اور فوری لذت کے شارٹ کٹ کو ترجیح دینے لگتا ہے۔

سوال: اگر کوانٹم انٹینگلمنٹ یا کوانٹمی الجھاؤ (quantum entanglement) درست ہے تو پھر ایک جگہ سے دوسرے روشنی کی رفتار سے زیادہ تیز انفارمیش سفر کرتی ہے، کیا یہ خصوصی نظریہ اضافیت کے خلاف نہیں ہے؟

جواب: کوانٹم انٹینگلمنٹ میں دو ذرات اس طرح باہم جڑے ہوتے ہیں کہ ان کی کوانٹم حالت ایک مشترکہ ”سسٹم“ بن جاتی ہے، چاہے وہ کائنات کے کسی بھی فاصلے پر رکھے جائیں۔ جب ایک ذرّے کی پیمائش کی جاتی ہے تو پورے مشترکہ سسٹم کی حالت فوری طور پر متعین ہو جاتی ہے، اور اسی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے دوسرے ذرّے کی “حالت” بھی فوراً بدل گئی ہے۔ آئن سٹائن نے اسی کیفیت کو “spooky action at a distance” کہا تھا۔

لیکن اس کے باوجود کوانٹم انٹینگلمنٹ روشنی سے تیز سگنلنگ کی اجازت نہیں دیتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انٹینگلڈ ذرات کی حالتیں پیمائش سے پہلے رینڈم ہوتی ہیں۔ جب آپ پہلے ذرّے کی پیمائش کرتے ہیں تو جو نتیجہ ملتا ہے وہ مکمل طور پر اتفاقی ہوتا ہے۔ اسی طرح دوسرے ذرّے کی حالت بھی رینڈم ہوتی ہے، چاہے وہ باہم correlated کیوں نہ ہوں۔ چونکہ نتیجہ رینڈم ہے، اس لیے آپ اس correlation کو استعمال کر کے کوئی پیغام اینکوڈ نہیں کر سکتے۔ یعنی انٹینگلمنٹ میں “فوری تعلق” تو موجود ہوتا ہے مگر یہ تعلق معلومات کی منتقلی کے قابل نہیں ہے۔ اس وجہ سے کوئی سگنل، اطلاع یا میسج روشنی کی رفتار سے زیادہ تیز نہیں جا سکتا۔ اس طرح Special Relativity کا قانون بھی برقرار رہتا ہے۔

آداب

Loading