Daily Roshni News

لال باجی ۔۔۔

لال باجی ۔۔۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)لال کوٹھی والی باجی بہت دیالو تھیں اس لئے ہر کام کرنے والی کی خواہش تھی کہ انکے گھر  کا کام وہ کرے ۔۔۔ جہاں پوری سوسائٹی کی خواتین  ہیلپرز کے رویے سے نالاں رہتیں اور ہر وقت اس  ڈھونڈ میں رہتیں کہ کوئی اچھی نیک خصلت  بے زبان سی ہیلپر مل جائے وہیں لال کوٹھی والی باجی کے گھر میں ہیلپرز کی لگاتار آمد و رفت رہتی  ۔۔۔  ہاتھ کی کھلی تھیں بس یہی گڈر سنگھی تھی انکے پاس ۔۔ کام والیاں آتے جاتے بیل بجا کے سلام کر لیتیں اور پیغام بھی دے دیتیں باجی کوئی کام ہوا تو بتانا ۔ سلام کے عوض کچھ نہ کچھ مل بھی جاتا تھا  سوسائٹی کی خواتین میل جول کے لئے انہیں زیادہ پسند نہیں کرتی تھیں آپس میں بات کرتیں یہ سب کام والیوں کو بگاڑ رہی ہیں ۔ لال کوٹھی والی باجی خود بھی گھر سے نکلنا پسند نہیں کرتی تھیں گویا انکی سوشل لائف تھی ہی نہیں    ۔۔ والدین بہن بھائی شائد نہیں تھے کسی نے  انکے گھر کبھی کوئی مہمان آتے جاتے نہیں دیکھے ۔

خیر ابھی چند ماہ سے انکے ہاں زمرد پٹھانی کام کر رہی تھی ایک بچی کی ماں تھی اداس آنکھوں والی چپ چاپ سی زمرد لال کوٹھی والی باجی کو بہت پسند تھی اپنے کام سے کام رکھتی اور کام بھی اچھا کرتی ۔۔۔ بچی خالی پڑے  سرونٹ کواٹر میں سوئی رہتی گاہے گاہے زمرد جھانک کے دیکھ لیتی ۔۔ زمرد کو باجی کا نام تو معلوم نہیں تھا  اونچی اونچی  لال رنگ کے کھپریل کی چھتوں کی نسبت سے پہچان اور مخاطب کرنے کے لئے  اس نے انہیں خود ہی لال باجی کہنا شروع کر دیا ۔۔

 لال باجی نے کئی بار کہا بھی کہ سرونٹ خالی پڑا ہے یہیں شفٹ ہو جاؤ لیکن زمرد کا غیور شوہر نہیں مانتا تھا کہ اس طرح ہم ان کے ہاتھ باندھے نوکر  ہی بن جائیں گے  ۔۔ کفرانِ نعمت کرتے ہوئے  قریبی بستی کے کچے کمرے میں کرائے پہ اپنی انا کے ساتھ رہتے تھے ۔۔ قریبی شاپنگ مال پہ سیکیورٹی گارڈ بھرتی تھا ڈٹ کے ڈیوٹی کرتا مروجہ محدود تنخواہ پاتا سردی میں ٹھٹھر لیتا بھوکے ہیٹ رہ لیتا لیکن اپنی اکڑی ہوئی گردن کا سریا مڑنے نہ دیتا  اخراجات پورے نہ ہونے کے کارن زمرد کو بھی باہر نکلنا پڑتا جس سے وہ سخت نالاں بھی تھا اور مجبور بھی ۔۔۔ زمرد کا دل بھی صرف  لال باجی سے ہی ملا  سو یہیں ٹک گئی ۔۔۔

لال صاحب پتہ نہیں کیا کرتے تھے لیکن پیسے اور آسائشات کی فراوانی تھی ۔۔۔ آج جب زمرد آئی تو منہ سر لیپٹا ہوا تھا  اشارے سے بتایا کہ سر میں درد ہے لال باجی نے پینا ڈول پلائی لیکن زمرد کا سر دکھتا ہی رہا ۔ پھر بھی وہ بندھے سر کے ساتھ کام نمٹاتی رہی ۔۔۔

لال باجی اسکے بغیر کہے ہی اس طبقے کے تمام دکھ جانتی تھی ۔ مہینے میں دو تین بار زمرد کا سر ایسے ہی دکھ جاتا تھا آنکھیں خود بخود ہی سوج جاتی تھیں اور لال باجی کچھ بھی پوچھے بغیر کچی ہلدی والا دودھ گرم کر کے پلاتیں سر کے گومڑ اور کہنی کے  زخموں کے لئے پولی فیکس ٹیوب دیتیں پین کلر بھی کھلا دیتیں اور زمرد اٹھ کے اپنے معمول کے کام کاج میں جت جاتی ۔۔۔۔۔

 اس بار تو معاملہ بہت ہی مختلف بلکہ الٹ  ہوگیا  رات لال صاحب نشے میں دھت واپس آیا تھا گھر میں خوب ہنگامہ ہوا ڈیکوریشن پیس اور شیشے کے برتن لاؤنج میں چکنا چور ہوئے پڑے تھے ۔۔ زمرد تمام کہانی بغیر سنے ہی سمجھ گئی  لال باجی کے سر کے  گومڑ پہ پولی فیکس لگاتے باجی کو ہلدی والا دودھ پلاتے زمرد حیرانی سے سوچ رہی تھی باجی تو ذاتی کوٹھی میں رہتی ہے گھر میں رزق کی فراوانی ہے ضرورتوں کے لئے گھر سے باہر بھی نہیں جانا پڑتا پھر بھی ۔۔۔  زمرد نے سوچا عورت ہی عورت کو سمجھتی ہے

#LalBaji

#AurathAurDard

#SilentPain

#HiddenScars

#WomanUnderSmile

#DomesticReality

#UntoldStories

#BrokenInside

#AurathHiAurathKoSamajhtiHai

#SocietyTruth

#PainBehindWalls

#RichHousePoorHeart

#EmotionalStory

#3DStoryArt

#RealLifeDrama

#socialmessage

Loading