Daily Roshni News

صوفی ادب۔۔۔ حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

صوفی ادب

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ صوفی ادب۔۔۔ حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ )سوال:-آج کل بازار میں صوفی ادب پر بہت سی کتابیں ملتی ہیں مگر اکثر بزرگ کتابیں پڑھنے سے منع کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں آپ رہنمائی کر دیں

جواب:-

*آپ جانتے ہیں کہ خواجہ نظام الدین اولیاء کی کل کتنی کتابیں ہیں ۔ آج کل صوفی ادب بہت چھپتا اور بِکتا ہے ، لوگ پڑھتے ہیں لیکن صوفی نہیں بن سکتے ۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ بات یہ ہے کہ صوفی بننے کے لئے علم کے ساتھ موقعہ پر ایک معلم ہونا چاہیے ۔ کتابوں میں علم تو بزرگوں کا ہوتا ہے اور وہ خود اپنے آپ کا معلم بن جاتا ہے ، اپنے ساتھ رعائتیں کرتا جاتا ہے اور دھوکہ کھا جاتا ہے ۔اگر کوئی معلم ساتھ کھڑا ہو تو وہ بتائے گا کہ اس فقرے کا مطلب یہ ہے اور یہ بات یوں ہے ۔ تصوف کی کتابوں میں جو مشاہدات ہیں اور واقعات ہیں وہ اپنی جگہ پر درست ہیں لیکن کوئی واقعات سمجھائے تو پھر سمجھ آتی ہے

ایک پیر صاحب تھے ، انہوں نے اپنے بچے کو دینی تعلیم دینا شروع کی اور ڈھیر ساری کتابیں پڑھا دیں ۔ پھر انہوں نے اسے اپنے خلیفے کے پاس بھیجا کہ اس کو فقیری کی تعلیم دو ، ویسے جیسے میں نے تمہیں علم دیا تھا کیونکہ میں اس پر وہ سختی نہیں کر سکتا جو تم نے اس پر کرنی ہے ۔ خیر تو وہ پیر زادہ وہاں گیا اور کہا میں تعلیم لینے کے لئے آیا ہوں اور مجھے ابا حضور نے بھیجا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دروازے کے باہر کھڑے ہو کر انتظار کرو ، میں نے تمہارا استقبال اس لئے کیا تھا کہ ہمارے پیر کا فرزند ہے اور اب تُو علم کا متلاشی ہے ، اس لئے باہر جا کر انتظار کرو جیسا کہ ہم تمہارے والد صاحب کے پاس کیا کرتے تھے ۔ تو اس طرح تعلیم شروع ہو گئ ۔ جب تعلیم مکمل ہو گئ تو انہوں نے کہا میں نے پہلے ہی دن تمہارا غرور توڑ دیا تھا ، وہ غرور جو تمہیں پیر زادہ ہونے کا تھا اور اس غرور کو توڑے بغیر علم نہیں ملتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو کتاب سے علم نہیں ملتا ، معلم سے علم ملتا ہے ۔ کتاب آپ کو معلوم کا پتہ دیتی ہے ، علم دیتی ہے لیکن وارد کرنے والا ایک بندہ ہونا چاہیے ۔ ورنہ تو آپ کو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ صحیح علم کیا ہے اور غلط علم کیا ہے ، دنیا میں تو علم ہی علم ہے ۔ دنیا میں کیا سے کیا ہوتا جا رہا ہے؟ ہر وقت ہو رہا ہے ۔ ہر چیز ہر وقت ہو رہی ہے ، صبح ہو رہی ہے ، شام ہو رہی ہے ، اور دنیا چلتی جا رہی ہے ۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس میں آپ کا کیا ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ آپ کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ آپ کا علم ہے ۔ اس کے علاوه باقی جو ہو رہا ہے وہ تو ہو ہی رہا ہے ۔ لیکن جو نظر آ رہا ہے وہ بھی علم نہیں ہے کیونکہ وہ تو دوسرے کا ہے ۔ جو آپ دیکھ رہے ہیں یہ دوسرے کا علم ہے ۔ جو آپ سن رہے ہیں یہ بھی دوسرے کا علم ہے ۔ سنانے والا دوسرا بندہ ہے Second person اور Third parson ،  تو Real life کیا ہے؟ جو کچھ تمہارے ساتھ ہو رہا ہے ۔ یہ کام استاد مکمل کرتا ہے ۔ یہ استاد علم کو آپ پر وارد کرتا ہے ، صرف علم پڑھا نہیں دیتا ۔ استاد کا کمال یا اعجاز یہی ہے کہ وہ علم کو وارد کر دے۔ مثلاً

اگر کوئی  ”درد“ پر ایک کتاب لکھ دے تو آپ کو درس کی سمجھ نہیں آ سکتی مگر آپ کا شیخ آپ کو محسوس کراتا ہے کہ یہ ”درد“ ہے ۔ مثلاً  پہلے تمہیں کوئی چیز دے دے گا اور پھر کہے گا کہ اس کو چھوڑو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محبوب بھی ”درد“ وارد کرتا ہے کہ پہلے وصال ہوتا ہے اور پھر فراق دے جاتا ہے ۔ یہ محبوب کی ایک ادا ہے ۔ دنیا میں محبت کے جتنے قصے ہیں وہ فراق کے قصے ہیں ۔ رانجھا کہیں گیا اور ہیر کہیں اور گئ ۔ اگر یہ نہ ہوتا تو ہیر ، ہیر نہ ہوتی اور رانجھا ، رانجھا نہ ہوتا ۔ اگر دونوں کی شادی ہو جاتی تو مر جاتے اور غرق ہو جاتے ۔ جدا ہو کے دونوں زندہ ہو گئے ۔ جدائی نے رانجھے کو زمین سے آسمان کر دیا اور ہیر بھی زمین سے آسمان ہو گئ اور پھر دونوں کو وارث شاہؒ نے امر کر دیا۔ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے وارث شاہؒ کو زندہ کر دیا۔ بس دونوں باتیں ٹھیک ہیں

 تو صوفیاء نے فراق کی داستان کو زندگی کی داستان بنا دیا ۔ اسی طرح شہزاده سیف الملوک ایک پری بدیع الجمال کی تلاش میں نکل پڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میاں محمد صاحب ؒ کے  پاس جب یہ واقعہ آیا تو انہوں نے کیا سے کیا بنا دیا ۔ سیف الملوک کا قصہ بِن دیکھے کی محبت کا قصہ ہے کیونکہ وہ جس محبوب کی تلاش میں نکلا اسے دیکھا ہوا نہیں تھا ۔ کہتے ہیں کہ بِن دیکھے کی محبت دیکھے ہوئے کی محبت سے بہت زیادہ ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو میاں محمد بخشؒ نے آپ پر یہ داستان وارد کر دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

استاد اس لئے ضروری ہے کہ وہ آپ پر واقعہ وارد کر دیتا ہے ۔ اس لئے زیادہ کتابیں نہ پڑھا کرو بلکہ اس کی بجائے زندگی دیکھا کرو ۔ آپ زندگی کو کتابوں سے ڈھونڈ رہے ہو اور زندگی آپ کے دروازے کے سامنے سے گزر رہی ہے ۔ زندگی گھر کے پاس سے گزر جاتی ہے یا گھر کے اندر سے روٹھ کے چلی جاتی ہے ، ایسا نہ ہو کہ آپ کتاب میں مگن ہوں ، کتاب سے زندگی تلاش کرتے رہیں اور زندہ بندوں کو ناراض کر لیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے گھر میں زندہ بندے آپ کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں اور آپ کتابیں پڑھتے جا رہے ہوں

میاں بیوی کی ہی بات دیکھ لیں ۔ پاکستان کی دس کروڑ آبادی میں سے ایک انسان یعنی آپ کی بیوی آپ کے مقدر میں آئی ہے اور آپ کو وہ راس نہیں آئی اور آپ اسے راضی نہ کر سکے ۔ کیا انسان ہیں آپ بھی! اس کو تکلیف دے کے ، اذیت دے کے ، مار کے یا گھر سے نکال کے خوش ہو جاتے ہو ۔ اللہ آپ کو فرعون کی زندگی نہ دے اور فرعون کا مزاج نہ دے ۔ آپ اس ساتھی کی قدر کرو جو آپ کے لئے لاکھوں میں ایک ہے بلکہ کروڑوں میں ایک ہے اور اس کا مقدر دیکھو کتنا خراب ہے کہ آپ جیسا آدمی اُسے ملا ۔ تو آپ خوش رہا کرو اور اس پر بھی خوشی وارد کرو ۔ تب ہم آپ سے خوش ہوں گے ۔ خوشی اس طرح وارد کرو جس طرح استاد علم وارد کرتا ہے ۔ استاد آپ کو اصحابِ کہف کا قصہ سنائے گا کہ اس طرح غار میں لوگ مردہ پڑے رہے ۔ یہ غار قبر ہی تو تھی ۔ پھر کچھ عرصہ بعد لوگ زندہ ہو گئے ۔ یہ قصہ سنا کر وہ آپ سے کہے گا کہ تمہارے پاس روز ہی یہ واقعہ ہوتا ہے ۔ تم ماں کے رحم میں قبر کی طرح مردہ تھے ، پھر زندہ نکالے گئے ۔روزانہ سو جاتے ہو تو نیند میں مرے ہوتے ہو، پھر جگا کر زندہ کر دیے جاتے ہو ۔ موت سے زندگی اور زندگی سے موت، روزانہ ہی یہ عمل ہوتا رہتا ہے ۔ مرغی سے انڈہ اور  انڈے سے مرغی روز ہی دیکھتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے اللہ کو پہچانو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غرور کو نکال دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انسانوں کی قدر کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے ساتھی کی قدر کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے ساتھی کے ساتھ جو عمل کرو گے وہ اوپر والا اس کو ضرور دیکھ لے گا کیونکہ وہ بھی ساتھ ہے ، اس لئے ہر بات اوپر والے تک جا رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لئے اوپر والا اصل میں ساتھ والا ہے

(گفتگو 5 صفحہ نمبر 97 ، 98 ، 99 ، 100 ، 101)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

Loading