“عوج بن عنق” کی حقیقت ایک من گھڑت کہانی یا تاریخی دیو؟
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )! آج ہم ایک ایسے کردار کے بارے میں بات کریں گے جس کے بارے میں بہت سی عجیب و غریب کہانیاں مشہور ہیں۔ یہ نام آپ نے سنا ہو گا “عوج بن عنق”۔ کیا یہ واقعی حضرت موسیٰ ؑ کے زمانے کا ایک عظیم الجثہ دیو تھا؟ یا پھر محض ایک من گھڑت افسانہ؟ آئیے، حقیقت جاننے کی کوشش کریں۔
اسلامی نقطہ نظر: ایک واضح موقف
اسلامی علماء اور مستند اداروں کا اس بارے میں ایک ہی مؤقف ہے یہ کہانی سراسر جھوٹ اور بے بنیاد ہے۔
-
قرآن سے تصادم: بنیادی مسئلہ عقیدے کا ہے۔ قرآن مجید واضح فرماتا ہے کہ حضرت نوح ؑ کی طوفان کی سزا میں زمین پر موجود تمام کافر تباہ و برباد کر دیے گئے۔ پھر یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی دیو کافر، نوح ؑ کے زمانے سے لے کر موسیٰ ؑ کے دور تک زندہ رہا ہو۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں: اگر اللہ نے نوح ؑ کے اپنے کافر بیٹے کو بچایا نہیں، تو اس ظالم دیو کو کیسے بچا لیتا؟
-
حدیث کی روشنی: رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: “اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کو ساٹھ ہاتھ کے قد پر پیدا فرمایا۔ پھر آدم ؑ کی تخلیق کے بعد سے اب تک لوگوں کا قد کم ہوتا چلا آ رہا ہے۔” اس کا مطلب ہے کہ آدم ؑ کے بعد کوئی انسان ان کے قد تک بھی نہیں پہنچا، پھر ان سے بھی ہزار گنا بڑے قد کا دیو کیسے ہو سکتا ہے؟
-
جھوٹی روایات کا منبع: علماء کے مطابق یہ سب باتیں ضعیف اور موضوع (من گھڑت) روایات ہیں، جنہیں بعض اہل کتاب کے قصہ گو راویوں نے اسلامی روایات میں شامل کر دیا۔ یہ کہانیاں “بے ہودہ”، “فضول” اور “بالکل بے بنیاد” قرار دی گئی ہیں۔
توراتی اور تاریخی حوالہ “بشان کا بادشاہ عوج”
اس دیو کی کہانی دراصل یہودیت کی مقدس کتاب (عہد نامہ قدیم) سے آئی ہے، جہاں اس کا نام “عوج” ہے۔
-
وہ بشان کا عموری بادشاہ تھا، جو ایک دیووں کی نسل “رفائیم” کا آخری فرد سمجھا جاتا ہے۔
-
اس نے حضرت موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل پر حملہ کیا، لیکن “ادری” کی لڑائی میں شکست کھا کر مارا گیا۔
-
تورات میں اس کی عظیم الجثہ ہیت کا ثبوت اس کے لوہے کے بستر کے ذکر سے ملتا ہے، جس کی لمبائی تقریباً 13.5 فٹ بتائی گئی ہے۔
لوک کہانیوں اور افسانوں کا رنگین دنیا
پھر بھی، لوک داستانوں، قصہ گوئی اور بعض تفسیری کتب میں اس کی ایک اور ہی دنیا آباد ہے۔ یہ باتیں اسلامی عقیدے کا حصہ نہیں، بلکہ تخیل کی پرواز ہیں۔
-
اسے “عوج بن عنق” کہا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ طوفان نوح ؑ سے پہلے پیدا ہوا اور ہزاروں سال جی کر موسیٰ ؑ کے زمانے تک زندہ رہا۔
-
اس کا قد ہزاروں ہاتھ بلند بتایا جاتا ہے۔ افسانوں میں ہے کہ طوفان نوح اس کے ٹخنوں تک بھی نہ پہنچ سکا، وہ سمندر میں کھڑا ہو کر مچھلیاں پکڑتا اور سورج کی تپش سے انہیں بھون لیتا۔
-
کہتے ہیں جب موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو لے کر آئے تو عوج نے پہاڑ اٹھا کر پھینکنا چاہا، مگر اللہ نے پرندوں (یا کیڑوں) کو بھیج کر پہاڑ میں سوراخ کر دیا، جو اس کی گردن میں پھنسا اور موسیٰ ؑ نے اسے ہلاک کر دیا۔
-
اسلامی تعلیمات کی رو سے “عوج بن عنق” کی مشہور کہانی سراسر من گھڑت اور رد شدہ ہے۔
-
اس کا آغاز تورات میں بادشاہ “عوج” کے طور پر ہوا، جسے ایک دیو قرار دیا گیا۔
-
اس کی لمبی عمر، دیو ہیکل قد اور طاقت کی تمام تفصیلات قدیم افسانوں، لوک داستانوں اور مختلف تہذیبوں کے ملاپ کا نتیجہ ہیں۔
ہمیں اپنے علم کا دامن ہمیشہ مستند ذرائع سے وابستہ رکھنا چاہیے، تاکہ افسانہ اور حقیقت میں تمیز کر سکیں۔
Info Planet #infoplanet
![]()

