ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل) فرمانِ آخری نبی مُصطفیٰ کریم ﷺجب شعبان کی درمیانی (یعنی 15 وِیں) رات آئے تو اس رات قیام (یعنی عِبَادت) کرو، دِن کو روزہ رکھو، بے شک اس رات سُورج غروب ہوتے ہی اللہ پاک اپنی شایانِ شان آسمانِ دُنیا پر تجلی فرماتا اور ارشاد فرماتا ہے: `اَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِیْ فَاَغْفِرَ لَہٗ ہے کوئی مجھ سے مغفرت مانگنے والا کہ میں اُسے مُعَاف کر دوں `اَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَاَرْزُقَہٗ ہے کوئی رِزْق مانگنے والا کہ اسے رزق عطا کروں `اَلَا مُبْتَلٰی فَاُعَافِیَہٗ ہے کوئی پریشان حال کہ میں اس کی پریشانی دُور فرماؤں، ہے کوئی ایسا، ہے کوئی ایسا، طُلُوعِ فجر تک یُوں ہی اِعْلان ہوتا رہتا ہے۔(ابن ماجہ، ص: 225، حدیث: 1388)
![]()

