صلاح الدین ایوبی کی دانائی کا حیرت انگیز واقعہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )مصر کی سرزمین اُس دور میں انصاف اور عدل کی مثال سمجھی جاتی تھی، کیونکہ وہاں حکومت تھی عظیم سلطان صلاح الدین ایوبی کی۔ سلطان نہ صرف ایک بہادر سپہ سالار تھے بلکہ عقل و فراست میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔ ان کے دورِ حکومت میں اگر کوئی مظلوم فریاد لے کر آتا تو خالی ہاتھ واپس نہ جاتا۔
ایک دن صبح سویرے قاہرہ کے مضافات میں واقع ایک پرانے کنویں سے بدبو اٹھنے لگی۔ گاؤں والوں نے جب جھانک کر دیکھا تو ان کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ کنویں کے اندر ایک نوجوان لڑکی کی لاش پڑی تھی۔ پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ لڑکی غریب خاندان سے تعلق رکھتی تھی اور چند دنوں سے لاپتہ تھی۔ اس کے والدین سلطان کے دربار میں پہنچے اور انصاف کی دہائی دی۔
سلطان نے فوراً حکم دیا کہ کنواں بند کر دیا جائے اور لاش نکال کر معائنہ کیا جائے۔ سپاہیوں نے چاروں طرف تفتیش کی، گاؤں والوں سے پوچھ گچھ کی، مگر کوئی سراغ نہ ملا۔ نہ کوئی گواہ، نہ کوئی دشمنی، نہ کسی نے چیخ سنی۔ جیسے قاتل زمین نگل گئی ہو۔
چند دن گزر گئے مگر معاملہ وہیں کا وہیں رہا۔ سلطان پریشان تھے کہ ایک بے گناہ کا خون ہوا ہے اور قاتل آزاد گھوم رہا ہے۔ دربار میں بڑے بڑے مشیر جمع تھے۔ ہر ایک نے اپنی رائے دی مگر کوئی ٹھوس ثبوت نہ ملا۔
اسی دوران سلطان گہری سوچ میں ڈوب گئے۔ انہوں نے علاقے کے لوگوں کے مزاج اور مذہبی حساسیت کو ذہن میں رکھا۔ اچانک ان کی آنکھوں میں چمک آئی اور انہوں نے ایک عجیب و غریب حکم جاری کیا۔
“ایک خنزیر کو ذبح کر کے اسی کنویں میں پھینک دو۔”
دربار میں سناٹا چھا گیا۔ سب حیران رہ گئے۔ ایک وزیر نے ہمت کر کے عرض کیا، “یا سلطان! اس حکم میں کیا حکمت ہے؟”
سلطان نے مسکرا کر کہا، “جو میں دیکھ رہا ہوں، کل تم بھی دیکھ لو گے۔”
حکم کی تعمیل ہوئی۔ ایک خنزیر کو مار کر کنویں میں پھینک دیا گیا۔ پورا گاؤں حیرت میں مبتلا تھا۔ لوگ چہ مگوئیاں کر رہے تھے کہ سلطان آخر کیا کرنا چاہتے ہیں۔
اگلی صبح سلطان خود سپاہیوں کے ساتھ کنویں کے پاس پہنچے۔ وہاں کا منظر واقعی حیران کن تھا۔
کنویں کے آس پاس کی مٹی گیلی تھی، جیسے رات میں کسی نے پانی نکالا ہو۔ رسی کے تازہ نشان زمین پر واضح تھے۔ گویا کسی نے رات کی تاریکی میں کنویں سے پانی نکال کر اسے صاف کرنے کی کوشش کی ہو۔
سلطان نے زمین کا بغور جائزہ لیا۔ کچھ قدموں کے نشان ایک خاص سمت جا رہے تھے۔ انہوں نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ ان نشانات کا پیچھا کیا جائے۔
نشانات گاؤں کے ایک نوجوان کے گھر تک جا کر ختم ہوئے۔ وہ نوجوان بظاہر نیک اور خاموش طبیعت کا تھا۔ جب اسے دربار میں پیش کیا گیا تو وہ گھبرا رہا تھا۔
سلطان نے نرمی سے پوچھا، “رات تم کہاں تھے؟”
نوجوان ہکلانے لگا۔ اس کے پاس کوئی واضح جواب نہ تھا۔ سلطان نے کنویں کے کنارے کے تازہ نشانات اور اس کے گھر کے قریب پائی جانے والی گیلی رسی کا ذکر کیا۔ نوجوان کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
سلطان نے کہا، “تمہیں خنزیر کی ناپاکی برداشت نہ ہوئی۔ تم نے رات کو کنواں صاف کرنے کی کوشش کی۔ لیکن یہ فکر تمہیں اُس وقت کیوں نہ ہوئی جب تم نے ایک بے گناہ لڑکی کو اس میں پھینکا تھا؟”
یہ سنتے ہی نوجوان کے قدم لڑکھڑا گئے۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور وہ زمین پر گر پڑا۔
“میں نے قتل کیا ہے…” وہ چیخ اٹھا۔
دربار میں سناٹا چھا گیا۔
اس نے اعتراف کیا کہ وہ لڑکی کو پسند کرتا تھا۔ جب لڑکی نے اس کی بات ٹھکرا دی تو غصے میں آ کر اس نے اسے دھکا دیا۔ لڑکی بے ہوش ہو گئی اور وہ گھبرا کر اسے کنویں میں پھینک آیا۔ اسے لگا کوئی کبھی سچ نہ جان سکے گا۔
لیکن جب خنزیر کو کنویں میں ڈالا گیا تو اس کے دل میں خوف بیٹھ گیا کہ اب پورا گاؤں اس کنویں کا پانی ناپاک سمجھے گا اور شاید کبھی استعمال نہ کرے۔ اپنے جرم کو چھپانے اور بدنامی سے بچنے کے لیے وہ رات کی تاریکی میں کنواں صاف کرنے پہنچ گیا، مگر یہی حرکت اس کی پہچان بن گئی۔
سلطان نے گاؤں والوں کی طرف دیکھا اور فرمایا، “قاتل ہمیشہ کوئی نہ کوئی غلطی کرتا ہے۔ سچ کو چھپانے کے لیے وہ مزید حرکتیں کرتا ہے، اور وہی حرکتیں اسے بے نقاب کر دیتی ہیں۔”
نوجوان کو قانون کے مطابق سزا دی گئی۔ مقتول لڑکی کے والدین کو انصاف ملا۔ گاؤں والوں کے دل میں سلطان کی دانائی کا رعب اور بھی بڑھ گیا۔
یہ واقعہ پورے مصر میں مشہور ہو گیا۔ لوگ کہتے تھے کہ صلاح الدین صرف تلوار کے دھنی نہیں بلکہ ذہانت کے بھی سلطان تھے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ انصاف صرف طاقت سے نہیں بلکہ عقل، صبر اور انسانی نفسیات کو سمجھنے سے قائم ہوتا ہے۔
آج بھی جب اس علاقے میں اس پرانے کنویں کا ذکر آتا ہے تو بزرگ اپنے بچوں کو یہ قصہ سناتے ہیں کہ ظلم چاہے کتنا ہی چھپایا جائے، ایک دن ضرور سامنے آتا ہے۔
اور یہ بھی کہ ایک سچا حکمران وہ ہوتا ہے جو مجرم کو پکڑنے کے لیے صرف ہتھیار نہیں، بلکہ حکمت بھی استعمال کرے۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ جرم کے بعد انسان کا ضمیر اسے چین سے نہیں رہنے دیتا۔ اور کبھی کبھی مجرم خود اپنے ہاتھوں سے اپنے گناہ کا پردہ چاک کر دیتا ہے۔
یوں سلطان صلاح الدین ایوبی کی دانائی نے ایک معمہ حل کر دیا، اور ایک بے گناہ کی روح کو انصاف مل گی
#story
![]()

