شیکسپیئر مرد نہیں تھے؟ ایک نئی تحقیق
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )شیکسپیئر کی ادبی میراث صدیوں سے دنیا بھر کے ادبی حلقوں میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے اور ان کی تحریروں کو انسانی نفسیات، سماجی مسائل اور فلسفیانہ سوالات کی گہرائی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں ایک نئی تحقیق نے اس روایتی تصور کو چیلنج کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ولیم شیکسپیئر دراصل ایک سیاہ فام یہودی خاتون تھیں جن کا نام ایمیلیا باسانو تھا اور انہوں نے شیکسپیئر کے قلمی نام سے مشہور تمام ڈرامے اور شاعری تخلیق کی۔
یہ دعویٰ ایک کتاب دی ریئل شیکسپیئر میں پیش کیا گیا ہے جو فیمنسٹ مورخ آئرین کوسلٹ کی تحریر ہے اور اس نے ادبی دنیا کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ اس کتاب کے مطابق ایمیلیا باسانو ٹیوڈر دور کی ایک کثیر الثقافتی خاتون تھیں جو شاہی دربار سے وابستہ شاعرہ تھیں اور ان کی اصل شناخت صدیوں تک مغربی اور یورپی مرکز کی تاریخ نویسی کی وجہ سے چھپائی گئی۔ ایمیلیا باسانو کا جنم 1569 میں لندن میں ہوا تھا اور ان کا خاندان وینس سے تعلق رکھنے والے یہودی موسیقاروں کا تھا جو انگلینڈ میں آباد ہوئے تھے۔ ان کے والد بپتسٹا باسانو ایک موسیقار تھے جو ملکہ الزبتھ اول کے دربار میں خدمات انجام دیتے تھے اور ان کی والدہ مارگریٹ جانسن تھیں۔
ایمیلیا کی پرورش ایک ایسے ماحول میں ہوئی جہاں موسیقی، ادب اور ثقافتی تنوع کا غلبہ تھا اور وہ خود ایک تعلیم یافتہ خاتون تھیں جو اطالوی، لاطینی اور ممکنہ طور پر عبرانی زبان سے واقف تھیں۔ تاریخی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی جلد کی رنگت گہری تھی جس کی وجہ سے الزبتھن دور میں انہیں سیاہ فام کہا جاتا تھا اور ممکن ہے کہ ان کی جڑیں مراکش یا شمالی افریقہ سے ہوں جہاں سے ان کے آباؤ اجداد ہجرت کر کے یورپ آئے تھے۔ ایمیلیا نے 1611 میں ایک کتاب سالوے ڈیوس ریکس جوڈیورم شائع کی جو انگلینڈ میں کسی خاتون کی شائع کردہ پہلی شاعری کی کتاب تھی اور اس میں عورتوں کی روحانی اور سماجی حیثیت پر زور دیا گیا تھا۔
تحقیق کے مطابق شیکسپیئر کے ڈراموں میں خواتین کے کرداروں کی گہرائی، یہودی موضوعات جیسے کہ مرچنٹ آف وینس میں یہودی کرداروں کی تصویر کشی اور اطالوی ثقافت کے بارے میں تفصیلی علم ایمیلیا کی زندگی اور پس منظر سے مطابقت رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر شیکسپیئر کے سونیٹس میں ڈارک لیڈی کا ذکر ہے جو ایک سیاہ فام خاتون کی طرف اشارہ کرتا ہے اور مورخین کا خیال ہے کہ یہ ایمیلیا خود ہو سکتی ہیں۔
کتاب کا دعویٰ ہے کہ الزبتھن انگلینڈ میں خواتین کو اسٹیج کے لیے ڈرامے لکھنے کی اجازت نہیں تھی اس لیے ایمیلیا نے اپنے کام کو ایک مردانہ قلمی نام ولیم شیکسپیئر کے تحت شائع کیا اور بعد میں اسٹریٹفرڈ اپون ایون کے ایک کم تعلیم یافتہ شخص نے اس کام کو اپنے نام سے منسوب کر لیا۔ یہ شخص ولیم شیکسپیئر کے نام سے مشہور ہوا جو ایک تاجر اور اداکار تھا لیکن اس کی تعلیم اور تجربات شیکسپیئر کی تحریروں کی وسعت سے مطابقت نہیں رکھتے۔ مثال کے طور پر شیکسپیئر کے ڈراموں میں قانون، طب، سمندری سفر اور غیر ملکی ثقافتوں کا جو تفصیلی علم ہے وہ ایک کم پڑھے لکھے شخص کے بس کی بات نہیں لگتی جبکہ ایمیلیا کا شاہی دربار سے تعلق اور خاندانی موسیقاروں کی وجہ سے موسیقی کے حوالے شیکسپیئر کے ڈراموں میں تین گنا زیادہ استعمال ہونے والے موسیقائی حوالے بھی اس تھیوری کی حمایت کرتے ہیں۔
مزید برآں شیکسپیئر کی تحریروں میں یہودی روایات جیسے کہ کبالہ کے عناصر اور عورتوں کی طرف سے بیان کیے گئے جذبات ایمیلیا کی یہودی وراثت اور نسوانی نقطہ نظر سے جڑتے ہیں۔ تاہم یہ تھیوری ادبی ماہرین کی اکثریت کی طرف سے مسترد کی جاتی ہے جو شیکسپیئر کو اسٹریٹفرڈ کا پیدائشی ادیب مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس طرح کی سازشی تھیوریاں بغیر ٹھوس ثبوت کے ہیں۔ مثال کے طور پر تنقید کاروں کا کہنا ہے کہ ایمیلیا کی شاعری اور شیکسپیئر کی تحریروں میں اسٹائلسٹک فرق ہے اور کوئی دستاویزی ثبوت نہیں کہ وہ ڈرامے لکھتی تھیں۔ مزید یہ کہ الزبتھن دور میں ادبی کاموں کی اشاعت اور ملکیت کے بارے میں کوئی واضح ریکارڈ نہیں جو اس دعوے کی تائید کرے۔ پھر بھی یہ نئی تحقیق ادبی دنیا میں ایک بحث کو جنم دے رہی ہے جو صنفی مساوات، نسلی تنوع اور تاریخی روایات کی دوبارہ تشریح پر مرکوز ہے۔
اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوا تو یہ نہ صرف شیکسپیئر کی میراث کو تبدیل کر دے گا بلکہ یہ ظاہر کرے گا کہ تاریخ میں خواتین اور اقلیتوں کی شراکت کو کس طرح نظر انداز کیا گیا ہے۔ اس تھیوری کے حامیوں کا خیال ہے کہ مغربی تاریخ نویسی نے مردانہ اور یورپی مرکزیت کو برقرار رکھنے کے لیے ایسی شخصیات کو چھپایا ہے اور ایمیلیا باسانو کی مثال سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ادبی تخلیقات میں خواتین کا کردار کتنا اہم رہا ہے۔ یہ بحث ادبی مطالعے کو نئی جہت دے رہی ہے جہاں روایتی مفروضوں کو چیلنج کیا جا رہا ہے اور نئی تحقیق سے پرانی کہانیوں کو دوبارہ لکھا جا رہا ہے۔ اس طرح یہ نئی کتاب نہ صرف شیکسپیئر کی شناخت پر سوال اٹھاتی ہے بلکہ ادبی تاریخ کی تشکیل نو کی طرف اشارہ بھی کرتی ہے جو زیادہ جامع اور منصفانہ ہو سکتی ہے۔
Info Planet #infoplanet
![]()

