صلیبی جنگوں کے چار ہیروز۔۔۔۔۔۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )صلیبی جنگوں میں جب مغربی یورپ ارض مقدسہ پر چڑھ دوڑا تھا تو کئی مسلم راہنما سامنے آئے جنہوں نے صلیبی طوفان کے سامنے بند باندھا لیکن ان میں یہ چار شخصیات سرفہرست ہیں
پہلی صلیبی جنگ کے نتیجے میں ارض مقدسہ میں چار صلیبی ریاستیں قائم ہو گئیں جن کی طاقت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی گئی انہوں نے مسلم حکمرانوں کی آپس میں چپقلش اور نااتفاقی کا خوب فائدہ اٹھایا
اس نازک دور میں والیئ موصل عمادالدین نے صلیبیوں کے خلاف military operations کا آغاز کیا اور کامیابیاں ملنا شروع ہوئیں عماد الدین کی وفات کے بعد اس کے قابل بیٹے نور الدین زنگی نے مہمات کا سلسلہ جاری رکھا نور الدین کو صلاح الدین ایوبی کی شکل میں ایک ہیرا مل گیا جو کہ زنگی خاندان کے سایہ تلے ہی تراشا گیا تھا یوں ان دونوں کی مشترکہ مہمات سے کئی اہم قلعے فتح کئے گئے
جب نور الدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی دو دھاری تلوار کی طرح وار کر ہی رہے تھے کہ نور الدین زنگی کی شہادت ہو گئی انہیں زہر دیا گیا اس کا الزام باطنی فرقے کے پیشہ ور فدائی قاتلوں پر بھی ڈالا جاتا ہے
نور الدین زنگی کے بعد صلاح الدین ایوبی نے زنگی علاقوں کے اہم اسٹریٹجک علاقوں کو اپنی قلمرو میں لے لیا تاکہ شام و مصر کو متحد کر کے صلیبیوں کے خلاف مضبوط فرنٹ قائم کیا جائے چنانچہ حطین کی اہم لڑائی میں صلیبیوں کو واضح شکست ہوئی اور بیت المقدس آزاد ہو گیا
صلاح الدین کی وفات کے بعد ایوبی خاندان کافی عرصہ حکومت کرتا رہا لیکن پھر مملوکوں (ترک غلام سپاہی) نے مصر و شام کا اقتدار اپنے ہاتھوں میں لے لیا یہ وہ دور تھا جب مشرق سے ایک ایسی آندھی اٹھی تھی جس نے راستے میں آنے والے ہر لشکر ہر شہر ہر بستی کو اکھاڑ کر رکھ دیا تھا اور بڑھتے بڑھتے ان کا لشکر شام کی حدود میں داخل ہو چکا تھا لیکن Baibars مملوکوں نے اس منگول آندھی کو روکا شام و مصر کو مضبوط کیا اور ارض مقدسہ میں صلیبیوں کے آخری گڑھ عکہ شہر فتح کر لیا۔
![]()

