Daily Roshni News

غارِ ثور کا حیرت انگیز واقعہ

غارِ ثور کا حیرت انگیز واقعہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جب رسولِ اکرم ﷺ غارِ ثور میں داخل ہوئے تو روایت میں آتا ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے عرض کیا:

“اے اللہ! اجازت دیجیے کہ میں جا کر اپنے پروں سے اس غار بلکہ پوری پہاڑی کو ہی چھپا دوں۔”

اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا:

“اے جبریل! حقیقی ستّار تو میں ہی ہوں۔ میری قدرت کا تقاضا یہ ہے کہ میں اپنے دشمنوں کے مکر کو اپنی کمزور ترین مخلوق کے ذریعے ناکام کر دوں۔”

چنانچہ ایک کمزور سی مکڑی کو اس خدمت کے لیے منتخب کیا گیا۔ جب مکڑی کو حکمِ الٰہی پہنچا تو اس نے فوراً سجدۂ شکر ادا کیا۔ پھر اسے حکم ہوا:

“جا کر غار کے دہانے پر پردہ تان دے۔ رزق کے طور پر مکھی پر قناعت کر، مگر ہمت بلند رکھنا۔ ایک دن ہم قافِ قرب کے سیمرغ کو تیرے جال تک لے آئیں گے۔”

کہا جاتا ہے کہ مکڑی اس امید میں طویل عرصہ اسی غار کے دہانے پر بیٹھی انتظار کرتی رہی۔ نہ رات کو سکون تھا نہ دن کو چین۔ یہاں تک کہ وہ مبارک رات آ پہنچی جب حضور نبی اکرم ﷺ غار کے قریب تشریف لائے۔ مکڑی نے ادب سے گویا اشارہ کرتے ہوئے عرض کیا:

“مجھے وعدہ دیا گیا تھا کہ میں آپ ﷺ کے دیدار سے مشرف ہوں گی۔ تشریف لائیے تاکہ آپ ﷺ کی زیارت سے میری آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔”

جب حضور نبی اکرم ﷺ غار کے اندر تشریف لے گئے تو مکڑی نے فوراً جالا بننا شروع کر دیا اور غار کے دہانے پر باریک پردہ تان دیا۔

اس موقع پر حضور ﷺ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

“ابو بکر! مدت سے مجھے یہ فکر رہتی تھی کہ میری امت باریک پل صراط سے کیسے گزرے گی۔ ابھی عالمِ غیب سے مجھے یہ بشارت دی گئی ہے کہ جس طرح اس کمزور مکڑی کو اس کے باریک تار پر محفوظ رکھا گیا ہے، اسی طرح میرے سچے امتیوں کو بھی پل صراط سے محفوظ گزار دیا جائے گا۔”

یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے اپنی سب سے کمزور مخلوق کو بھی اپنی قدرت کا ذریعہ بنا دیتا ہے، اور اسی میں اس کی شانِ ربوبیت ظاہر ہوتی ہے۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔

Loading