Daily Roshni News

غزل شاعر۔۔۔ ناصر نظامی (گولڈ میڈلسٹ)

غزل

شاعر۔۔۔ ناصر نظامی گولڈ میڈلسٹ

میں برکھا کی ، برسات سے گھبرا کے پی گیا

فرقت کی کالی ،رات سے گھبرا کے پی گیا

تنہائی کے ، لمحات سے گھبرا کے پی گیا

اپنی اکیلی ، ذات سے گھبرا کے پی گیا

میں زندگی کی ، مات سے گھبرا کے پی گیا

الجھے ہوئے ، حالات سے گھبرا کے پی گیا

تنہائیوں کے زہر سے گھٹنے لگا تھا دم

میں درد کی ، بہتات سے گھبرا کے پی گیا

آ نکھوں میں جھلملایا تھا منظر جدائی کا

دل کے ، تصورات سے گھبرا کے پی گیا

دل کے ، معاملات سے گھبرا کے پی گیا

چاہت کے ، واقعات سے گھبرا کے ہی گیا

لوگوں نے دل تو توڑے، نہ توڑے انا کے بت

لوگوں کی ، عبادات سے گھبرا کے پی گیا

ملنا تو چاہا ان سے مگر مل نہ سکے ہم

میں تنگیءاوقات سے گھبرا کے پی گیا

ساقی کی ، عنایات سے گھبرا کے پی گیا

بے جا ، تکلفات سے گھبرا کے پی گیا

دل پہ لگے زخموں کو دیتی ہے یہ شفا

میں اس کے ، کمالات سے گھبرا کے پی گیا

اتنی خراب شے ہے تو پیتے ہیں لوگ کیوں

میں اس کے ، طلسمات سے گھبرا کے پی گیا

ٹوٹے ہوئے دلوں کو یہ دیتی ہے سکون

میں اس کی ، کرامات سے گھبرا کے پی گیا

سایہ بھی اب تو چلتا نہیں، میرا میرے ساتھ

اپنی اکیلی ، ذات سے گھبرا کے پی گیا

آ نکھوں میں رقص کرنے لگی وصل کی گھڑی

بہکے ہوئے ، جذبات سے گھبرا کے پی گیا

اس کی نگاہ ء ناز نے مدہوش کر دیا

مد ہو شی کے ، احساسات سے گھبرا کے پی گیا

مچلے ہوئے ، جذبات سے گھبرا کے پی گیا

میں، آ ج ان کے ہاتھ سے گھبرا کے پی گیا

یہ اور بات، میرا ایمان لٹ گیا

لیکن میں ان کے، ہاتھ سے گھبرا کے پی گیا

کب تک تو میرے ساتھ چلے گی آ وارگی

میں تیری ، مشکلات سے گھبرا کے پی گیا

وہ سامنے بھی، آ کے نہ پہچان سکے تو

میں، دل کے ، خیالات سے گھبرا کے پی گیا

پہلے خدا تھا پھرتا ہے اب بن کے آ دمی

میں، خدا کی ، تخلیقات سے گھبرا کے پی گیا

اس نے کہا، وہ ہم سے اب نہ کریں گے بات

ناصر ، میں ان کی ، بات سے گھبرا کے پی گیا

ناصر نظامی گولڈ میڈلسٹ

ایمسٹرڈیم ہالینڈ

Loading