بائیسواں روزہ لیلۃ القدر
لیلۃ القدر: قدر کی پیمائش اور رب کی حکمت
تحریر۔۔۔مقیتہ وسیم
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اگر کسی گھر میں کوئی مہمان آجائے… اور ہم اسے پہچانتے ہی نہ ہوں، تو ہم کیسے جانیں گے کہ اس کی کتنی قدر کرنی ہے؟
ہمیں کیسے معلوم ہوگا کہ اس کے استقبال کا طریقہ کیا ہونا چاہیے؟
بالکل یہی سوال لیلۃ القدر کے ساتھ بھی ہے۔
اگر ہمیں معلوم ہی نہ ہو کہ “قدر” کیا ہوتی ہے تو ہم لیلۃ القدر کی قدر کیسے کریں گے؟
قرآن ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
یہ سورت بھی ایک سوال سے شروع ہوتی ہے:
وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ
“اور تمہیں کیا معلوم کہ لیلۃ القدر کیا ہے؟”
یعنی سب سے پہلا سوال یہی ہے کہ قدر کیا چیز ہے؟
کسی بھی حقیقت کو سمجھنے کے لیے سب سے بہترین جگہ قرآن ہے۔
قرآن کے بعد رسول اللہ ﷺ کی احادیث ہیں۔
اور اس کے بعد عربی لغت آتی ہے، جہاں الفاظ اپنی اصل صورت میں کھلتے ہیں۔
آئیے لفظ قدر کی طرف چلتے ہیں۔
یہ دراصل ق، د، ر کا مادہ ہے۔
عربی میں مادہ اس اصل کو کہتے ہیں جس سے الفاظ کی مختلف صورتیں بنتی ہیں، جیسے مٹی سے مختلف شکلیں بنائی جاتی ہیں۔
عربی گھڑ سواروں کی ایک اصطلاح ہے:
قَدِرَ الفَرَسُ
اس کا مطلب ہے کہ
گھوڑے کی پچھلی ٹانگیں عین اسی جگہ پڑیں جہاں اس کی اگلی ٹانگیں پڑی تھیں۔
یہ دراصل گھوڑے کے قدم کی پیمائش ہوتی ہے۔
یعنی ایک جست میں گھوڑا جتنا فاصلہ طے کرسکتا ہے….. وہی اس گھوڑے کی قدر ہے۔
آسان لفظوں میں:
کسی شے کی بنیادی صلاحیت کی درست پیمائش۔
اب ذرا گھوڑے کو سمجھ لیجیے۔
گھوڑا دراصل فاصلوں کو کم کرنے والا جانور ہے۔ وہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ فاصلہ طے کرتا ہے۔
لہٰذا اس کی قدر یہی ہے کہ اس کی جست کتنی بڑی ہے، اس کا قدم کتنا ہے اور وہ کتنی دور تک پہنچ سکتا ہے۔
یہ قدر کی پہلی تعریف ہے:
کسی چیز کی اصل صلاحیت اور اس کی پیمائش۔
اب قدر کی دوسری جہت دیکھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ایک نام ہے:
القادر
اور القدیر
جب ہم کہتے ہیں:
“اللہ ہر چیز پر قادر ہے”
تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر چیز کو صحیح اندازے کے ساتھ انجام دینے والا ہے۔
عربی لغت میں قدر کا ایک دلچسپ مفہوم بھی ملتا ہے:
ہانڈی پکانے والا۔
یعنی وہ شخص جو یہ درست اندازہ لگا سکے کہ اتنے لوگوں کے لیے کتنا کھانا کافی ہوگا۔
سوچیے…
پکانے والا اگر اندازہ غلط لگا دے تو یا تو کھانا کم پڑ جاتا ہے یا ضائع ہو جاتا ہے۔ لیکن جو کامل اندازہ لگا لے…. وہی اصل میں قدر کرنے والا ہے۔
اب ذرا کائنات کو دیکھیے۔….
ہر سال زمین پر فصلیں اگتی ہیں۔
پھل پکتے ہیں۔
سبزہ اُگتا ہے۔
مویشی پلتے ہیں۔
یہ سب انسان کے لیے رزق ہے۔ کائنات کا رب گویا ہر سال رزق کی ایک عظیم ہانڈی پکاتا ہے۔
اس کی انگیٹھی سورج ہے۔ وہ ہلکی آنچ میں زمین کو پکاتا ہے۔
پھل آہستہ آہستہ پک کر میٹھے ہوتے ہیں۔ فصلیں وقت پر تیار ہوتی ہیں۔
اور پھر ایک رات آتی ہے… جس میں اگلے سال کے رزق کے فیصلے ہوتے ہیں۔ وہ رات ہے لیلۃ القدر۔ اسی رات طے ہوتا ہے کہ زمین پر کتنا رزق اترے گا، کس کے نصیب میں کیا لکھا جائے گا، کس کی زندگی میں کون سا دروازہ کھلے گا۔
کیونکہ وہ رب القدیر ہے…..
کامل قدرت والا اور کامل اندازہ کرنے والا۔
اس کی حکمت میں نہ کمی ہے، نہ زیادتی۔
اسی لیے قدیر صرف اللہ ہی کی صفت ہے۔
اسی لیے یہ رات بھی عام رات نہیں… یہ وہ رات ہے، جس کی قدر ہزار مہینوں سے زیادہ ہے۔
یارب!
ہم بھی اسی رات کے طالب ہیں۔
اللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ كَرِيمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنَّا
اے اللہ!
تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، ہمیں بھی معاف فرما دے۔
آمین یا رب العلمین ۔
جاری ہے…
#مقیتہ وسیم
#لیلۃ_القدر
#قرآن_کے_ساتھ_میرا_سفر
#رمضان
#تدبر_قرآن
#مقیتہ_وسیم
#IslamicReflection
#QuranicWisdom
#LaylatulQadr
#RamadanReflections
#IslamicWriting
![]()

