صدائے جرس
تخریب یا تعمیر
تحریر۔۔۔خواجہ شمس الدین عظیمی ؒ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ صدائے جرس۔۔۔ تحریر۔۔۔خواجہ شمس الدین عظیمی ؒ)ہر علم کے دو رخ ہیں … ہر زندگی کے دو رخ ہیں … ہر حرکت کے بھی دو رخ ہیں ….
غرضیکہ ہر مظہر کے دو رخ ہیں …. اسی طرح من حیث المجموع انسانی زندگی کے اعمال و حرکات کے بھی دو رخ ہیں۔
ایک تعمیری اور دوسر ا تخریبی …..! تعمیری رُخ وہ ہے جس سے نوع انسانی سکون حاصل کرتی ہے…. جس سے نوع انسانی کے اندر باہمی محبت پیدا ہوتی ہے اور یوں نوع انسانی اپنے مقصد حیات کو تلاش کر کے مقصد تخلیق کائنات کو پاسکتی ہے۔ اگر کسی علم اور کسی ایجاد کے پیچھے تخریبی ذہن کار فرما ہو تو یہ قطعاً اللہ تعالیٰ کے علوم کی طرف رہنمائی نہیں کریں گے. یہ سب شیطنت دائرے سے باہر نہیں ہو گا ….. گا۔ آج بظاہر ہمیں ترقی نظر آتی ہے لیکن جب ہم باطن میں اس علمی ترقی کو دیکھتے ہیں تو وہاں ہمیں لالچ اور دنیا وی غرض کے علاوہ کچھ ملتا ۔ تاریخ عالم کا مطالعہ کر لیجیے ، آپ خود مشاہدہ کر لیں گے کہ ہر دور میں ایک مخصوص گروہ نے انسانوں کو غلام بنا کر رکھا اور خود فرعونی طرز فکر کے تحت حکمرانی کرتا رہا، موجودہ سائنسی ترقی کے پیچھے بھی ایک مخصوص گروہ کی حکمرانی کا جذبہ محسوس ہوتا ہے …. جب ہم نوع انسانی کی ترقی و تعمیر پر غور کرتے ہیں تو یہ بات ہمارے سامنے آتی ہے کہ موجودہ دور کی ترقی نے انسانوں کو ایسا کچھ نہیں دیا جس کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا جاسکے کہ انسانی شعور بالغ ہو گیا ہے…..! انسانی شعور کی بلوغت تو اس وقت ہوتی، جب انسان کو حقیقی معنوں میں سکون حاصل ہو جاتا … لیکن صورت حال یہ ہے کہ جیسے جیسے ترقی ہو رہی ہے اور نئی نئی ایجادات سامنے آرہی ہیں، اسی مناسبت سے نوع انسانی پریشان اور بے سکون ہوتی چلی جارہی ہے ….
اگر ترقی کا نام واقعتا بے سکونی ہی ہے، تو پھر ہم تسلیم کر لیں گے کہ یہ ترقی ہے …!
اگر ترقی کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کی اکثریت اپنے ذہن سے سوچنے کے قابل ہی نہ رہے تو پھر مان لیتے ہیں کہ یہی ترقی ہے ….! ہم مانتے ہیں ….. اتنا ضرور ہوا ہے کہ ایک عام انسانی ذہن میں بھی ایسی ایسی باتیں آگئی ہیں جو ہمارے اسلاف، ہمارے بزرگوں اور ہمارے بڑے بوڑھوں کے ذہن میں نہیں تھیں مگر جس ترقی کا خواب نوع انسانی قرنوں سے دیکھتی آئی ہے کہ امن ، سکون و محبت عام ہو …. بھائی چارہ ہو ….. فساد
اور لڑائیاں نا پید ہو جائیں …. اس ترقی سے تو انسان ابھی کوسوں دور لگتا ہے.
آپ ذرا د نیا کے حالات پر نظر ڈالیے … آپ کو شاید کوئی ایسا خطہ ملے، جہاں پر ترقی یافتہ لوگوں نے جنگ مسلط نہ کی ہو….. ایک طرف تو حقوق انسانی Human Rights کے نعرے لگائے جاتے ہیں اور دوسری طرف حقوق انسانی کی پامالی کے لیے اسلحہ سپلائی کیا جاتا ہے …
ستم ظریفی یہ ہے کہ اسے “ترقی” کا نام دیا جاتا ہے۔ ماضی کے مختلف ادوار میں جس طرح مذہبی طبقوں نے معاشرتی زندگی پر اپنی اجارہ داری قائم کرلی . بہت سے معاشروں اور خطوں میں مذہبی اجارہ داروں نے اپنے پیرو کاروں کو کچھ اس طرح لفظوں کے جال میں پھنسا دیا تھا کہ وہ دانستہ یا نادانستہ اس بات کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ وہ مذہبی پیشوا آقا میں اور پیر و کار اُن کے غلام ……! کم و بیش یہی حال موجودہ ترقی کا بھی محسوس ہوتا ہے…. ایک نام نہاد ترقی نے انسانوں کو بے سکونی، پریشانی، ذہنی بیماریوں اور سب سے بڑھ کر فطرت سے دوری کے علاوہ کچھ نہیں دیا ….
انسان جب اس دنیا میں پیدا ہو تا ہے، تو اس کی حیثیت ایسی ہوتی ہے کہ نہ وہ بیٹھ سکتا ہے، نہ کروٹ بدل سکتا ہے، لیکن بتدریج زمین کا ماحول، زمین کاAtmosphere زمین کے اندر موجود Gases، زمین کے اندر روشنیوں اور لہروں کا انتظام، دھوپ، چاندنی ماں کالمس، گرمی، سر دی اس بچے کے اندر ایسی استعداد اور سکت پیدا کر دیتی ہے کہ بچہ کرولنگ کرتا ہے،سہارے سے کھڑا ہو جاتا ہے اور پھر چلتا پھرتا ہے، بھاگتا دوڑتا ہے اور یہاں تک کہ کشتیاں لڑتا ہے، بڑے بڑے پہاڑوں کو کاٹ دیتا ہے۔
سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں، جو عالمین کا رب ہے، جو عالمین کو پیدا کرتا ہے، تخلیق کرتا ہے اور تخلیق کی تمام ضروریات کو پیدا کر کے ہر تخلیق کی کفالت کرتا ہے. قدرت تعمیر کو پسند کرتی ہے اور تعمیر کی حوصلہ افزائی کرتی ہے مجھے امید ہے کہ تخریب پسندی ضرور ایک دن ختم ہوگی …. تعمیر کا غلغلہ ہو گا اور تعمیری فکر غالب ہوگی۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اگست 2023
![]()

