صوبہ سندھ سے متعلق
تحریر ۔۔۔ محسن یاسین
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ صوبہ سندھ سے متعلق۔۔۔ تحریر ۔۔۔ محسن یاسین)سندھ ایک عظیم تاریخی، تہذیبی اور فکری ورثے کا حامل صوبہ ہے، جس نے ہمیشہ برداشت، رواداری اور انسان دوستی کا درس دیا ہے۔ اگرچہ آج سندھ کو گورننس، غربت، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، مگر اس کے باوجود یہ صوبہ بے پناہ صلاحیتوں اور وسائل سے مالا مال ہے۔ سندھ کی دھرتی آج بھی امن، صوفیانہ فکر اور ثقافتی ہم آہنگی کی علامت ہے۔ یہاں کے عوام محنتی، باوقار اور حالات سے نبرد آزما ہونے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن وہاں پر ایک ایسی معاشرتی برائی نے جنم لیا ہے جو امن کی گرویدہ مانے جانے والی اس زمین کو دیمک کی طرح کھا رہی ہے ۔ جس سے وہاں کے عام لوگوں کو سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ وہ ہے” قبائلی جھگڑے”۔ اس حکومتی نااہلی سے وہاں کے باشندوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے جو اس کا صفایا چاہتے ہیں۔ حال ہی میں رونما ہونے والے سانحے نے اس مسئلے پر سب کی نظریں جما دی ہیں۔ اس سے پیش آنے والے پیچیدہ اور مہلک نقصان نے وہاں کے ماحول کو خراب کر رکھا ہے۔ جس میں 1, امنی بحران ( قبائلی جھگڑے نہ صرف امن کے خلاف ایک روک تھام ہے بلکہ وہاں پر ہونے والے امنی بحران کا بھی ایک سنگین معمہ ہے جس کی وجہ سے معاملات زندگی شدید متاثر نظر اتی ہے) ۔2، نسل در نسل جھگڑے ( ان تنازعات کی شکل صرف موجودہ نسل پر ہی نہیں بلکہ نسل در نسل چلی جاتی ہے اور پھر یہ ایک تناور درخت کی روپ دھار لیتی ہیں۔ نتیجتاً ، بیشتر نوجوان خواتین اور بچے اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں) ۔ 3، خاندانی دشمنیاں ( ایک خاندان کا اگر صرف ایک فرد دوسرے خاندان کے ہاتھوں قتل ہوتا ہے تو یہ عداوت خاندانی دشمنی میں تبدیل ہو کر رہ جاتی ہے ۔ جس کا عملاً نقصان بچے اٹھاتے ہیں) ۔4, غیرت کے نام پر قتل ( ایک عورت کسی دوسرے خاندان سے تعلق رکھنے والے فرد کے ساتھ مبینہ بھاگ کر شادی کے بندھن میں بندھ جائے تو دوسرے خاندان والے اس کو اپنی غیرت اور انا کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ جس سے دشمنی اور بھی گہری بنتی چلی جاتی ہے) ۔ 5، تعلیم متاثر ( اس سارے مسئلے کے بیچ میں جس چیز کا نقصان زیادہ ہوتا ہے وہ ہے تعلیم متاثر۔ عموماً خاندان بچوں کو اس غرض سے اسکول نہیں بھیج پاتے کہ کہیں وہ قتل نہ کر دیے جائیں)۔ 6، قانون کی بالادستی ( کسی بھی معاشرے کی تشکیل نو کے لیے قانون کی بالادستی ہونا فقط ضروری ہی نہیں بلکہ اس معاشرے کے وجود کا ضامن بھی ہے۔ قانون معاشرے کو امن دیتا ہے جہاں ہر کوئی آرام و سکون کے ساتھ اپنی زندگی بسر کر سکے۔ لیکن عملا اندرون سندھ میں اس مسئلے پر قانون کی بالادستی نہ ہونا وہاں کے امنی بحران میں اضافے کا منہ بولتا ثبوت ہے) ۔ 7، جاگیردرانہ نظام ( سندھ میں قدیم عرصے سے رائج و دائم جاگیردارانہ نظام نے اس مسئلے کو جاری رکھنے میں مدد فراہم کی ہے ۔ جاگیردرانہ نظام کی سوچ سے دو فریقین کا تنازعہ اور بھی مضبوط تر ابھرنے اور پنپنے لگتا ہے) ۔ 8، امن کے حوالے سے پولیس کی نااہلی ( ساتھ ہی وہاں کی پولیس کی پالیسی سازی بھی خاص نظر نہیں اتی۔ کہیں اگر کوئی واقعہ پیش آئے تو پرانے انگریزی راج نظام کی تدبیریں استعمال ہوتی ہیں۔ جس سے امن کی شرح گرتی ہوئی پائی جاتی ہے)۔ 9، انصاف کی فراہمی کا نظام ( آئین پاکستان کے متصادم وہاں کے انصاف کا نظام چل رہا ہے جس میں قبائلی جرگے، فیصلے اور فتوی ہوتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے امن کی فراہمی میں ایک تعصب کی نگاہ پائی جاتی ہے)۔
ان سارے مسائل سے بے پناہ اور دیگر مسائل جنم لے رہے ہیں جن کا ختم ہونا مستحکم سماج کے لیے وقت کی ضرورت بن گیا ہے۔ اس معاشرتی اور سماجی برائی کے عوض حال ہی میں، اندرون سندھ کے ضلع شکارپور میں وہاں کے ایک لوکل چینل ” The Time News ” کے جنوری 2025 سے لے کر اب تک کے اعداد و شمار میں 167 افراد قتل کر دیے گئے ہیں ، جن میں 52 افراد کا تعلق ایک خاندان سے تھا ۔
قبائلی جھگڑوں کے اس ناسور نے ہمارے معاشرے کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انگریز نظام کے خلاف بغاوت اور قیام پاکستان میں پہلا ووٹ ڈالنے والی اس زمین میں یہ بے لگام سماجی بگڑاؤ کیوں کر پیدا ہوا۔ اس قبیع فعل نے ہمارے اقتصادی، روایتی، اور ثقافتی عدم استحکام میں ایک خلل کا رجحان برتا ہے۔ جو ہمیں اور وہاں کے عام خیال کی ترجمانی نہیں کرتا۔ اس بد اخلاقی اور ممنوعہ فعل کا جلد از جلد اختتام ہی پائیدار معاشرتی ترقی کی راہ ہے۔ اس مسئلے کو ہماری سرکار اپنے صوبائی ایمرجنسی سمجھ کر ختم کرنے کی کوشش کرے ۔ جس کے لیے وہاں کے عام لوگوں کو اس مطابق فراہم کرنا ہوگی۔ تعلیم کے نظام کو اور بھی خاطر خواہ بنانا ہوگا۔ یونیورسٹیز، کالجز ، اور اسکولوں میں اس ہولناک شر کے انجام سے اگاہی مہم شروع کرنا ہوگی۔ وہاں کے سیاسی رہنماؤں کو اس مسئلے پر دو خاندانوں میں مصالحت کا رشتہ مضبوط بنانا ہوگا۔ بہتر قانون اور عدالتی نظام کی بنیاد ہی اس مسئلے کا حل ہو سکتے ہیں۔ جس کے لیے موثر عدالتی کاروائی اور انصاف کی فراہمی کا نظام بہتر کرنا ہوگا۔ مقامی امن کمیٹیاں ، سول سوسائٹی ، قبائلی عمائدین علماء، استاد اور صحافیوں کو تحریک چلانا ہوگی ۔ غیب غیر جانبدار امن کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو ریاست کے دائرے کار میں رہتے ہوئے ثالثی اور مفاہمت کو فروغ دیں ۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ قبائلی تنازعات کو سنسنی خیز بنانے کے بجائے اصلاحی اور تعمیری تناظر میں اجاگر کرے تاکہ تشدد کے بجائے مکالمے کو فروغ ملے ۔ امن معاشرے سے جڑی وہ کیفیت ہے جس سے روز مرہ اور معاملات زندگی معمول کے مطابق پرتشدد اختلافات کے بغیر چل رہے ہوں۔ اس لیے حکومت اور عوام کا بیدار ہونا ضروری اور اخلاقی فرض ہے، کیونکہ ” ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے”۔ اس لیے ہم سب کو چاہیے کہ ہم اس پر اپنا بھرپور کردار ادا کریں تاکہ لوگ بنا کسی سوچ اور گھٹن والے ماحول سے آزاد ہو کر پرسکون معاشرے کے ہونے کا لطف لے سکیں ۔
![]()

